اسلام آباد ہائی کورٹ کا فوج اور نیوی کیخلاف انکوائری کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد میں نیوی گالف کورس اور مونال ریسٹورنٹ کی تعمیر غیرقانونی قرار دینے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے وزارت دفاع کو معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے تاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داران افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کو فرانزک آڈٹ کروا کر قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل پارک کی 8 ہزار سے زائد ایکٹر اراضی پر پاک فوج کے ڈائریکٹوریٹ کا ملکیتی دعویٰ بھی مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ پاک بحریہ اور پاک فوج نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر قوانین کی خلاف ورزی کی اور یہ قانون کی حکمرانی کمزور کرنے کا ایک مثالی کیس تھا۔
ائیرلفٹ پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کیوں کر رہی ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلہ میں پاک فوج کے فارمز ڈائریکٹوریٹ کا مونال ریسٹورنٹ کے ساتھ لیز معاہدہ بھی غیرقانونی قراردے دیا گیا۔ ایک سو آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں اسلام آباد انوائرمنٹل کمیشن کی رپورٹ کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومتی عہدیداران کا فرض ہے کہ وہ مارگلہ ہلز کا تحفظ کرے بجائے کہ اسے کاروباری مفادات کے لیے تباہ و برباد کرنے کی اجازت دے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے قرار دیا کہ مارگلہ ہلز کے محفوظ نوٹیفائیڈ ایریا کی بے حرمتی میں ریاستی اداروں کا ملوث ہونا سراسر ستم ظریفی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پاک بحریہ اور پاک فوج نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر نافذ شدہ قوانین کی خلاف ورزی کی۔ یہ قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے اور اشرافیہ کی مضبوط گرفت کا ایک مثالی کیس تھا۔
عدالت نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ مارگلہ ہلز کو پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کے لیے اقدامات کرے تاکہ اسے مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس سے قبل 11 جنوری 2022 کو اسی کیس میں شارٹ آرڈر جاری کیا تھا جس کا تفصیلی فیصلہ اب جاری کیا گیا ہے۔
