سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، حوثی حملوں کی مذمت

سعودی عرب کی کابینہ نے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے حوثی ملیشیا کے حملوں اور مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر غور کیا۔ اجلاس میں مملکت کی سلامتی،اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری سے متعلق متعدد اقدامات کی بھی منظوری دی گئی۔
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں علاقائی صورت حال، فلسطین سمیت اہم عالمی امور اور سعودی عرب کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کے آغاز پر شہزادہ محمد بن سلمان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق،مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ ہونےوالی ملاقاتوں اور بات چیت کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا۔
کابینہ نے سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی۔ اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سعودی عرب پر حملوں کی صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے: خواجہ آصف
سعودی کابینہ نے واضح کیاکہ مملکت اپنی خود مختاری،شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کےلیے اقدامات جاری رکھےگی۔حملوں میں زخمی ہونےوالے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کو روکنے کےلیے عرب ممالک کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندانہ پالیسیوں،آبادکاری اور جبری بےدخلی کی مخالفت کی۔
