اڈیالہ جیل کی سکیورٹی مزید سخت، 435 اہلکار تعینات

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کی سکیورٹی مزید سخت کر کے وہاں تعینات نفری میں مذید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جیل کے اطراف اہم مقامات پر اضافی پولیس ناکے قائم کرتے ہوئے مجموعی طور پر 435 پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے گردونواح میں 8 اہم مقامات پر پولیس ناکے قائم کر دیے گے ہیں۔ داہگل، گیٹ نمبر ایک، گیٹ نمبر پانچ، فارماسیوٹیکل فیکٹری اور گورکھپور سمیت مختلف مقامات پر ناکے لگا دیے گے ہیں، جبکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی فیز 8، چکری اور ٹھلیاں میں بھی اضافی ناکے قائم کیے جائیں گے۔

اڈیالہ جیل کی سکیورٹی پر مجموعی طور پر 435 اہلکار تعینات کرنے کے علاوہ سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے رائٹ مینجمنٹ، ضلعی پولیس، ایلیٹ فورس اور ڈولفن فورس کے اہلکاروں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، اسکے علاوہ جیل کے اطراف مشکوک اور غیر ضروری نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی پلان کے تحت داہگل سے گورکھپور تک بعض پیٹرول پمپس، ہوٹلوں اور دکانوں کو بند کرایا جائے گا تاکہ جیل کے اطراف لوگوں کی غیر ضروری آمدورفت محدود رکھی جا سکے۔ سکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایس پی صدر اور انچارج ڈی ایس پی صدر کریں گے جبکہ نیا سکیورٹی پلان تاحکم ثانی نافذ رہے گا۔

یہ سکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے ایک نئی بڑی سیاسی مہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ماضی میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ، احتجاجی تحریکوں اور مختلف احتجاجی کالز کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، تاہم ان میں سے بیشتر اپنی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور میں کمی آئی ہے اور پارٹی کی سابقہ احتجاجی کالز کے مقابلے میں عوامی اور کارکنوں کی شرکت بھی محدود رہی ہے۔

اس مرتبہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر سے احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اسے عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اس احتجاج کی کامیابی کے امکانات فی الحال بہت زیادہ دکھائی نہیں دیتے۔ سیادی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے بعض سپورٹرز کی امیدیں پہلے کی نسبت کمزور ہو چکی ہیں اور وہ دوبارہ بڑے پیمانے پر سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق ماضی کی مسلسل احتجاجی کالز، مقدمات اور گرفتاریوں کے بعد پارٹی کارکنوں کے جوش میں کمی آئی ہے، جس کے باعث 27 ستمبر کی کال کو عملی طور پر متحرک کرنا تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے متوقع احتجاج نے قانونی شکل بھی اختیار کرلی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد میں احتجاج لائے جانے سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے احتجاج سے متعلق مختلف بیانات اور اخباری تراشے عدالت میں پیش کیے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے متعدد معاملات پہلے ہی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زیرالتوا مقدمات کی بنیاد پر سڑکوں پر احتجاج کو جواز بنایا جائے تو ملک بھر میں دیگر مقدمات کے فریقین بھی یہی راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔
وکیل نے 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دوران اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی اور تین رینجرز اہلکار شہید ہوئے، جبکہ احتجاج کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف تھا کہ احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں اور عدالتوں پر دباؤ ڈالنا قابل قبول نہیں، جبکہ آئین اور قانون کے تحت حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتجاج پر مناسب پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سماعت کے دوران وکیل نے سرکاری مشینری کے استعمال کے خدشے کا بھی اظہار کیا اور وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط عدالت میں پیش کیا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ فریق کو اپیل پر دلائل دینے کے مواقع دیے گئے، تاہم قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرلز پولیس اور ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔

Back to top button