ٹی ایل پی کو غیر مسلح کرنے کے لیے حکومت پنجاب کا کریک ڈاؤن

صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور تحریک لبیک کے مظاہرے میں اسلحے کے استعمال کے سامنے آنے والے واقعات کے بعد پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے جہاں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو ایک ماہ میں اسلحہ جمع کروانے کی وارننگ دے دی وہیں قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو بھی پولیس کے خدمت مراکز میں اپنے اسلحے کا اندراج کروانے کا حکم دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت اس سے پہلے بھی اسلحہ لائسنس بنوانے کے لیے کئی مرتبہ مہم چلا چکی ہے، تاہم عوام کو اپنا غیر قانونی اسلحہ جمع کروانے کے اس طرح کے احکامات پہلے کبھی نہیں دیے گئے۔
تاہم یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی اسلحہ ہے کتنا اور کیا حکومت اس بار تمام غیر قانونی اسلحہ ختم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ اس حوالے سے جب محکمہ داخلہ پنجاب سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ صوبے میں غیر قانونی اسلحے سے متعلق باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔تاہم پولیس کے ریکارڈ سے یہ معلومات ملتی ہیں کہ صرف گذشتہ تین ماہ کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں سے ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد غیر قانونی ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔سب سے زیادہ غیر قانونی اسلحہ شیخوپورہ سے جمع کیا گیا جہاں اڑھائی ہزار سے زائد غیر قانونی ہتھیار برآمد کیے گئے۔ دوسرے نمبر پر لاہور ہے جہاں پولیس نے 2300 سے زائد غیرقانونی ہتھیار قبضے میں لیے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق ’صوبے میں اسلحہ لائسنس سے متعلق سب سے بڑی مہم 2020 میں شروع کی گئی تھی جب مینوئل لائسنس سے کمپیوٹرائزڈ لائسنس بنانے کے لیے عوام کو ڈیڈلائن دی گئی تھی۔‘اس کے بعد صوبہ بھر میں تمام مینوئل لائسنسز منسوخ کر دیے گئے تھے، تاہم جن افراد نے اس وقت اس ڈیڈلائن کو نظرانداز کیا انہوں نے دوبارہ درخواستیں جمع کروائیں۔اس کے بعد رواں سال جنوری میں مینوئل لائسنسز کو دوبارہ کمپیوٹرائزڈ کرنے کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہم کے دوران غیر قانونی اسلحہ جمع کروانے سے متعلق طریقہ کار اور شرائط و ضوابط کو آئندہ چند روز تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔
حکام کے مطابق غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک ماہ کے اندر اندر اپنا غیر قانونی اسلحہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایک ماہ کی مہلت کے بعد صوبے بھر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گھر گھر سرچ آپریشن کریں گے جس کے بعد نہ صرف غیر قانونی اسلحہ کو مکمل طور پر ضبط کیا جائے گا بلکہ ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے انھیں سخت سزا بھی دلوائی جائے گی۔ حکومت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے۔‘’غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی نئی سزا اب 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جُرمانہ مقرر کی گئی ہے جو کہ ناقابل ضمانت ہوگی۔‘
پولیس حکام کے مطابق صوبے میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف اٹھائے گئے سخت اقدام کا مقصد صوبے میں بڑھتے ہوئے جرائم، ٹارگٹ کلنگ، اور سیاسی جلسوں میں فائرنگ جیسے واقعات کی روک تھام ہے۔ اس ساری صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جہاں پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو اپنے ہتھیار سرنڈر کرنے کا حکم دے دیا ہے وہیں قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے لیے بھی نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اب قانونی اسلحہ رکھنے والے تمام لائسنس یافتہ شہریوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اسلحے کی تفصیلات پولیس کے خدمت مراکز میں اندراج کروائیں۔ تاکہ صوبائی سطح پر ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکے، جس سے اسلحے کی نقل و حرکت اور ملکیت کا درست ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہو۔
تاہم ناقدین کے مطابق قانونی لائسنس ہولڈرز کو مزید بیوروکریٹک عمل میں الجھانا غیر ضروری دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اسلحہ لائسنس کی فیس اتنی زیادہ کر دی گئی ہے کہ لوگ لائسنس بنوانا چھوڑ چکے ہیں، لائسنس کی ایک لاکھ روپے فیس کون بھرے گا؟‘’جب آپ قانونی راستے مسدود یا بند کر دیں گے تو لوگ غیرقانونی کام ہی کریں گے۔ ’اب یہ سب کچھ انڈر گراؤنڈ ہے، آپ کو گھر میں ہتھیار اور گولیاں مل جاتی ہیں، اور اس کاروبار کو بین الصوبائی گینگ چلا رہے ہیں۔
