انتقام پر مبنی فلم ’کارما‘‘ میں ہیرو اور ولن کی پہچان مشکل

کرائم اور تھرلر فلمیں ہمیشہ سے ہی فلم بینوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں، ایسی ہی فہرست میں فلم ’’کارما‘‘ کو بھی شامل کیا گیا، فلم دیکھنے والوں کے لیے یہ تعین کرنا مشکل ہوگا کہ اس میں ہیرو اور ولن میں آخر فرق کیا ہے۔نفلم میں اُسامہ طاہر نے (ہارون) کا کردار اور نوین وقار نے (ماریہ) کا کردار ادا کیا جبکہ دیگر اداکاروں میں عدنان صدیقی نے ہارون کے والدکا، ژالے سرحدی نے ساشا کا، پارس مسرور نے حشمت کا اور خالد انعم نے ماریہ کے والدنکا کردار ادا کیا۔ کہانی کے مطابق ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہارون خان والدین کے گزر جانے کے بعد پاکستان منتقل ہو جاتا ہے جہاں وہ ایک ایسے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جس کا ذکر آج کل دنیا کے ہر معاشرے میں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے یعنی ’’ڈپریشن‘‘۔
والدین کے انتقال کے بعد ہارون نشے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنا غم بھلانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے اچھے مستقبل کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دے رہی ہوتی، ایسے میں وہ ایک کروڑ پتی ماہر نفسیات سے نام بدل کر رابطہ کرتا اور پھر اسے جینے کی ایک نئی اُمید نظر آتی ہے اور پھر یہیں سے شروع ہوتی ہے، ایک نئی کہانی جس میں دیکھنے والوں کو ہر طرف انتقام اور دھوکہ نظر آئے گا۔
فلم میں سارے کردار کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں۔ سب کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے لیکن یہاں کمال فلم کے ہدایتکار کا ہے انہوں نے فلم کے مناظر کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ اختتام تک دیکھنے والا تجسس میں مبتلا رہے کہ آخر کون کس کو دھوکہ دے رہا ہے لیکن انجام سب کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
لفظ کرما کو مکافات عمل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس پر بالی وڈ میں ایک فلم بھی بن چکی ہے یعنی اگر کوئی کسی کو دھوکہ دیتا ہے تو تقدیر پلٹ کر وار کرتی ہے یہاں بھی کچھ ایسا ہی لیکن اس فلم کا نام کرما کے بجائے ‘کارما’ رکھا گیا ہے شاید اس لیے کہ فلم زیادہ گاڑیوں میں عکس بند کی گئی ہے۔
سپنس اور تھرلر سے بھرپور اس فلم کی کہانی ایک بزنس مین کے اغوا کے گرد گھومتی ہے اس بزنس مین کا کردار اسامہ طاہر نے ادا کیا ہے جسے مغل دور کا ایک ورثہ حاصل کرنے کیلئے اغوا کیا جاتا ہے، کہا جا رہا تھا کہ یہ فلم ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار کوانٹن ٹرانٹینو کی فلموں سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے اور فلم دیکھنے کے بعد یہی محسوس ہوتا ہے کہ جو کہا جا رہا تھا بالکل سچ ہے۔نفلم میں کار ریس کو کچھ اس انداز سے دکھایا گیا ہے کہ دیکھنے میں ایک لمحے کو ہالی وڈ کی فلم ’فاسٹ اینڈ فیوریس‘ ذہن میں آتی ہے جبکہ فلم میں دکھائی جانے والی ریس کو ایک ایسے حقیقی ڈائیلاگ سے جوڑا گیا ہے جو کراچی میں اکثر سنائی دیتا ہے ’کراچی میں رولز کوئی فالو نہیں کرتا اس لئے یہاں کٹنگ سب سے اہم ہے۔
فلم میں کراچی کی سڑکوں پر ہونے والے جرائم کو بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، ساشا کا کردار ایک گینگسٹر کا ہے جو خود اپنا گینگ چلا رہی ہے، ساشا کا کردار اداکارہ ژیالے سرحدی نے ادا کیا اور اس کردار سے پورا انصاف کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ فلم کے ہدایتکار کاشان عدمانی خود میوزک پروڈیوسر بھی اس کے باوجود فلم میں بہت زیادہ گانوں کے بجائے بیک گراؤنڈ میوزک کو اہمیت دے کر ایک نئی تھیم متعارف کروانے کی کوشش کی گئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ کاشان عدمانی نے میوزک سے متعلق اپنی تمام صلاحیتوں کو فلم میں استعمال کیا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ فلم میں کوئی آئٹم نمبر شامل نہیں۔
فلم میں زیادہ تر رات کے مناظر دکھائے گئے ہیں سوائے دو یا چار سین کے سارے مناظر ہی اندھیرے میں پیش کیے گئے ہیں جس سے ہم یہ کہتے سکتے ہیں کہ فلم کی تھیم ‘ڈارک’ ہے، فلم میں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں جیسا کہ میں سب سے اہم ورثہ کا ذکر تھا جس کے لیے سارا گیم پلان بنایا جاتا ہے لیکن وہ ورثہ تھا کیا؟ اسی طرح ہارون اپنے والدین کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ساشا کو مارنا چاہتا ہے لیکن اسے کیسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے والدین کو ساشا نے قتل کیا؟
’’کارما‘‘ اس قسم کی فلم ہے جس کی پاکستانی سنیما کو اس وقت ضرورت ہے کیونکہ اپنی فلم انڈسٹری کو ہمیں مضبوط کرنے کے لیے روایتی مصالحے دار کمرشل فلموں سے ہٹ کر کچھ منفرد بنانے کی کوشش کرنی پڑے گی، ہو سکتا ہے کہ یہ کمرشل فلموں کی طرح بزنس نہ کر پائے لیکن ایک اچھی فلم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ روایتی فلموں سے ہٹ کر اس کے بارے میں بات کی جائے، ایسا ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں ’’کیک‘‘ اور ’’لال کبوتر‘‘ جیسی فلموں نے بھلے بزنس کے ریکارڈ نہ توڑے ہوں لیکن ان فلموں کو عالمی طرح سراہا گیا۔

Back to top button