عمران کی پشاور تقریر بلاک کرنے کے لئے کیا نسخہ اپنایا گیا؟

7 ستمبر کی رات عمران خان کے پشاور جلسے کی یوٹیوب پر لائیو کوریج بلاک کرنے کے لیے حکام نے پہلے تو انٹرنیٹ تھروٹلنگ کا نسخہ استعمال کیا اور پھر ملک بھر میں یوٹیوب سروس معطل کر دی تاکہ فوج کو عمران کی مزید گالی گلوچ سے بچایا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے جلسے کے بعد کہا کہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر یوٹیوب بلاک کر دیا صرف اس لیے کہ پشاور جلسے میں پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر عمران خان کی تقریر دیکھنے سے روکا جائے’۔ ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے اسامہ خلجی نے کہا کہ ‘بہت ہوگیا، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ہر دفعہ جب عمران ریلی سے خطاب کر رہے ہوں تو پورے پاکستان میں یوٹیوب بلاک نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر آئینی سینسرشپ ہے جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، آئین کا مذاق اڑانا اور ملک سے ویڈیو گیم کی طرح سلوک کرنا بند کریں۔ اسامہ خلجی نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مارشل لا لگ چکا ہے اور عمران خان کی تقریر کو نشر ہونے سے روکنے کے لیے یوٹیوب کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسی طرح کے واقعات 21 اگست کی رات بھی پیش آئے تھے جب عمران خان راولپنڈی کے لیاقت باغ میں تقریر کر رہے تھے اور یوٹیوب کی ٹیم کی جانب سے صارفین کو جواب دیتےہوئے تسلیم کیا گیا تھا پاکستان بھر میں اس طرح کی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عمران کی پشاور تقریر بلاک کرنے کے لئے کیا نسخہ اپنایا گیا؟
تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت عمران کی تقاریر کو یوٹیوب پر بلاک کر رہی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے انٹرنیٹ کو سست کرنے کا طریقہ کار استعمال کیا جا رہا ہے جسے ’انٹرنیٹ تھروٹلنگ‘ internet throttling کہا جاتا ہے۔ انٹر نیٹ تھروٹلنگ اس عمل کو کہتے ہیں جس میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی جان بوجھ کر انٹرنیٹ کی بینڈوِڈتھ bandwidth کی رفتار کو کم کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسی بھی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے صفحات کو لوڈ ہونے میں دوگنے سے زیادہ وقت لگتا ہے اور براہِ راست نشریات اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔
تحریک انصاف والوں کا کہنا ہے کہ 7 ستمبر کو پشاور میں عمران کے جلسے کو یوٹیوب پر لائیو نشر ہونے سے روکنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے انٹرنیٹ تھروٹلنگ کا طریقہ استعمال کیا۔ اس سے پہلے تھروٹلنگ کا عمل جنوبی کوریا اور چین میں استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور واضح رہے کہ یہ عمل سینسر شِپ کے لیے خاص طور سے استعمال ہوتا ہے تاکہ ناقدین کے بیانات اور ایسے مواد کو انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچنے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگے۔
اگر بات کریں پاکستان کی تو انٹرنیٹ کی آزادی پر نظر رکھنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے پاکستان میں سینسرشِپ اور اس سے پہلے ویب سائٹس کی بلاکنگ کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں مئی 2010 میں کچھ دیر کے لیے فیس بُک کو بلاک کیا گیا تھا جبکہ یوٹیوب کو تین سال کے لیے بلاک کیا گیا تھا۔ پاکستان میں نیٹ اس لیے سست نہیں کیا جاتا کیونکہ نیٹ پہلے سے ہی بہت سست رفتار ہے لہٰذا بلاکنگ ہوتی رہی ہے اور اس کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔‘ انٹرنیٹ قوانین پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ملک بھر میں مختلف انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں میں 7 ستمبر کو یوٹیوب کی سروس میں غیر معمولی تعطل دیکھنے کو ملا تھا۔ اس نے واضح کیا کہ یوٹیوب کی نشریات میں غیر معمولی تعطل تب دیکھنے میں آیا جب عمران خان کی تقریر یوٹیوب سے براہِ راست نشر کی جا رہی تھی۔اس واقعے سے ایک روز پہلے اسی ادارے کی جانب سے پاکستان کی انٹرنیٹ سروس کی مجموعی صورتحال بتائی گئی تھی جس کے مطابق کئی علاقوں میں سیلابی ریلا آنے کے نتیجے میں پی ٹی سی ایل فائبر متاثر ہوئی تھی جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کئی کمپنیوں کو خاصا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔
عمران خان کی تقریر کے بارے میں نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ صارفین کو ایک ایپ کو کلک کرنے کو کہا تھا۔ یہ ایپ آپ کے نیٹ ورک کا تجزیہ کرتی ہے کہ نیٹ ورک کا معیار کیا ہے، کتنی سینسرشِپ ہے اور اس کے مطابق بہت کم افراد یوٹیوب دیکھ پا رہے تھے۔
اسامہ خلجی نے بتایا کہ 7 ستمبر کی پشاور تقریر کے وقت تھروٹلنگ نہیں کی گئی تھی بلکہ یوٹیوب کو بلاک کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ آپ پورے انٹرنیٹ کو بلاک کر دیں۔ یہ تھروٹلنگ کرنے کے زمرے میں نہیں آتا۔ دوسرا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی ایپ کو بلاک کر دیں۔ عمران کی تقریر کو یوٹیوب پر مکمل بلاک کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان میں تھروٹلنگ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس یہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی ویب سائٹ کو براہِ راست سینسر کر سکتے ہیں۔ اس ویب مانیٹرنگ سسٹم کو ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالرز میں دسمبر 2018 میں ایک کینیڈین کمپنی ’سینڈ وائن‘ سے خریدا گیا تھا۔ اس سسٹم کے تحت ان تمام تر ویب سائٹس کی نگرانی کی جاتی ہے جن پر حکام کو شک ہوتا ہے۔ تو ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کہلانے والے اس طریقے کو سینسرشِپ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
