PTIکی مخصوص نشستیں اب نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ملیں گی؟

تحریک انصاف کی پھرتیاں اس کے کسی کام نہ آ سکیں۔ عمران خان کے اپنی پارٹی کی قیادت قانونی ٹیم کو دینے کے باوجود پی ٹی آئی کو ایک اور قانونی محاذ پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے بعد تحریک انصاف اپنے اراکین کی سنی اتحاد کو نسل میں شمولیت کے باوجود مخصو ص نشستوں سے محروم ہوگئی ہے۔ تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر کی درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا. الیکشن کمیشن نے قرار دیا ہےکہ سنی اتحاد کونسل نے فہرست بروقت جمع نہیں کرائی، اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں خالی نہیں رکھی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کی ترجیحاتی فہرست جمع کرانے میں 2دن کی توسیع کی تھی،سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل ان نشستوں کی فہرست نہیں دی جولازم تھی، الیکشن کمیشن نے 1-4 کے تناسب سے فیصلہ جاری کیا، تاہم مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کے فیصلے سے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلاف کیا۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مخصوص نشستیں ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جے یو آئی(ف) کو دینے کی درخواست منظور کر لی ہے، فیصلے کے مطابق مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں میں متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کے مطابق تقسیم کی جائیں گی۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا ہےکہ یہ الیکشن نہیں ہے یہ الاٹمنٹ ہے اور یہ الاٹمنٹ تناسب کے حساب سے ہے،الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ کیا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق کیا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا مزید کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں یہ فیصلہ درست ہے۔ پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے اس سے متعلق قانون اور آئین کیا کہتا ہے؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جس کو یہ معاملہ دیا گیا ہے ۔ اشتر اوصاف کے مطابق الیکشن کا سارا پروسیس ون مین ووٹ کے حساب سے ہے اور جب اس سے متعلق بات آتی ہے کہ ووٹ ڈالا جائے گا اور ایلیکٹ ہو کر آئیں گے اسی مرحلے میں جب نومینیشن پیپرز مانگے جاتے ہیں تو تمام پارٹیز جو حصہ لے رہی ہیں ان کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ دیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ کس پارٹی نے کتنی سیٹیں حاصل کیں اس تناسب سے اقلیتوں کی اور خواتین کی سیٹیں الاٹ ہوتی ہیں۔ یہ الیکشن نہیں ہے یہ الاٹمنٹ ہے اور یہ الاٹمنٹ تناسب کے حساب سے ہے ۔ اس کیس میں یہ ہوا ہے کہ تحریک انصا ف کی طرف سے لوگوں نے الیکشن نہیں لڑا بلکہ وہ آزاد حیثیت میں جیت کر ایوان میں آئے۔ جس کے بعد پہلے وہ ایک سیاسی پارٹی مجلس وحدت المسلمین کے پاس گئے جب وہاں تنقید ہوئی تو وہ ایک پارٹی اور پارٹی سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے جو ان سے غلطی ہوئی ہے ان کو شاید یہ احساس ہوگا کہ سنی اتحاد کونسل ایک جماعت ہے اور اس کا پارلیمانی وجود ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا ہے اسی لئے جماعت کی طرف سے مخصوص سیٹوں کیلئے کوئی فہرست بھی جمع نہیں کرائی گئی جس کا خمیازہ آج پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کروائی تھی اس لئےآئینی و قانونی طور پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست ہے تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے سے سیاست میں تلخیاں مزید بڑھیں گی، اس وقت ملک کو میثاق مفاہمت کی ضرورت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے سیاسی جماعتوں اور اداروں میں نفرت اور تقسیم مزید بڑھے گی، بانی پی ٹی آئی کو اب بھی میثاق مفاہمت قبول کرنا چاہئے لیکن نہیں کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے ایسے فیصلوں سے سیاسی انتشار بڑھتا جائے گا۔

خیال رہے کہ عام انتخابات کے انعقاد سے قبل جب پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے بعد سابق حکمراں جماعت کے امیدواروں نے بطورآزاد امیدوارانتخابات میں حصہ لیا تھا، اس وقت سے ہی یہ بحث جاری ہے کہ پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی کی 70 مخصوص نشستوں میں سے کوئی نشست ملے گی یا نہیں۔ تاہم اس وقت قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستیں خالی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ اب ان میں سے کس جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کی 60 مخصوص نشستوں میں سے 40 نشستیں اور اقلیتوں کی 10 میں سے 7 نشستیں مختلف پارٹیوں کو پہلے سے ہی دی جا چکی ہیں، تاہم 20 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 اقلیتوں کی نشستوں پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

سنی اتحاد کونسل سے متعلق فیصلہ ہونے سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ن لیگ کو 20 خواتین کی جبکہ 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دی گئیں، پیپلز پارٹی کو خواتین کی 12 جبکہ اقلیتوں کی 2 نشستیں، ایم کیو ایم کو 4 خواتین جبکہ ایک اقلیتی نشست، جمیعت علماء اسلام کو 2 خواتین کی مخصوص نشستیں، جبکہ ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو ایک، ایک خواتین کی مخصوص نشست دی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اب قومی اسمبلی کی 3 اقلیتوں کی نشستوں میں سے 2 مزید نشستیں ن لیگ، جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کو دے دی جائے گی، خواتین کی 20 مخصوص نشستوں میں سے مزید 10 نشستیں ن لیگ، 6 پیپلز پارٹی، جبکہ دیگر 4 میں سے ایک ایک نشست ایم کیو ایم، جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی۔

Back to top button