کیا بلوچستان میں مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرائی جائے گی؟

بلوچ قوم کی سوچ اور اسکی سیاست میں بنیادی تبدیلی لانے اور اسکی سمت متعین کرنے والے رہنماؤں میں سردار عطااللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبرخان بگٹی اور نواب خیر بخش مری کے نام نمایاں ہیں۔ لیکن ان رہنماؤں کی رحلت کے بعد بلوچ قوم کی سیاست ایک دوراہے پر کھڑی نظر آتی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے دانشور کہتے ہیں کہ اب ماضی کی طرح بلوچوں کے پاس بڑے قد کاٹھ والے سیاسی رہنما موجود نہیں جن پر لوگوں کا اتفاق ہو اور وہ ان کے پیچھے چلیں۔ ویسے بھی ریاست پاکستان نے نواب اکبر بگتی کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے بعد اب بلوچ قوم پرست سیاسی رہنما کمزور پڑ چکے ہیں اور عسکریت پسند تنظیمیں زور پکڑ رہی ہیں۔
بلوچ سیاست پر نظر رکھنے والے دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری کے مطابق میر غوث بزنجو جیسے بلوچ رہنما کا کوئی بااثر فیملی بیک گراؤنڈ نہیں تھا، انہوں نے ساری زندگی سیاست کی، ان کے علاوہ تین بڑے بلوچ لیڈر عطا اللہ مینگل، اکبر بگٹی اور خیر بخش مری قبائلی سردار تھے، جن کی اپنے قبیلوں کی وجہ سے طاقت اور حمایت زیادہ تھی، لیکن آج کا تقاضا کچھ اور ہے، اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ اگر کسی بلوچ سردار کے پاس سرکاری یا لیویز کی حمایت نہ ہو تو وہ الیکشن بھی نہیں جیت سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیاست کے بدلتے معیار اور تقاضوں کے بعد چیلنجز بھی تبدیل ہوگئے ہیں، جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ تو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹے صوبے کو قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی سارے سویلین اور فوجی حکمرانوں نے اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق سے محروم رکھا۔

عمران اگلے آرمی چیف کو ابھی سے متنازعہ کیوں بنا رہا ہے؟

بلوچستان کو صوبے کا درجہ ہی آزادی کے 23 سال بعد یعنی 1970ء میں ملا اور پھر افسوسناک امر دیکھیں کہ بلوچستان کے عوام کی پہلی منتخب اسمبلی کو اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے محض 8 ماہ بعد ہی فارغ کر دیا تھا۔ جس کے بعد بلوچستان میں کم و بیش 4 سال تک ایک طول و طویل جنگ ہوئی، بعد میں شائع ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں جہاں ساڑھے 4 ہزار بلوچ مزاحمت کار مارے گئے وہیں کم و بیش اتنے ہی سیکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس نقصان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بلوچستان میں، بلوچوں کی حمایت اور غیرت پر جب جب بندوقوں کی گھن گھرج سے وار کیا گیا تو اس کا جواب بھی اسی زبان میں دیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچستان میں موجودہ عسکری مزاحمت کا آغاز اگست 2006 میں جنرل مشرف کے ایما پر نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے ہوا۔ بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ری پبلیکن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور لشکر بلوچستان جیسی تنظیمیں آج ایک تلخ حقیقت ہیں، ان چار تنظیموں میں سے تین کے رہنما یعنی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی، نواب خیر بخش مری کے بیٹے ہربیار مری اور سردار اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل برسوں سے پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے بلوچستان میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔
ان تینوں نوابوں کے وارثوں سے زیادہ منظم تحریک بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنما ڈاکٹر اللہ بخش نذر کی ہے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سربراہ اور بلوچستان کے کور کمانڈر نے کوئٹہ میں 2016ء میں یہ انکشاف کیا کہ ڈاکٹر اللہ بخش نذر اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے، تاہم بعد کے دنوں میں اس کی تردید آ گئی، سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر اللہ بخش نذر کی آرمی اور دیگر مزاحمتی تنظیمیں مستقبل میں اتنی بڑی قوت بن سکتی ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کی تاریخ ایک بار پھر سے دہرائی جا سکے؟

Back to top button