آزاد کشمیر الیکشن نے ملکی سیاست کا درجہ حرارت کیوں بڑھا دیا؟

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے دو مراحل کے نتائج نے جہاں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری دلا دی ہے، وہیں پیپلزپارٹی نے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اتحادی جماعت کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پیپلزپارٹی انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے اپنی احتجاجی مہم جاری رکھنے کے اشارے دے رہی ہے۔ بائیکاٹ کی قیاس آرائیوں کے باوجود سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی انتخابی میدان چھوڑنے کے بجائے عوامی اور سیاسی دباؤ کی حکمت عملی اپنائے گی، جبکہ 10 اگست کو ہونے والا تیسرا مرحلہ آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے دو مراحل مکمل ہونے کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی نے نتائج کو متنازع قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں دونوں بڑی اتحادی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کے باوجود مکمل تصادم سے گریز کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پہلے دو مراحل کے نتائج کے بعد تیسرے مرحلے کی انتخابی اہمیت نسبتاً کم ہو گئی ہے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ اب 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر انتخاب ہونا ہے، جبکہ خصوصی نشستوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی انتخابی نتائج کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی اور مختلف حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگرچہ بعض اطلاعات میں تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کی بات کی گئی، تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ پیپلزپارٹی کی عملی سیاسی حکمت عملی نہیں ہو سکتی، کیونکہ جماعت انتخابی میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنی توجہ حکومتی معاملات اور عوامی خدمت پر مرکوز رکھیں اور اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے سے گریز کریں۔ تاہم انتخابی دھاندلی سے متعلق الزامات کا جواب حقائق اور شواہد کی بنیاد پر دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی اور سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 2024 کے عام انتخابات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو سندھ میں ہونے والے انتخابات پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات لگانے والوں کو اپنے دعوؤں کے ثبوت بھی پیش کرنے چاہییں۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی انتخابی عمل کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مہاجرین کی اکثریتی نشستوں سمیت متعدد حلقوں میں واضح کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات وقت کے ساتھ محدود ہوتے گئے اور شواہد طلب کیے جانے پر ان دعوؤں کی تعداد بھی کم ہوتی چلی گئی۔

ادھر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی، تشدد اور سیاسی دباؤ کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو آئندہ مرحلے کے انتخابات کے لیے متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیپلزپارٹی اپنی حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کی تحریک کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے آگے پورے پاکستان تک لے جائے گی۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی واضح کیا کہ پیپلزپارٹی نہ میدان چھوڑے گی اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے گی۔

مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے انتخابات نے اتحادی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اور پیپلزپارٹی دونوں ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں، تاہم وفاقی سطح پر اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت کے باعث مکمل سیاسی محاذ آرائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق 10 اگست کو ہونے والا انتخابی مرحلہ اور اس کے بعد کی سیاسی حکمت عملی مستقبل میں وفاقی اتحاد اور آزاد کشمیر کی سیاست پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button