آزاد کشمیر میں PTI حکومت مخالف احتجاج کا حصہ بن گئی

آزاد کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک نے ایک نیا سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے اور عمران خان کی تحریک انصاف کالعدم قرار دی جانے والی عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بن گئی ہے۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر اس وقت پاکستان کا واحد خطہ بن چکا ہے جہاں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور ریاستی اداروں اور احتجاجی قیادت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی عوامی بے چینی اور حکومت مخالف جذبات کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔ آزاد کشمیر میں کئی روز سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران راولاکوٹ، پلندری، کوٹلی، باغ، میرپور اور مظفرآباد سمیت متعدد علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں، گرفتار یوں اور ریاستی اقدامات کے نتیجے میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے جبکہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آخر تحریک انصاف نے ایک ایسی تنظیم کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی کیوں پیدا کی جسے حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق ملک گیر سطح پر سیاسی مشکلات، عمران خان کی قید اور پارٹی قیادت پر دباؤ کے باعث پی ٹی آئی ایسے مواقع تلاش کر رہی ہے جہاں وہ عوامی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے۔ آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے متعدد رہنما بیرون ملک کشمیری کمیونٹی کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف مواقع پر عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں بیانات بھی سامنے آئے۔ تاہم بعض ویڈیوز میں احتجاجی شرکاء کی جانب سے سیاسی جماعتوں خصوصاً تحریک انصاف کے نمائندوں کو مسترد کرنے کے مناظر بھی سامنے آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک کے اندر سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے اور ریاستی اداروں پر حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ کی صورتحال خراب کرنے کے واقعات کے بعد سخت کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی مطالبات آئینی نوعیت کے ہیں جنہیں سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے جیسے معاملات قانون سازی سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں پارلیمانی اور عدالتی فورمز پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں جبکہ موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز بھی کئی روز سے معطل ہیں۔

آزاد کشمیر پولیس اور انتظامیہ نے مطلوب رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ بعض رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ریاست اپنی عملداری ہر صورت قائم رکھے گی۔ ادھر راولاکوٹ میں کرفیو بدستور نافذ ہے جبکہ مظفرآباد میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ مختلف اضلاع سے آنے والے مظاہرین کے قافلے راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک میں موجود ہیں جہاں لانگ مارچ کے شرکاء نے پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ ایکشن کمیٹی کی قیادت کا منصوبہ مختلف قافلوں کو یکجا کر کے مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرنا بتایا جا رہا ہے۔
تازہ جھڑپوں کے دوران ضلع پلندری سے تعلق رکھنے والے نوجوان شعبان عارف کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق رینجرز اور مظاہرین کے درمیان تصادم اس وقت ہوا جب فورسز نے بعض مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی کوشش کی۔

سرکاری اعداد و شمار اور مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ بحران کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد ایک درجن سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث خطے میں بے چینی اور خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے تاجروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں ایک اور اہم پیش رفت عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر سامنے آنے والی اختلافات کی اطلاعات ہیں۔ اب تک تنظیم کے متعدد اہم ارکان علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں جن میں سید فیصل گیلانی، محسن خلیل، راجہ سلطان، احسان شبیر شانی اور شبیر نگیا لوی شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عوامی حقوق کے لیے تحریک کا حصہ بنے تھے لیکن حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد مزید اس پلیٹ فارم کے ساتھ نہیں چل سکتے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ علیحدگیاں ایکشن کمیٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور اختلافات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو تحریک کی تنظیمی قوت متاثر ہو سکتی ہے، تاہم دوسری جانب احتجاجی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ان کے قافلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی حمایت برقرار ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان جیسے رہنما شامل ہیں جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے رہا ہے۔ ان میں بعض تاجر، وکیل اور سابق طلبہ رہنما ہیں جو وقت کے ساتھ مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور عوامی حقوق کے مسائل پر سرگرم ہوتے ہوئے اس تحریک کے مرکزی چہروں میں تبدیل ہوئے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے سنگین الزامات موجود ہیں، جبکہ ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی جدوجہد کا مقصد عوامی حقوق، سستی بجلی، سستا آٹا اور مقامی اختیارات کا حصول ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری بحران اب صرف مہنگائی یا چند مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ریاستی عملداری، احتجاج کے حق، آئینی حدود اور سیاسی مفادات کے درمیان ایک بڑی کشمکش میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں تحریک انصاف کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت نے اس تحریک کو ایک نیا سیاسی رنگ دے دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کی قومی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا حکومت طاقت اور قانون کے ذریعے صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر مذاکرات کا کوئی نیا راستہ نکلتا ہے۔ تاہم فی الوقت آزاد کشمیر پاکستان کا واحد خطہ ہے جہاں حکومت مخالف احتجاجی تحریک پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس کے سیاسی و سماجی اثرات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

Back to top button