سعودی عرب دفاعی معاہدہ: دروازہ کسی اور ملک کیلئے بھی بند نہیں، وزیر دفاع

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی اور ملک کی شمولیت کے بارے میں کہنا قبل از وقت ہے، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی حملہ ہوا تو یہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور مل کر اس کا جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے وقار میں اضافہ ہے۔

ادھر لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے خارجہ پالیسی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے بلکہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

Back to top button