عمران خان پاکستان دشمن طالبان کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟

افغانستان اور پاکستان کے مابین شدید ترین سرحدی جھڑپوں اور پاک فضائیہ کی جانب سے مختلف افغان شہروں میں تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کے باوجود خیبر پختون خواہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے سیاسی فائدے کی خاطر ریاست مخالف تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی خیبر پختون خواہ میں تحریک طالبان کی دہشت گردی کاؤنٹر کرنے کا ایک بڑا چیلنج درپیش تھا، لیکن نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس اعلان کے بعد یہ چیلنج مزید سنگین ہو گیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جگہ لینے والے نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا فوجی آپریشن کی مخالفت پر مبنی مؤقف دراصل عمران خان کے بیانیے کا تسلسل ہے، جو خود اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، سہیل آفریدی کی تقرری کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ وہ عمران خان کی طرح طالبان نواز مؤقف اگے بڑھاتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے مشکلات پیدا کریں اور اسے دباؤ میں لا کر اپنی رہائی کی ڈیل کر سکیں۔

عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کا پروطالبان مؤقف تب مزید تشویشناک ہو جاتا ہے جب اسے ریاست مخالف عناصر کے ساتھ سیاسی مفادات کے لیے قربت کے طور پر دیکھا جائے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو افغانستان سے واپس لا کر خیبر پختونخوا میں بسایا گیا، جسے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کنفرم کیا ہے۔ اس آباد کاری کے نتیجے میں تحریک طالبان نے دوبارہ منظم ہو کر صوبے میں اپنی دہشت گرد کارروائیاں شروع کیں جس کے نتیجے میں پورا صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں عمران خان اور ان کے حمایت یافتہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں، جبکہ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ شدت پسندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی حال ہی میں واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور افواج پاکستان یہ توقع رکھتی ہیں کہ صوبائی قیادت دہشت گردوں کی سہولت کاری کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دے۔

اس کے باوجود، عمران خان اور ان کے قریبی حلقے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حامی ہیں، جسے بعض تجزیہ کار ریاستی پالیسی کے خلاف ایک خطرناک رجحان قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہ مؤقف نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو کمزور کرتا ہے بلکہ شدت پسندوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔اس دوران قبائلی جرگوں کی جانب سے بھی مذاکرات کی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن ان سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ باجوڑ امن جرگے کے رکن ہارون الرشید نے اعتراف کیا کہ مذاکرات کے بعد فریقین نے تعاون نہیں کیا، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی قیادت شدت پسندوں کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار نہیں کرتی، خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ ’گڈ اور بیڈ طالبان‘ کی تفریق بھی اب غیر مؤثر ہو چکی ہے، کیونکہ دونوں ریاستی اداروں کے لیے یکساں خطرہ بن چکے ہیں۔ پروفیسر ابراہیم کے مطابق، ’گڈ طالبان بھی وہی کام کرتے ہیں جو بیڈ طالبان کرتے ہیں، اور جب تک حکومت اور فوج اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتے، امن ممکن نہیں۔‘

Back to top button