کیا سپیکر ایاز صادق روٹھی پیپلز پارٹی کو منا پائیں گے؟

حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات نے حکومتی اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے براہِ راست رابطوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ذمہ داری سونپ دی ہے، جبکہ حکومت نے اتحادی جماعت کے ساتھ معاملات معمول پر آنے تک قومی اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو حکومتی اتحاد کے اندر پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی سے بات چیت اور اس کے تحفظات دور کرنے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو باقاعدہ مینڈیٹ دے دیا ہے۔ ایاز صادق پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے مسلسل رابطے کر رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی خلیج کو کم کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی سپیکر ایاز صادق پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے مذاکرات کیلئے ایک قابلِ قبول راستہ نکلنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات میں بلوچستان حکومت کا معاملہ بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن بلوچستان حکومت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے تیار ہے اور سپیکر ایاز صادق کا حالیہ دورہ کوئٹہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ اتحادی جماعت کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

سپیکر ایاز صادق صرف پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطوں تک محدود نہیں بلکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کیلئے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ سیاسی طور پر اس ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر دونوں جانب کی اعلیٰ قیادت براہِ راست بیٹھ کر اختلافات اور تحفظات پر بات کرتی ہے تو حکومتی اتحاد کے اندر پیدا ہونے والے کئی معاملات کو حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اتحادیوں کے درمیان معاملات بہتر بنانے کیلئے سرگرم ہیں۔ حکومتی حلقے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں اتحادی جماعت کے ساتھ مسلسل اختلافات حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ پارلیمانی سطح پر کسی بڑے تصادم سے پہلے ہی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے۔

حکومت اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا براہِ راست اثر قومی اسمبلی کے اجلاس پر بھی پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق 21 ستمبر کو متوقع قومی اسمبلی کا اجلاس اب آگے جانے کا امکان ہے اور حکومت اجلاس کی مجوزہ تاریخ تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات معمول پر آنے تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

یہ صورتحال اس لحاظ سے اہم ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس محض معمول کی پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کا بھی ایک امتحان بن سکتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کے تحفظات بروقت دور نہ ہوئے تو پارلیمان کے اندر حکومت کو قانون سازی اور اہم معاملات پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اجلاس سے قبل اتحادیوں کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کو ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہے۔

حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر مطمئن بھی کرے اور اتحادی حکومت کے معاملات کو بھی مستحکم رکھے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی بھی اپنے تحفظات کے حوالے سے واضح پیغام دے چکی ہے کہ اتحادی تعلقات محض عددی اکثریت تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ صوبائی اور سیاسی معاملات میں باہمی مشاورت اور مفاہمت ضروری ہے۔

اب نظریں سپیکر ایاز صادق کی کوششوں، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ممکنہ ملاقات اور بلوچستان حکومت کے معاملے پر ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہوگئی تو حکومتی اتحاد ایک مرتبہ پھر مضبوط دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اگر معاملات طے نہ ہوئے تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر کے بعد پارلیمانی سیاست میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی اختلافات ختم کرکے ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں یا اتحادی سیاست کا یہ نیا بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔

Back to top button