ایران امریکہ امن معاہدہ، ایرانی وزیر خارجہ کی جلد پاکستان آمد متوقع

امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوتی نظر آتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے کے اعلان کے بعد آئندہ 24 گھنٹے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان متوقع ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات ہونے جا رہی ہے، جہاں جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے پر بات ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی لیگل ٹیم کے مطابق اگر اسرائیل کی جانب سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ تاہم ٹیم نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سے متعلق تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ذرائع کے مطابق ماضی کے تجربات کے باعث فریقین کے درمیان بداعتمادی اب بھی موجود ہے، اس لیے حتمی نتائج کے حوالے سے کوئی یقینی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر رواں ہفتے کے اختتام تک دستخط ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اس مقصد کے لیے کسی مخصوص یورپی ملک کا نام نہیں لیا تھا۔دوسری جانب العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پاکستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔
اس حوالے سے امریکی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمت طے پا چکی ہے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنیوا میں جی سیون اجلاس کے آغاز سے قبل اس پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق پابندیوں میں ممکنہ نرمی کو ایران کے عملی اقدامات سے مشروط کیا جا سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہوگا۔ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور خلیج عمان میں ناکہ بندی کے خاتمے جیسے امور بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان نکات کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات حتمی مراحل میں ہیں اور معاہدہ طے پانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر کھول دیا جائے گا۔تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے دعووں پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق سفارتی رابطے جاری ہیں اور معاہدے کے متن کے کئی حصوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، لیکن ایران اپنی بنیادی پالیسیوں اور ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
