27 ستمبر سے پہلے PTI کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ

راولپنڈی اور اسلام آباد کی سول و ملٹری قیادت نے 27 ستمبر کو تحریک انصاف کی مجوزہ احتجاجی تحریک کی کمر توڑنے کے لیے پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ انہیں احتجاج سے قبل گرفتار کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مقدمات میں پہلے سے جاری عدالتی وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سکیورٹی اور انتظامی تیاریاں بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور اسلام آباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کو ہدف بنانا شروع کر دیا گیا ہے جن کے خلاف مختلف مقدمات میں عدالتی وارنٹس پہلے سے موجود ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے رہنما اور میاں محمد اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دیگر مطلوب رہنماؤں کی گرفتاریوں کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج، جوڈیشل کمپلیکس واقعات اور فیض آباد احتجاج سے متعلق مقدمات میں مطلوب رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو مختلف تھانوں میں درج مقدمات کے سلسلے میں عدالتی وارنٹس پر قانون کے مطابق عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید اکبر اور عبدالغنی کے خلاف ڈی چوک احتجاج سے متعلق مقدمات میں پہلے سے جاری وارنٹس پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے، جبکہ شبلی فراز، مراد سعید اور حماد اظہر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس مقدمات میں جاری عدالتی وارنٹس بھی زیر عمل لائے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح سابق ایم این اے زرتاج گل، عامر مسعود مغل، ڈاکٹر امجد علی اور مینا خان آفریدی کے نام بھی ان مطلوب رہنماؤں کی فہرست میں شامل بتائے جا رہے ہیں جن کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور عمر تنویر بٹ کے خلاف فیض آباد احتجاج سے متعلق قانونی کارروائی کو بھی آگے بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ گرفتاریاں کسی نئے مقدمے کی بنیاد پر نہیں بلکہ پہلے سے درج ایف آئی آرز، عدالتی وارنٹس اور زیر التوا قانونی کارروائیوں کے تناظر میں کی جا سکتی ہیں۔ پولیا حکام کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کے مطلوب رہنماؤں کے خلاف تمام اقدامات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے بھی بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں شہروں میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا پلان تیار کیا جا چکا ہے جبکہ پارٹی کارکنوں کی فہرستیں متعلقہ تھانوں کو فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے کنٹینرز اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اہم شاہراہوں کی ممکنہ بندش کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ انتظامی سطح پر پولیس افسران کے تقرر اور تبادلوں کے ذریعے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر صوبوں سے اضافی پولیس نفری طلب کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ کسی بڑے احتجاج کی صورت میں سکیورٹی صورتحال پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران حالات کے مطابق واٹر کینن اور ربر کی گولیوں کے استعمال سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی کارروائی کا انحصار زمینی صورتحال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی پر ہوگا۔ ریڈ زون کی حفاظت کے لیے تین حصاری سکیورٹی نظام ترتیب دیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ نئے قائم ہونے والے کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کے ذریعے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جبکہ اہم سرکاری عمارتوں، حساس تنصیبات اور داخلی راستوں پر سکیورٹی مزید بڑھائی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کی کال برقرار رکھی ہوئی ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں اور عہدیداروں کو تیاریوں کی ہدایات دی جا رہی ہیں جبکہ خیبر پختون خوا سمیت مختلف علاقوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

Back to top button