ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی پر جرمنی میں سرخ مائع پھینک دیا گیا

ایران کے سابق ولی عہد اور جلاوطن رہنما رضا پہلوی پر جرمنی کے دورے کے دوران سرخ مائع پھینک دیا گیا جو ان کے چہرے کے بجائے گردن اور کندھے پر گرا۔

عالمی میڈیاکےمطابق رضا پہلوی ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرنے اور کچھ سیاسی شخصیات اور ایرانیوں سے ملاقات کے لیے جرمنی پہنچے تھے۔

جرمنی کے شہر برلن میں جیسے ہی وہ پریس کانفرنس ہال سے باہر نکلے ان پر سرخ مائع پھینکا گیا جس پر ان کی سیکیورٹی اہلکاروں نے انھیں حصار میں لے لیا۔

خیال رہے کہ اپنے دورۂ جرمنی کے حوالے سے خود رضا پہلوی نے کل سوشل نیٹ ورک ایکس پر بتایا تھا کل میں جرمن وفاقی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب عہدیداروں سے ملاقات کروں گا۔

دوسری جانب جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رضا پہلوی نجی دعوت پر برلن پہنچے تھے اور حکومتی نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی رضا پہلوی متحرک ہوگئے ہیں اور کئی یورپی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں جہاں سیاست دانوں اور پریس نمائندگان سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے ایران میں رجیم چینج کے اعلان کے بعد سے نئی حکمراں کے طور پر رضا پہلوی کا نام بھی سامنے آیا تھا جو امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 1971 میں امام خمینی کی قیادت میں بادشاہت کے خلاف عوامی تحریک نے تختہ الٹ دیا تھا اور اُس وقت کے بادشاہ کو اپنے خاندان کے ہمراہ ملک جانا پڑا تھا۔

 

Back to top button