حکومتی کارکردگی پر سوالات، شہباز شریف نے ڈنڈا اٹھا لیا

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے خود احتسابی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی گزشتہ ڈھائی برس کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کی بنیاد پر نہ صرف وزارتوں کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے گا بلکہ وفاقی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کا بھی امکان ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد گورننس بہتر بنانا، عوامی خدمات میں بہتری لانا اور وزارتوں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش بنانا ہے۔

وفاقی حکومت نے اپنی مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور وزارتوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے ایک اہم احتسابی عمل شروع کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ خطاب کے بعد حکومتی کارکردگی پر ہونے والی بحث اور عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے تمام وفاقی وزارتوں کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں انہیں ایک مخصوص فارم پر اپنی کارکردگی کی جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزارتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فروری 2024 سے اب تک کیے گئے تمام اہم اقدامات، حاصل کردہ اہداف، منصوبوں کی پیش رفت اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہر وزارت کو اپنے بنیادی فرائض کے مطابق حاصل ہونے والے نتائج، گورننس میں بہتری، انتظامی اصلاحات، مالی نظم و ضبط، اخراجات میں کمی اور نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی رپورٹ کا حصہ بنانا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیر التوا منصوبوں، ان میں ہونے والی تاخیر، رکاوٹوں اور ان کے ممکنہ حل سے متعلق بھی تفصیلی معلومات فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق معیشت اور مالیاتی شعبے سے متعلق 18 وزارتوں، قانون، داخلی سلامتی اور انتظامی امور سے وابستہ 14 وزارتوں جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے شعبوں سے متعلق 9 وزارتوں کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا تاکہ ہر شعبے کی کارکردگی کا مؤثر انداز میں تجزیہ کیا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور اسی بنیاد پر وفاقی کابینہ میں ردوبدل، بعض وزراء کی ذمہ داریوں میں تبدیلی یا نئی تقرریوں سے متعلق فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت اس عمل کو صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ گورننس کے نظام کو زیادہ مؤثر، جوابدہ اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دے رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت کو معاشی چیلنجز، عوامی توقعات اور انتظامی کارکردگی سے متعلق مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ احتسابی عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا تو اس سے نہ صرف حکومتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ کابینہ کی تشکیل اور پالیسی سازی پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

Back to top button