کیا فوج عمران کے حملوں کا جواب مذمت سے ہی دے گی؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افواج پاکستان پرتازہ ترین حملے کے بعد ایک مرتبہ پھرفوجی ترجمان نے ایک روایتی مذمتی بیان دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اور اب کپتان کی جانب سے اگلے حملے کا انتظار کیا جائے گا تاکہ ایک اورمذمتی بیان جاری کیا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ زبان دراز عمران کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جتنی زیادہ ڈھیل اورچھوٹ دی گئی ہے اسکی وجہ سے اب موصوف کی گفتگو ڈینجرزون میں داخل ہو چکی ہے اوراسے روکنا اشد ضروری ہے۔ فوجی ترجمان نے روایتی مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش اورآرمی چیف کی تعیناتی کے طریقے کو متنازع بنانا نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہے اورنہ ہی پاک فوج کے مفاد میں ہے۔ تاہم فوجی ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کی زبان درازی کے طویل ہوتے سلسلے کو روکنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
ترجمان پاک فوج نے عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان پر پاکستان آرمی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم فوجی ترجمان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اپنی پریس ریلیز میں ایک مرتبہ بھی چیئرمین تحریک انصاف یعنی عمران خان کا نام لکھتے۔ ماضی میں بھی عمران خان نے جب بھی فوج کے بارے میں بد زبانی کی ہے تو فوجی ترجمان نے انکا نام لیے بغیر اشاروں میں ان کی مذمت کی ہے۔ تازہ بیان میں فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے جب فوج، قوم کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر روز قیمتی جانیں قربان کر رہی ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی آئین میں واضح طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود سینئر سیاستدانوں کی جانب سے اس عہدے کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان آرمی، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی بالادستی کے عزم پر قائم ہے۔ تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی روکنے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں اورتحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے اپنے کپتان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوجی ترجمان میری جاری کردہ وضاحت پڑھ لیتے تو شاید انہیں یہ مذمتی بیان جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اسی دوران صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران آرمی چیف سے متعلق اپنے بیان کی خود وضاحت کریں، میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ گورنر ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ آرمی چیف سمیت فوج کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ موجودہ حکومت سمیت سب قومی ادارے محب وطن ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج محب وطن ہے، جان دیتی ہے، فوج نے سیلاب میں بھی کام کیا، لہذا عمران اپنے بیان کی خود وضاحت کریں کہ ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ میں پس پردہ مفاہمت کے لیے کام کر رہا ہوں، اور کوشش کر رہا ہوں کہ سٹیک ہولڈرز میں غلط فہمیاں دور کروں، لیکن صدر عارف علوی نے ایک مرتبہ پھر اپنے عمرانڈو ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ آڈیو ریکارڈنگ کا عمل ان کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ یعنی وہ شوکت ترین کی جانب سے پاکستان اور آئی ایم ایف کی قرض ڈیل سبوتاژ کرنے کی مذمت کرنے کی بجائے انکی فون کال ریکارڈ کرنے کی مذمت کر رہے تھے۔
عمران کی براہ راست تقریر پر دوبارہ پابندی لگنے کا امکان
واضح رہے کہ عمران خان نے 4 ستمبر کو فیصل آباد میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف اپنی پسند کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں جو انکی چوریاں بچا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ ان دونوں نے پیسہ چوری کیا ہوا ہے، اس لیے ڈرتے ہیں کہ کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ ان سے پوچھے گا، اس ڈر سے یہ حکومت میں بیٹھے ہیں کہ اپنی پسند کے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں لوگ سکیورٹی رسک ہیں، ملک کے غدار ہیں، اور کسی صورت ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے، انکا کہنا تھا کہ آرمی چیف میرٹ پر لگنا چاہیے، جو میرٹ پر ہو اس کو آرمی چیف بننا چاہیے، کسی کی پسند کا آرمی چیف نہیں ہونا چاہیے۔
سابق وزیراعظم کو ان کے اس بیان پر وزیراعظم شہباز شریف سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ اداروں کو بدنام کرنے کے لیے عمران خان کی نفرت انگیز باتیں نئی سطحوں کو چھو رہی ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ اب وہ مسلح افواج اوراس کی قیادت کے خلاف براہ راست کیچڑا چھالنے اور زہریلے الزامات میں ملوث ہو رہے ہیں، ان کا مذموم ایجنڈا واضح طورپرپاکستان کو تباہ اورکمزور کرنا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ساری قوم کو نظر آرہا ہے کہ اس قوم کا فتنہ کون ہے، آج سب کو انسان اور حیوان کا پتا چل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے اس ملک کو کمزور کرنے کا کہیں سے ٹھیکہ لیا ہوا ہے جو ہمارے جیتے جی نہیں ہوسکتا، ہم اپنے اداروں اور جرنیلوں کو اس شخص کی ہوس کی خاطر متنازع نہیں بننے دیں گے، ہمارے ہر سپاہی سے لیکر جرنیل تک ہر ایک بہادر اور محبت وطن ہے،سابق صدر نے کہا کہ پوری قوم اس وقت سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ شخص جلسہ جلسہ کھیل رہا ہے۔
