بھارت سے سبزیاں منگوانے پراسٹیبلشمنٹ کو کیا اعتراض ہے؟

باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سیلاب سے پاکستان میں سبزیوں کی تباہی کے بعد سستی سبزی کی فراہمی کے لیے بھارت سے سرحدی تجارت کھولنے کی تجویز پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مسترد کی ہے حالانکہ حکومت سمجھتی تھی کہ وسیع ترعوامی مفاد میں محدود عرصے کے لیے تجارت کھولنے سے پاکستان کا زیادہ فائدہ ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب طاقتورفوجی اسٹیبلشمنٹ نے دنیا کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کی اسٹریٹجک ترجیحات کا مرکزاب ملکی معیشت ہے لیکن عملی طور پر فیصلے اس دعوے کے الٹ کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے وفاقی حکومت کو افغانستان سے تو ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی اجازت ملی ہے لیکن واہگہ بارڈر کے ذریعے اس سے بھی سستا پیاز اور ٹماٹر منگوانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یاد رہے کہ پاکستان نے افغانستان اورایران سے درآمد شدہ ٹماٹراورپیازکو 4 ماہ کے لیے سیلزاوروِد ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ تاہم وفاقی کابینہ نے بھارت سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کے فیصلے کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے بعد مؤخر کر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں بھارت سے زمینی راستے کے ذریعے امدادی اشیا لانے کی اجازت مانگ رہی ہیں تاکہ امدادی سامان جلد از جلد متاثرین تک پہنچایا جاسکے۔ تاہم امدادی ایجنسیوں کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کمزور ہے اور اسے خطرہ ہے کہ اگر بھارت سے سبزیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی یا امدادی ایجنسیوں کو سامان لانے کی اجازت ملی تو اسے مخالفین کی جانب سے سیاسی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ جب وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بھارت سے سبزیوں کی درآمد کا آئیڈیا پیش کیا تھا تو سابقہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے اس پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے ماضی میں نجی شعبے کو بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی اور اس کے علاوہ کپاس اور دھاگا درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس دوران تو کوئی ہنگامی کی صورتحال بھی نہیں تھی اور اس سے بڑے کاروباری لوگوں کو خوب فائدہ ہوا تھا۔ موجودہ صورتحال میں سبزیوں کی درآمد سے ملک کے منافع خور مافیا کو شاید فائدہ نہ ہو لیکن عام آدمی کے لیے یہ بہت بڑا ریلیف ثابت ہوسکتا ہے۔
عمران ملک کی دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہے ہیں
اگرچہ ایران اور افغانستان سے پھلوں اور سبزیوں کی سپلائی کبھی بھی روکی نہیں گئی تھی لیکن اب تک اس سے صرف سرحدی علاقوں کی ضروریات ہی پوری ہورہی تھیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے فوائد و نقصانات کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ بحث دہائیوں سے جاری ہے، لیکن جب پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جیو اکنامکس اس کی پہلی ترجیح ہے تو خطے کے امن پسند افراد پُرجوش ہوجاتے ہیں۔ تاہم تلخ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں کہ اندرونی سیاسی صورتحال ہی ترقی میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی مذہبی اقلیتوں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں، کے حوالے سے نفرت پسندانہ رویہ رکھتی ہے اور اس وجہ سے اس کے لیے مشکل ہے کہ پاکستان کو امن کی پیشکش کرے۔ ملک میں جاری معاشی اور سیاسی بحران کی وجہ سے پاکستان کے حکمران سخت فیصلے لینے سے قاصر ہیں۔ اگر پاکستان بھارت سے ہونے والی درآمد پر سے ٹیکس اور ڈیوٹی خم کردے تو یہ بھارت کے لیے ایک امتحان ہوگا کہ وہ پاکستان سے ہونے والی درآمد پر عائد 200 فیصد ڈیوٹی ختم کرتا ہے یا نہیں۔
تاہم اس بحران میں ایک موقع بھی پوشیدہ ہے۔ قدرتی آفات ایسی چیز ہیں جن سے پاکستان اور بھارت یکساں طور پر متاثر ہیں اور دونوں ممالک اس ضمن میں تعاون کرسکتے ہیں۔ قدرتی آفات سے زندگیوں، کاروبار اور انفراسٹرکچر کا تو نقصان ہوتا ہی ہے لیکن اس سے دل بھی پگھلتے ہیں اور قیامِ امن کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔تجارت اور قدرتی آفات کے انتظام میں تعاون سے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر سیاسی مسائل پر دونوں ممالک کے مؤقف کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
