منگلا اور تربیلا میں پانی کی کم گنجائش سیلاب کی بڑی وجہ

امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کوہ ہمالیہ سے بارش کے پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کی وجہ سے پانی جمع کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں، اخبار نے بتایا ہے کہ صرف تربیلا کی جھیل میں ہی پانی جمع کرنے کی صلاحیت کم ہو کر 57 فیصد رہ گئی ہے، اس کے علاوہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود نہری نظام اور بڑے بیراجوں کو بھی فوری مرمت کی شدید ضرورت ہے۔
پاکستانی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تربیلہ ڈیم کی تہہ میں مٹی جمع ہونے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں واضح کمی واقع ہوئی ہے جبکہ منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ کے باعث اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوا ہے جس سے منگلا ڈیم میں تربیلہ ڈیم سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موحود ہے، منگلا ڈیم میں موجود پانی کا ذخیرہ ربیع کے سیزن تک استعمال ہو جاتا ہے جس سے ربیع کی فصلوں کی پیداوار بہتر ہو جاتی ہے۔
یہ پانی سارا سال بجلی بنانے اور فصلوں کے علاوہ مچھلی کی افزائش کے کام آتا ہے، ماہرین بتاتے ہیں کہ جس سال ڈیم بھرا نہ جائے اس سے اگلی گرمیوں اور ساون میں پانی آنے تک منگلا ڈیم میں پانی تقریبا ختم ہو جاتا ہے جس کے کئی نقصانات ہوتے ہیں، مثلاً کیچڑ والا پانی نہ صرف پاور ہائوس کی مشینری کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ مچھلیاں بھی اس کیچڑ میں مر جاتی ہیں اور بجلی کی پیداور میں کمی آ جاتی ہے۔

عمران اگلے آرمی چیف کو ابھی سے متنازعہ کیوں بنا رہا ہے؟

واشنگٹن ٹائمز نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ہزاروں برس کی تاریخ رکھنے والی دریائے سندھ کی وادی کے آبپاشی نظام میں سرمایہ کاری کی شدید کمی ہے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ میں حکومتوں نے آبپاشی کے نظام پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکہ میں 1927 میں دریائے مسی سیپی میں آنے والے سیلاب کے ایک ہی برس بعد 1928 کا فلڈ کنٹرول ایکٹ متعارف کروایا گیا۔ یہ اس وقت کا امریکی حکومت کا تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری پراجیکٹ تھا۔ اخبار نے کہا کہ چین کے سرکاری بجٹ کا ایک بڑا حصہ سیلاب کے انتظام میں خرچ ہوتا ہے۔ چین نے 2017 میں اس پر 144 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ کاروبار اور سرمایہ کاری پر رپورٹ کرنے والے موقر امریکی ادارے بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں بڑے سرکاری پراجیکٹس میں سرمایہ کاری میں پاکستان صرف مصر سے آگے ہے۔
واشنگٹن ٹائمز کا کہنا ہے کہ ریاست بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کے قابل نہیں اور ایسے میں کسی بھی بڑی قدرتی تباہی سے نمٹنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اخبار کے مطابق تربیلا اور منگلا کے پانی کے ذخیرے کوہ ہمالیہ سے آنے والی مٹی کی وجہ سے پانی جمع کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں، صرف تربیلا کی جھیل میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت محض 57 فیصد رہ گئی ہے۔
جبکہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود نہری نظام اور بڑے بیراجوں کو بھی مرمت کی شدید ضرورت ہے، اس تجزئے کے مصنف اور بلوم برگ کے لیے لکھنے والے ڈیوڈ فکلنگ کے مطابق اس کی وجہ آپباشی کے نظام کی مرمت اور تعمیر میں سرمایہ کاری کی کمی، کرپشن، اور چاروں صوبوں میں پانی اور سرمایےکی تقسیم پر اختلافات ہیں۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے پانی اور ماحولیاتی ماہر ذوالفقار ہالی پوٹو نے بتایا کہ بارش زمین کے لیے بہت اچھی ہوتی ہے، زمین کو جتنا بھی پانی ملے وہ کم ہے، لیکن انتظام کی کمی کی وجہ سے لوگ اسے زحمت کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت سیٹلائیٹ کے ذریعے سندھ میں سیلاب کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کہیں بھی پانی نے نظام کو متاثر نہیں کیا۔ ان کے مطابق پانی نے صرف اپنے قبضہ کیے گے راستے چھڑائے ہیں۔ جہاں جہاں تجاوزات تھیں، جہاں قبضے ہیں وہاں پانی نے تباہی مچا کر اپنا راستہ بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ترقیاتی کام کرنے چاہیں لیکن انہیں ماحول سے مطابقت میں لائے بغیر قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی تباہی سے نہیں بچا جا سکتا، انہوں نے دریائے میکانگ کی مثال دی جو کمبوڈیا سے تھائی لینڈ تک سات ممالک سے گزرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ان ملکوں میں سارا سال بارش ہوتی ہے، لیکن انہوں نے مقامی طور پر ایسے نظام بنائے ہیں کہ پانی کہاں سے گزرے گا، اور سیلاب کی صورت میں ریسکیو کا نظام کیا ہوگا۔
ہالی پوٹو کا کہنا تھا کہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ملک میں پانی کا زیادہ تر دارومدار گلیشئیرز کے پگھلنے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ پانی ہے، ہمیں اس کے بہتر انتظام کی ضرورت ہے، ہالی پوٹو نے کہا کہ دنیا اب ڈیموں کی بجائے چھوٹے چھوٹے سٹرکچر، رن آف دی ریور پراجیکٹس کی جانب جا رہی ہے، ہمارے پاس بہت زمین ہے اور ہم تھوڑا سا کام کر کے بہت سا پانی بچا سکتے ہیں، ان کا کہنا تھا زراعت، فشریز، واٹرمنیجمنٹ، ماحولیات اور لائیو سٹاک جیسے ایک دوسرے پر دارومدار کرنے والے شعبوں کی مجموعی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور ان معاملات کو جنگی بنیادوں پ مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا موجودہ ترقی کا ماڈل عوامی فلاح کی بجائے قومی سلامتی پر مرکوز ہے لہٰذا جب تک آپ سیکیورٹی سینٹرک رہیں گے تب تک آپ چاہے پوری دنیا سے پیسے لے آئیں، آپ مقامی طور پر طویل بنیادوں پر مسائل حل کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔

Back to top button