سوشل میڈیا پر مہنگائی پر تنقید میں ’’سموسہ‘‘ زیر بحث کیوں؟

ملک میں مہنگائی ہاٹ ٹاپک (Hot Topic) بن گئی ہے، یہاں تک کہ دو اجنبی بھی گفتگو کا آغاز مہنگائی سے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافے کے بعد آج کل مہنگائی حیرت کے احساس سے زیادہ ایک سنگین خدشے میں بدلتی جا رہی ہے۔
بہت سے صارفین اب سوشل میڈیا پر ایسی سٹریٹ فوڈ یا سنیکس کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں جو پچپن میں تو جیب خرچ میں آرام سے آ جاتی تھی مگر اب ان کے دام حیرت انگیز طور پر زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اسی بارے میں بات کرتے ہوئے ایک صارف انعم فاطمہ نے جب ٹویٹ کیا کہ ’اب سموسہ بھی 40 روپے کا ہو گیا ہے‘ تو جیسے انھوں نے متعدد صارفین کی دل کی بات کر دی ہو، اسی طرح ہیسم نے لکھا کہ ان کا پسندیدہ پراٹھا رول 400 روپے کا ہے تو حمنہ کہتی ہیں کہ ننھی سی ڈیری ملک چاکلیٹ 20 روپے کی ہے۔
تاہم کچھ صارفین نے انعم کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شہر یا علاقے میں سموسہ اب اس سے بھی مہنگا ہو گیا ہے جبکہ کچھ نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ سموسہ صرف پانچ یا دس روپے کا ہوا کرتا تھا۔
سعد نامی صارف نے لکھا کہ ’ایک وقت تھا جب 20 روپے کا نان سموسہ ملا کرتا تھا۔ہمیں معلوم ہے کہ گندم، پیٹرول، ڈالر، چاول اور کوکنگ آئل جیسے پراڈکٹس کی قیمتیں حالیہ عرصے میں بڑھی ہیں مگر شاید کچھ لوگ سموسے اور دیگر سنیکس کے مہنگے ہونے پر معاشی صورتحال کا بہتر اندازہ لگا پاتے ہیں۔
سموسے یا پکوڑے عام طور پر گھروں یا دفتروں میں چائے کے ساتھ کھانے کی روایت ہے جبکہ بازاروں میں خریداری کے لیے آئے افراد کے لیے ’سموسہ پلیٹ‘ یا ’سموسہ چاٹ‘ کھانے کی روایت خاصی پرانی ہے۔
سموسہ ایک ایسا ’سنیک‘ ہے جو پاکستان بھر میں مختلف اقسام اور اشکال میں مقبول ہے اور فوری بھوک مٹانے کے لیے بہترین غذا سمجھی جاتی ہے، پاکستان میں اس وقت معاشی اعتبار سے مزید سخت فیصلے لیے جانے کا امکان ہے اور آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
سموسے عموماً تہواروں کے موقع پر بھی اور خصوصاً رمضان میں افطار کے موقع پر بازار سے منگوائے جاتے ہیں، سموسوں کی ’فلنگ‘ مختلف اقسام کی ہوتی ہے لیکن عام طور آلو کے سموسوں کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے، اسلام آباد میں مختلف دکانوں سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ وہاں بھی سموسے کا ریٹ 40 روپے سے تجاوز کر چکا ہے، سموسے عام طور تیل میں تلے جاتے ہیں جس کی قیمت پاکستان میں گذشتہ کئی ماہ کے دوران بڑھ رہی ہے۔
سویرا نامی صارف نے سموسوں کی بجائے ایک اور ’سنیک‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب تو نوڈلز کھانے کے بھی پیسے نہیں ہیں تاہم اس دوران ایسے انڈین صارفین نے جلتی پر تیل کا کام کیا جنھوں نے بتایا کہ ان کے ہاں تو سموسے 10 یا 15 روپے کے ہی ملتے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ دلی آئیں تو آپ کو 15 روپے کا کھلاؤں گا، پیٹ بھر کر کھائیں، ایک صارف نے ریٹ بڑھنے کے ساتھ سموسے کا سائز کم ہونے کا شکوہ بھی کیا جب ایک نے پوچھا کہ کیا اس میں ’پیٹرول شامل کیا جاتا ہے جو یہ اتنا مہنگا ہے۔
پیکٹ والے بسکٹس اور چپس کے مہنگے ہونے پر ایک صارف نے لکھا کہ ’دس والی لیز 20 روپے میں۔ نوڈلز دن بدن چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں، 10 روپے کے پرنس بسکٹ میں صرف دو بسکٹ۔ چاکلیٹس کی تو بات نہ کرے کوئی۔ مجھے نہیں رہنا یہاں۔
کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کو مہنگائی کی ایک مخصوص شکل ’شرینک فلیشن‘ کا بھی سامنا ہے جس میں پیکچ پراڈکٹس کی قیمت اگر برقرار رہے تو ان کی مقدار اور سائز کم کر دیئے جاتے ہیں، فرحان نامی صارف کہتے ہیں کہ ’بسکٹ اور چپس بھی اب لگثری آئٹم میں شمار ہوتے ہیں۔
انس حفیظ نامی صارف نے لکھا کہ ’مجھے جہاں تک یاد ہے، میرے ہوش میں بوتل (کولڈ ڈرنک) کی کم سے کم قیمت تقریباً 8 روپے تھی، ادھر مقدس کہتی ہیں کہ جو حالات چل رہے ہیں، لگتا ہے کچھ دن تک نوڈلز بھی ہماری اوقات سے باہر ہو جائیں گے۔
