ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے KP پولیس جال استعمال کرنے لگی

خیبر پختونخوا میں طالبان دہشت گردوں کی جانب سے سستے کمرشل ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پولیس چوکیوں اور تھانوں کو نشانہ بنانے کے بعد پولیس نے دفاع کا ایک انوکھا اور کم خرچ طریقہ اپناتے ہوئے کئی میٹر بلند حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حملوں سے بچا جا سکے۔

پولیس چوکیوں کے سامنے اور اوپر لگائے گئے یہ جال ڈرونز سے گرائے جانے والے دستی بم، مارٹر یا دیگر بارودی مواد کو براہ راست عمارت تک پہنچنے سے روکنے یا حملے کے نقصان کو کم کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ضلع خیبر میں درجن بھر پولیس چوکیوں پر یہ حفاظتی جال نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کے دیگر حساس علاقوں میں بھی یہ فارمولا اپنایا جا رہا ہے۔ ان جالوں کو کنکریٹ کی دیواروں، سیمنٹ بلاکس اور دیگر حفاظتی رکاوٹوں کے درمیان اس انداز میں تان دیا جاتا ہے کہ وہ چوکی کے اوپر ایک اضافی حفاظتی چھت یا حصار بن جائیں۔

خیبر ہختونخواہ پولیس کے مطابق یہ عام مچھلی پکڑنے والے جال نہیں بلکہ مضبوط میٹریل سے تیار کیے گئے حفاظتی نیٹ ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد حملہ آور ڈرون یا کواڈ کاپٹر کو جال میں الجھانا یا اس کے ذریعے پھینکے جانے والے بارودی مواد کو زمین تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے۔ اگر بارودی مواد جال میں پھٹ بھی جائے تو پولیس کے مطابق اس کا نقصان براہ راست عمارت یا اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے مقابلے میں کم کیا جا سکتا ہے۔ ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر وقار احمد کے مطابق سستے ڈرون اب مارکیٹ میں نسبتاً آسانی سے دستیاب ہیں اور معمولی ردوبدل کے ذریعے ان میں بارودی مواد یا دھماکا خیز اشیا گرانے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ طالبان دہشت گرد ایسے ہی ڈرونز کو پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جن پولیس چوکیوں کو ڈرون حملوں کا زیادہ خطرہ ہے وہاں اہلکاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے جال سمیت مختلف اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یاد ریے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو یہ نیا خطرہ اس لیے بھی درپیش ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز اور چھوٹے ڈرونز کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ ڈرون صرف حملوں کے لیے نہیں بلکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے زمینی کارروائیوں کے دوران اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسندوں کے زیر استعمال ڈرون جدید فوجی طیاروں کے بجائے عموماً نسبتاً سستے چینی کمرشل کواڈ کاپٹرز ہوتے ہیں جن میں مقامی سطح پر ردوبدل کر کے بارودی مواد نصب کیا جاتا ہے۔ بعض واقعات میں پلاسٹک کی بوتلوں میں بارودی مواد ڈال کر انہیں ڈرون کے ذریعے ہدف پر گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس نے پولیس کے لیے ایک ایسے خطرے کو جنم دیا ہے جس کا مقابلہ روایتی بلٹ پروف دیواروں اور ریت کی بوریوں سے مکمل طور پر ممکن نہیں۔

ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے جال لگانے کی حکمت عملی دراصل نئی نہیں۔ مختلف جنگ زدہ علاقوں میں فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کو ڈرونز سے محفوظ رکھنے کے لیے جال اور دھاتی کیج استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ یوکرین میں روسی ڈرونز کے خلاف بھی سڑکوں، حساس تنصیبات اور بعض آبادیوں کے اوپر بڑے جال نصب کیے گئے ہیں، جس سے خیبر پختونخوا پولیس نے بھی اس کم خرچ حفاظتی طریقے سے فائدہ اٹھانا شروع کیا ہے۔ یوکرین میں بعض مقامات پر گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والے مضبوط جال بھی ڈرونز کے خلاف حفاظتی حصار کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ماہی گیری کے جال محدود مدت کے بعد تبدیل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض متروک جال بھی ڈرون مخالف حفاظتی انتظامات کے لیے استعمال کیے گئے۔

خیبر پختونخوا میں اگرچہ مقامی طور پر نصب کیے جانے والے جال کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، تاہم بنیادی تصور ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکنے یا اس کے اثرات کم کرنے کا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں دستیابی نے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ پشاور کے ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق صوبے کے تقریباً 30 فیصد پولیس سٹیشنز اب بھی اپنے ڈرونز سے محروم ہیں، جس کے باعث پولیس کے پاس نگرانی اور جوابی کارروائی کے لیے جدید فضائی صلاحیت محدود ہے، جبکہ دوسری جانب شدت پسند نسبتاً کم قیمت کواڈ کاپٹرز کو نگرانی اور حملوں دونوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق جال ایک اضافی حفاظتی انتظام تو ہو سکتے ہیں لیکن انہیں ڈرون حملوں کے خلاف مکمل یا انتہائی مؤثر حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بعض ممالک میں اس نوعیت کے نیٹ بنیادی طور پر کیموفلاج اور حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، اس لیے ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے جال کے ساتھ دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔

Back to top button