گرفتاریوں کا خطرہ، PTI کے احتجاجی مارچ کی قیادت کون کرے گا؟

پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی قیادت کو ایک اور بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 8 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے دیگر مطلوب رہنماؤں کے خلاف پہلے سے جاری عدالتی وارنٹس پر بھی عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس سے پارٹی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ جس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہو گئے تو 27ستمبر کے احتجاجی مارچ کی قیادت کون کرے گا؟
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، مولانا نسیم علی شاہ، عامر ڈوگر، عاطف خان، اقبال آفریدی جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی مینا خان، ڈاکٹر امجد اور شفیع جان کے وارنٹ جاری کیے۔ عدالتی کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کی گرفتاری کا معاملہ اب براہ راست پولیس کے سامنے آ گیا ہے۔
اسی عدالت نے تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 975/24 میں بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، مینا خان آفریدی، شاہد خٹک اور شفیع جان کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو ہدایت کی کہ چاروں ملزمان کو فوری گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ عدالتی حکم کے مطابق ان افراد کے خلاف دہشتگردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائی کی نوعیت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف نے پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور 27 ستمبر کے احتجاج کیلئے کارکنوں کو متحرک کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایک طرف پارٹی قیادت پنجاب میں عوامی احتجاج کو وسعت دینے کی حکمت عملی بنا رہی ہے جبکہ دوسری جانب اہم رہنماؤں کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونا سیاسی صورتحال میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔ اگر ان وارنٹس پر فوری عملدرآمد ہوتا ہے تو پارٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور قیادت کی دستیابی دونوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
ادھر انسداد دہشتگردی عدالت نے شاہراہ دستور پر احتجاج کے مقدمے میں گرفتار پی ٹی آئی کے چار کارکنوں کو شناخت پریڈ کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جانب سے ملزمان کو شناخت پریڈ کیلئے جیل بھیجنے کی استدعا منظور کرلی۔ پولیس نے ان کارکنوں کو تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے کے تحت گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ان کا معاملہ بھی عدالتی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد مختلف مقدمات میں مطلوب دیگر پارٹی رہنماؤں کے پہلے سے جاری وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج سمیت مختلف مقدمات میں عدالتی وارنٹس کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے تحریک انصاف کی قیادت میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ پارٹی کے کئی اہم رہنما پہلے ہی مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں کی فہرست میں جنید اکبر، عبدالغنی، شبلی فراز، مراد سعید، زرتاج گل، عامر مسعود مغل، ڈاکٹر امجد علی، مینا خان آفریدی، علی امین گنڈاپور اور عمر تنویر بٹ سمیت دیگر نام شامل ہیں۔ اگر ان رہنماؤں کے خلاف جاری وارنٹس پر تیزی سے عملدرآمد شروع کیا جاتا ہے تو تحریک انصاف کو بیک وقت سیاسی اور قانونی محاذ پر ایک بڑے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی ایک طرف کارکنوں کو احتجاج کیلئے متحرک کرنے اور دوسری طرف پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کر رہی ہے، جبکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے قانونی مقدمات میں مطلوب رہنماؤں کے خلاف کارروائی تیز ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس طرح آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان وارنٹس پر فوری عملدرآمد ہوگا اور کیا پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے مزید ارکان بھی گرفتاریوں کی زد میں آئیں گے؟ اگر ایک طرف اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہوتا ہے اور دوسری جانب پارٹی 27 ستمبر کو بڑے احتجاج کی کال پر عملدرآمد کیلئے سڑکوں پر نکلتی ہے تو ملک کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں عدالتی فیصلے، گرفتاریوں کی رفتار اور پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی یہ طے کرے گی کہ سیاسی کشیدگی کس سمت آگے بڑھتی ہے۔
