عمران اگلے آرمی چیف کو ابھی سے متنازعہ کیوں بنا رہا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے محسن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو متنازعہ بنانے کے بعد اب مستقبل کے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانے کے لیے یہ بیان داغ دیا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی کرپشن بچانے کے لیے مرضی کا نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف لگ گیا تو وہ ان سے پوچھے گا اور کرپشن کا حساب لے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے تازہ بیان سے ثابت ہو گیا کہ وہ فوج کے ادارے میں تفرقہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے اے آر وائے نیوز پر کی گئی خطرناک گفتگو بھی انہی کوششوں کا حصہ تھی۔
عمران خان کی اسی طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی وجہ سے پیمرا نے ان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ختم کر دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن عمران کی 4 ستمبر کی خوفناک تقریر کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے لئے بھی عمران کا مزید دفاع کرنا ممکن نہیں رہا اور انہوں نے یہ حکم جاری کردیا کہ پیمرا سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں براہ راست تقریر کو ریگولیٹ کرے اور عدالت اس میں دخل نہیں دے گی۔ اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا تمام جرنیل محب وطن نہیں، کیا ایسا سوچا بھی جا سکتا ہے کہ ملک کی خاطر جان دینے والوں میں سے کوئی غیر محب وطن بھی ہوگا جیسا کہ کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس لیڈر کی فالوونگ زیادہ ہو اس کے الزام کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے، اگر ایسا لیڈر غیر آئینی بات کرے اور اشتعال پھیلائے تو اسے آزادی اظہار قرار نہیں دیا جا سکتا، اسطرح کے غیرذمہ دارانہ بیان کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی گفتگو کرنے والے دشمنوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کی حب الوطنی پر شک کرے، کیا ایسی ہوتی ہے سیاسی قیادت؟
عمران اگلے آرمی چیف کو ابھی سے متنازعہ کیوں بنا رہا ہے؟
یاد رہے کہ ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے کے الزام میں توہین عدالت کیس کا سامنا کرنے والے عمران کو دوبارہ سے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی سہولت فراہم کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آئے تھے اور یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے لئے ضرورت سے زیادہ نرم رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے یہ بیان بھی داغ دیا تھا کہ وہ توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتے اور آزادی اظہار کی اجازت ہونی چاہیے۔ لیکن اب عمران کی جانب سے فوج پر ایک اور کھلے حملے کے بعد اطہر من اللہ بھی دفاعی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ 5 ستمبر کو عمران کی براہ راست تقاریر پر پیمرا کی عائد پابندی کے خلاف پی ٹی آئی کے دائر کردہ کیس کی سماعت کے دوران سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے اطہر من اللہ نے کہا کہ عمران اپنی بھی خود احتسابی کریں کہ وہ کیا کرنا کیا چاہ رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جو مرضی منہ میں آئے کہتے پھریں اور انہیں کوئی ریگولیٹ نہ کرے، ایسا نہیں ہو سکتا، اس رویے کے ساتھ عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ کریں، فوج بارے منفی گفتگو کر کے ادارے کا مورال ڈاؤن کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ 4 ستمبر کو فیصل آباد کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے یہ الزام لگا دیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری نومبر میں اپنے فیورٹ جرنیل کو نیا آرمی چیف بنانا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنی چوریاں بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی محب وطن جرنیل آرمی چیف بن گیا تو وہ ان سے کرپشن کا حساب لے گا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی جرنیل اگلا آرمی چیف بنے گا وہ محب وطن نہیں ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف پورے ادارے کا سربراہ ہوتا ہے اور عمران کے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ساری فوج کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ ویسے بھی عمران یہ بیان داغتے ہوئے بھول گئے کہ پارلیمانی جمہوریت میں وزیراعظم آرمی چیف کو جواب دہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسکا احتساب کر سکتا ہے بلکہ آرمی چیف وزیر اعظم کے ماتحت ہوتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کی جانب سے آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ آئین کے تحت نئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر وزیراعظم کرتا ہے جو اس کا آئینی استحقاق ہے اور اگلا آرمی چیف شہباز شریف لگائیں گے۔ لہذا عمران خان نے ضروری سمجھا کہ نیا آرمی چیف لگنے سے پہلے ہی اسے دباؤ میں لانے کا کام شروع کر دیا جائے۔ موجودہ آرمی چیف 28 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ عدلیہ کی طرف فوج کے ادارے کا سربراہ بھی سنیارٹی کی بنیاد پر لگایا جانا چاہیے۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ شاید جنرل قمر باجوہ کو ایک سال کی توسیع دے دی جائے۔ لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا امکان بہت کم ہے کیونکہ جنرل باجوہ پہلے ہی تین سال کی توسیع لے چکے ہیں۔اس وقت فوجی جرنیلوں کی سینیارٹی لسٹ کے مطابق کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے نمبر پر جبکہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد دوسرے نمبر پر ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق عمران نے اپنی تقریر میں بنیادی طور پر جس فیورٹ جرنیل کا ذکر کیا ہے وہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہیں جو سینئر موسٹ ہیں اور ماضی میں آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی عاصم منیر کو ہٹوا کر اپنے پیارے فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف بنا دیا تھا۔ اب جب عمران کو یہ پتا چلا ہے کہ فوج میں سینیارٹی کے اصول پر عاصم منیر کے نئے آرمی چیف بننے کا امکان موجود ہے تو انہوں نے گند ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی ہیں اور فیض حمید کے یارِ غار ہیں کیونکہ دونوں کا تعلق چکوال سے ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں کبھی بھی آرمی چیف کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں کیا گیا چاہے وہ جنرل باجوہ ہی کیوں نہ ہوں، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق کیانی اور جنرل راحیل شریف کو بھی سنیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف نہیں لگایا گیا تھا۔ تاہم جب بھی کوئی وزیراعظم سنیارٹی سے ہٹ کر مرضی کا آرمی چیف لگاتا ہے تو اسکے نتیجے میں فوج میں درجنوں جرنیلوں کا حق مارا جاتا ہے، لہذا اس مرتبہ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ کسی تنازعے سے بچنے کے لیے عدلیہ کی طرح فوج میں بھی سنیارٹی کے اصول کے تحت نیا آرمی چیف لگایا جائے۔
