میر رضا قتل کیس میں پولیس کی بدنیتی ثابت ہو گئی

پچھلے ماہ کراچی میں پراسرار حالات میں قتل ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تحقیقات میں کرائم سین کو محفوظ بنانے سے لے کر پوسٹ مارٹم اور فارنزک شواہد جمع کرنے تک کئی اہم سوالات سامنے آگئے ہیں جن سے پولیس کی بد نیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے کہ پولیس نے قتل کیس کی تفتیش کو خراب کرنے کی کوشش کس کے ایما پر کی۔ فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ کو مناسب انداز میں کارڈن آف نہ کرنے، لاش کو منتقل کرتے وقت احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہونے اور ڈیڈ باڈی پر موجود نشانات کی مکمل دستاویز بندی نہ کرنے سمیت متعدد کوتاہیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
معاملہ صرف کرائم سین تک محدود نہیں بلکہ پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے دوران بعض اہم سیمپلز نہ لینے اور ایکسرے نہ کرنے نے بھی تحقیقات کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایسے ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں شواہد کے تحفظ میں ہونے والی کوتاہیوں سے چند اہم ترین سراغ ضائع ہو گئے ہیں جن کی مدد سے قاتل تک پہنچا جا سکتا تھا۔
فارنزک ماہرین کے مطابق میر رضا قتل کیس میں جائے وقوعہ کو مناسب انداز میں محفوظ کرنا بنیادی ضرورت تھا۔ فرانزک ماہرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ لاش منتقل کرنے سے قبل کرائم سین کو کس حد تک محفوظ کیا گیا اور خون کے دھبوں، فائرنگ کے شواہد، خول، گولی، قدموں کے نشانات اور دیگر ٹریس ایویڈنس کو کس طریقے سے محفوظ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق لاش منتقل کرنے والے افراد کے لیے دستانوں سمیت بنیادی حفاظتی پروٹوکول پر عمل بھی ضروری ہے کیونکہ غیر ضروری انسانی مداخلت شواہد کو آلودہ کر سکتی ہے۔
کرائم سین کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ہر اہم شے کی مناسب فوٹوگرافی، پیمائش اور دستاویز بندی بھی تحقیقات کا لازمی حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق میر رضا کے دائیں ہاتھ پر گن شاٹ کے نتیجے میں اڑنے والے بارود کے شواہد سامنے آئے۔ سینے پر نیل، دائیں ہتھیلی پر رگڑ کے نشانات اور دائیں ہاتھ پر رسی کے نشانات کا بھی ذکر ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان نشانات سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے سائنسی تجزیہ ضروری ہے۔
لیب رپورٹ سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق میر رضا کے خون میں بے ہوش کرنے والی دوا کے اجزاء پائے گئے۔ ماہرین کے مطابق دوا کی مقدار اور جسم میں داخل ہونے کا ممکنہ وقت جاننا ضروری ہوتا ہے تا کہ موت کے طریقہ کار کا حتمی تعین کیا جا سکے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس سے پولیس کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔
فارنزک ماہرین نے گولی لگنے کے واقعے میں ٹریجیکٹری کی جانچ کے لیے ایکسرے نہ کرنے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق ایکسرے یا CT Scan سے ہڈیوں کو پہنچنے والے نقصان، جسم کے اندر موجود ممکنہ گولی یا اس کے راستے سے متعلق اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے سیمپلز نہ لیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ہاتھا پائی یا مزاحمت کا امکان ہو تو ناخنوں کے نیچے موجود DNA، خون، بالوں یا کپڑوں کے ریشوں جیسے ٹریس ایویڈنس تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ ان سیمپلز کی عدم موجودگی کو خود بخود کسی بدنیتی کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میر رضا قتل کیس میں ایک اہم مالیاتی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ معلومات کے مطابق پولیس کی جانب سے میر رضا کے بائنینس Binance اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کی گئیں، یہ اکاؤنٹ 2021 میں بنایا گیا تھا، اس میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالرز کی خرید و فروخت کا ذکر ہے۔ ذرائع کے مطابق فیوچر ٹریڈنگ کے دوران میر رضا کو 3 کروڑ 49 لاکھ ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ 2024 سے 2026 کے دوران نقصان ایک لاکھ 39 ہزار ڈالرز سے زائد رہا۔ موت سے چند روز قبل 22 اور 23 جولائی 2026 کو بھی تقریباً 20 لاکھ ڈالرز کے نقصان کا ذکر اکاؤنٹ کی سرگرمیوں میں سامنے آیا۔
تاہم ان مالیاتی سرگرمیوں کا میر رضا کی موت سے کوئی تعلق تھا یا نہیں، اس کا تعین صرف مکمل ڈیجیٹل اور مالیاتی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اسی طرح میر رضا کے جسم پر موجود نشانات اور دیگر فارنزک شواہد کو بھی الگ الگ نہیں بلکہ اکٹھے جانچنا ہوگا۔
میر رضا کیس میں بنیادی سوال یہی ہے کہ ابتدائی مرحلے میں کرائم سین اور پوسٹ مارٹم کے دوران تمام ممکنہ شواہد کو سائنسی طریقے سے محفوظ کیا گیا یا نہیں۔ کیس کی شفاف تفتیش کے لیے فارنزک رپورٹس، میڈیکو لیگل ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد، مالیاتی سرگرمیوں اور تفتیشی ریکارڈ کو یکجا کرکے حتمی نتیجہ اخذ کرنا ضروری ہوگا۔
