الیکشن کمیشن 2 سال پہلے ہی عام انتخابات کو تیار

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد سے دو برس پہلے ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عملے کا ڈیٹا بینک اپ ڈیٹ کرنے اور ملک بھر میں موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی فہرستوں کا ازسرنو جائزہ لینے کے فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی آئندہ انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن اف پاکستان ایک خود مختار ادارہ ہے اور وفاقی حکومت کے تابع نہیں۔ پچھلے عام انتخابات فروری 2024 میں منعقد ہوئے تھے اور اگلے عام انتخابات فروری 2029 میں متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلے ارسال کرتے ہوئے ملک بھر میں انتخابی افسران اور عملے کا تازہ ترین ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر معمولی طور پر عام انتخابات سے تقریباً دو سال قبل شروع کی جانے والی اس سرگرمی کا بنیادی مقصد مستقبل میں انتخابی عمل کے دوران درکار عملہ اور انتظامی وسائل بروقت دستیاب رکھنا ہے تاکہ کسی بھی انتخابی مرحلے میں انتظامی تاخیر سے بچا جاسکے۔

ادھر الیکشن کمیشن نے تمام اضلاع میں سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو ڈیٹا بینک مکمل کرنے کیلئے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے اور مقررہ مدت میں معلومات مکمل کرکے ان کی تصدیق الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا کہا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانے والا ڈیٹا بینک آئندہ انتخابات کے دوران انتخابی ذمہ داریوں کیلئے اہل افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی میں استعمال ہوگا۔ اس کے ذریعے مختلف اضلاع میں انتخابی عملے کی ضرورت، دستیابی اور تعیناتی سے متعلق انتظامات پہلے سے مکمل کیے جاسکیں گے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی عملے کے ڈیٹا بینک کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں پولنگ سٹیشنز کی موجودہ فہرستوں کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چاروں صوبوں کے تمام اضلاع میں موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی تصدیق اور ان کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ضلعی حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ضلعی الیکشن کمشنرز کو نئے پولنگ اسٹیشنز کیلئے موزوں عمارتوں کی نشاندہی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافے کے باعث بعض علاقوں میں اضافی پولنگ سٹیشنز کی ضرورت پیش آسکتی ہے، اس لیے ممکنہ عمارتوں اور مقامات کی نشاندہی ابھی سے شروع کی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے تحت سرکاری اور دیگر موزوں عمارتوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کے انتخابات میں ووٹرز کیلئے مناسب سہولیات اور پولنگ کے انتظامات یقینی بنائے جاسکیں۔ موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی فہرستوں کی دوبارہ جانچ سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ کون سے مراکز برقرار رکھنے، تبدیل کرنے یا اضافی پولنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سیاست پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کی زد میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے معمول سے کہیں پہلے شروع کی جانے والی انتخابی تیاریوں کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو فوری انتخابات کے فیصلے کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔ انتخابی ادارے کا مؤقف یہی بنتا ہے کہ انتخابی عملے اور پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ڈیٹا کو بروقت اپ ڈیٹ رکھنا اس کی انتظامی ذمہ داریوں کا حصہ ہے تاکہ جب بھی انتخابات کا انعقاد ہو، مطلوبہ انتظامات پہلے سے مکمل ہوں۔ اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عام انتخابات ابھی تقریباً دو سال دور ہیں تو انتخابی عملے اور پولنگ اسٹیشنز کی تیاری کا یہ عمل اس قدر پہلے کیوں شروع کیا گیا۔ بالخصوص انتخابی عملے کے ڈیٹا بینک کو صرف 10 روز میں اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت اور نئے پولنگ اسٹیشنز کیلئے عمارتوں کی نشاندہی کے احکامات نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔

Back to top button