کہیں فوج سسٹم ری سیٹ کرتے ہوئے اسے الٹا ہی نہ دے

سہیل وڑائچ کا تجزیہ

جیو نیوز سے وابستہ معروف صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ انہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خدشہ لاحق ہوتا جا رہا ہے کہ کہیں پاکستان کے طاقتور فیصلہ ساز موجودہ سسٹم کو ری سیٹ کرنے کے چکر میں اسے الٹا ہی نہ دیں۔ سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے استعاراتی کالم بعنوان ’منجی تھلے ڈانگ‘ میں پنجاب کی روایتی چارپائی، ڈانگ، سوٹے، چولوں اور بان کو استعارہ بنا کر موجودہ سیاسی صورت حال اور ریاستی نظام میں پیدا ہونے والی بے چینی کا تجزیہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج سیاسی منظرنامے میں ’’منجی تھلے ڈانگ پھیرنے‘‘ اور ’’منجی ٹھوک دینے‘‘ کے محاورے غیر معمولی معنویت اختیار کر گئے ہیں اور ان کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق عام طور پر سیاسی نظام میں اپوزیشن مشکلات کا شکار ہوتی ہے جبکہ اقتدار میں موجود لوگ نسبتاً محفوظ رہتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں معاملہ مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے بقول ری سیٹ یا نظام میں بڑی تبدیلی کے منصوبے کے تحت صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے حلقے بھی دباؤ کی زد میں آ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں موجودہ بندوبست میں ’’اپنا یا پرایا‘‘ اور ’’اتحادی یا مخالف‘‘ اتنا اہم نہیں رہا جتنا مطلوبہ ایجنڈا ہے۔

سہیک وڑائچ کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جب ریاستی طاقت کسی مخصوص مقصد کے حصول کے لیے متحرک ہوتی ہے تو اس کے راستے میں آنے والے افراد یا سیاسی قوتوں کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔ اسی لیے وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اہلِ حکم کو اس بات کی پروا نہیں کہ اس عمل میں کس کی ’’منجی ٹھکتی‘‘ ہے، کس کا سیاسی بستر گول ہوتا ہے یا کون اس عمل سے متاثر ہوتا ہے۔ صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث کو بھی سہیل وڑائچ نے ’’ڈانگ‘‘ کے استعارے سے جوڑا ہے۔ ان کے خیال میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ اس کے ساتھ طاقت، اختیار اور سیاسی مفادات کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس معاملے میں طاقت اور دباؤ کا استعمال بڑھا تو سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ ماحول سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ سیاسی معاملات کو اتفاقِ رائے، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ’’ڈانگ چک لئی گئی اے‘‘ کا پنجابی محاورہ استعمال کرتے ہوئے وہ دراصل یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فریقین ایک دوسرے کو سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کی تیاری میں دکھائی دے رہے ہیں اور تصادم کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سہیل وڑائج کی تحریر کا ایک اہم حصہ سیاسی نظام کی بیماری کے استعارے پر مبنی ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ خیال موجود تھا کہ نظام صرف کمزور یا ڈھیلا پڑا ہے اور بااختیار بلدیاتی اداروں سمیت کچھ اصلاحات کے ذریعے اسے دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اب صورت حال اس سے زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے اور یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آیا نظام صرف ’’ڈھیلا‘‘ ہے یا واقعی اپنی بنیادوں میں کمزور ہوچکا ہے۔

لکڑی کی چارپائی کی ٹیڑھے پن کی مثال دیتے ہوئے وہ اداروں کے درمیان اختیارات کے عدم توازن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مسئلہ صرف اداروں کے درمیان طاقت کے توازن کا ہوتا تو اسے وقت، سیاسی عمل اور جمہوری وزن کے ذریعے درست کیا جاسکتا تھا۔ لیکن موجودہ صورتحال میں انہیں خدشہ ہے کہ مسئلہ محض کسی ایک ادارے یا ایک حصے کی خرابی تک محدود نہیں رہا۔
وہ ’’نظام کے ترکھان اور بڑھئی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرکے ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو موجودہ سیاسی و ریاستی نظام میں اصلاحات یا تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اگر نظام کے کمزور حصوں کو درست کرنے کے نام پر اس کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اصلاح کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق چارپائی کا اصل وزن اور افادیت اس کے بان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسی طرح سیاسی نظام کا اصل سہارا عوام ہیں۔ ان کے خیال میں سیاست میں عوام کا نام تو بہت لیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر ان کی رائے، ضروریات اور سیاسی اختیار کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
اسی تناظر میں وہ صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی بحث کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ اسمبلیاں عوام کے ووٹ سے وجود میں آئی ہیں تو پھر انہی اسمبلیوں کے ذریعے قانون سازی یا آئینی معاملات طے کرنے کے بجائے بعض معاملات میں براہِ راست عوامی ریفرنڈم کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصول تسلیم کرلیا جائے کہ اسمبلیاں عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں اور عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم ہی واحد ذریعہ ہے تو پھر یہی اصول ہر اہم آئینی ترمیم پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اس طرح وہ دراصل موجودہ سیاسی بندوبست کی نمائندگی اور اس کے مینڈیٹ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کو نمایاں کر رہے ہیں۔

سینیئر صحافی کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ نظام کو درست کرنے کے نام پر کہیں پورا سیاسی ڈھانچہ ہی نہ الٹ دیا جائے۔ وہ ’’ناتجربہ کار بڑھئی‘‘ کی مثال دے کر خبردار کرتے ہیں کہ اگر اصلاحات کرنے والے بنیادی سیاسی اور آئینی اصولوں سے ناواقف یا ان سے بے نیاز ہوں تو ان کی کوشش نظام کی مرمت کے بجائے اسے مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اسی لیے وہ سیاست کے ’’اتائیوں‘‘ سے نظام کا علاج کرانے کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاسی نظام کوئی ایسی چارپائی نہیں جس کے ایک حصے کو کاٹ کر یا ایک جوڑ کو توڑ کر فوراً درست کیا جاسکے۔ یہ ایک مربوط ڈھانچہ ہے جس میں آئین، پارلیمنٹ، ادارے، سیاسی جماعتیں اور سب سے بڑھ کر عوام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

سہیل وڑائچ کا حتمی پیغام یہ ہے کہ سیاسی نظام کی مرمت طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے۔ چارپائی کے بان، بازو، پائے اور چولیں ایک دوسرے کے تعاون سے اسے مضبوط رکھتے ہیں، اسی طرح ریاستی نظام بھی مختلف اداروں اور عوام کی رضامندی سے ہی مستحکم رہ سکتا ہے۔

وہ بالآخر خبردار کرتے ہیں کہ اگر ’’منجی‘‘ یعنی سیاسی نظام واقعی الٹ گئی تو اس کا نقصان صرف اپوزیشن یا عام عوام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے جو اس وقت نظام کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ طاقت کے ذریعے نظام کو سیدھا کرنے کی کوشش میں کہیں ایسا نہ ہو کہ پورا نظام ہی اوندھا ہو جائے۔

Back to top button