27ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہیPTIمیں اختلافات پھوٹ پڑے

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات اور تحفظات بھی نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ بعض رہنماؤں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے بہت طویل تاریخ مقرر کیے جانے سے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے، جبکہ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر مقصد عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تو احتجاج کی تاریخ اتنی دور نہیں ہونی چاہیے تھی۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پی ٹی آئی واقعی 27 ستمبر کو بھرپور احتجاج کے لیے تیار ہے یا طویل مدت دینے کے پیچھے کوئی سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حمایت کرنے والی سمجھی جانے والی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی اسلام آباد مارچ کی تاریخ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 5 اگست کو پشاور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل علیمہ خان نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے کارکنوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے خود جلسے میں شرکت نہیں کی۔ جلسے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کو مزید انتظار کیوں کروایا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کو پارٹی کے اندر موجود بے چینی اور مارچ کی تاریخ سے متعلق اختلافات کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی سید قاسم علی شاہ نے بھی 27 ستمبر کی تاریخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اسی ماہ اسلام آباد مارچ کی تاریخ دی جائے گی۔ ان کے مطابق 27 ستمبر بہت دور کی تاریخ ہے اور بہتر ہوتا کہ 14 یا 27 اگست کو مارچ کی کال دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے جتنی طویل تاریخ دی جائے گی، عمران خان کو اتنا ہی زیادہ عرصہ جیل میں انتظار کرنا پڑے گا۔ اس بیان سے بھی واضح ہوتا ہے کہ پارٹی کے بعض حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ احتجاج میں تاخیر سے سیاسی دباؤ کم ہوسکتا ہے اور کارکنوں کا جوش بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کے جلسے اور اسلام آباد مارچ کی تاریخ کے حوالے سے صوبائی قیادت اور منتخب نمائندوں سے مکمل مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق کارکن طویل عرصے سے احتجاجی تحریک شروع ہونے کے منتظر تھے، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تقریباً دو ماہ بعد کی تاریخ دے دی۔ پارٹی رہنما کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت کے ایک حصے میں بھی احتجاج کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں جبکہ صوبائی سطح پر مؤثر مشاورت نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر منتخب نمائندے رواں ماہ ہی اسلام آباد مارچ کے خواہاں تھے۔

اسی رہنما کے مطابق اس وقت پارٹی کے صوبائی معاملات اور اہم فیصلوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کرگیا ہے، جس پر بعض اراکین اور رہنماؤں میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں عمران خان کی ہدایات اور مرکزی قیادت کی حکمت عملی سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔ اس صورتحال نے پی ٹی آئی کی اندرونی فیصلہ سازی، قیادت اور احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت صرف حکومت کے ساتھ سیاسی کشمکش ہی نہیں بلکہ اندرونی اختلافات اور قیادت سے متعلق سوالات کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ صحافی کامران علی کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت سیاسی طور پر تنہا دکھائی دے رہے ہیں اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ان کے بیانات میں واضح لائحہ عمل کے بجائے اگر مگر کی کیفیت نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی فی الحال مارچ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں اور شاید اسی وجہ سے احتجاج کے لیے نسبتاً طویل وقت دیا گیا ہے۔

کامران علی کے مطابق مارچ کے اعلان کے ساتھ عمران خان کی براہ راست رہائی کے بجائے ان کے علاج، مقدمات کی جلد سماعت اور ملاقاتوں جیسے مطالبات کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا موجودہ احتجاج کا بنیادی مقصد عمران خان کی فوری رہائی ہے یا ان کے بنیادی حقوق کا حصول۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر عمران خان نے تحریک کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کے سپرد کی تھی تو پھر صوبائی سطح پر سہیل آفریدی اس کردار میں کیسے آگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کی مارچ کی تاریخ سے بظاہر عدم اطمینان نے بھی پارٹی کے اندر اختلافات کی چہ مگوئیوں کو مزید بڑھا دیا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ 27 ستمبر کا مارچ کس حد تک کامیاب یا مؤثر ثابت ہوگا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے پارٹی کے اندر اختلافات اور مارچ کی تاریخ پر عدم مشاورت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کا فیصلہ پارٹی اور اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور مذہبی جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔ شفیع جان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ محض ایک دن کا احتجاج نہیں ہوگا بلکہ کئی دن بھی لگ سکتے ہیں، اس لیے پارٹی مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کرنا چاہتی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق عمران خان کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پی ٹی آئی نے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا، لیکن ان کے بقول عمران خان کے آئینی اور قانونی حقوق سلب کیے گئے، جس کے بعد لانگ مارچ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پنجاب سمیت دیگر صوبوں کا بھی رخ کر رہی ہے جبکہ مختلف جامعات میں سیمینارز کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں اور دیگر طبقات کو تحریک کے مؤقف سے آگاہ کیا جاسکے۔

شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد مارچ میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے اور اس تحریک کی قیادت ’اقبال کے شاہین‘ نوجوان کریں گے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وفاقی حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اسے آئینی عہدے چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنا ہوگا۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ ان کے بقول ’مینڈیٹ چور‘ حکمرانوں کو اب عوام کی عدالت میں جواب دینا ہوگا۔

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف کارکنوں کو 27 ستمبر تک متحرک رکھنا نہیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود مختلف آرا کو ایک متفقہ حکمت عملی میں تبدیل کرنا بھی ہے۔ ایک طرف علیمہ خان اور بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے احتجاج میں تاخیر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، دوسری طرف صوبائی قیادت اسے باقاعدہ مشاورت سے کیا گیا فیصلہ قرار دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقات، صحت اور مقدمات کی سماعت جیسے معاملات بھی تحریک کے بیانیے کا حصہ بن رہے ہیں۔

آنے والے ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ پی ٹی آئی اپنی اندرونی صفوں میں موجود اختلافات کو کس حد تک ختم کرتی ہے، کارکنوں کو کس انداز میں متحرک رکھتی ہے اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر پارٹی مرکزی اور صوبائی قیادت کے درمیان اختلافات پر قابو پا کر ایک واضح لائحہ عمل دینے میں کامیاب ہوگئی تو 27 ستمبر کا مارچ حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتا ہے، لیکن اگر تاریخ کے تعین، قیادت اور حکمت عملی پر اختلافات برقرار رہے تو یہ اندرونی کشمکش خود پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی قوت کو متاثر کرسکتی ہے۔

Back to top button