نائن الیون حملوں کے 25 برس بعد ہوشربا انکشافات

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے 25 برس بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ دہشت گردوں نے 4 جہازوں کو ہائی جیک کرنے کے لیے میزائل یا کسی بڑے فوجی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا تھا بلکہ ان کے ہاتھوں میں چند معمولی باکس کٹر تھے، جن کی مدد سے انہوں نے مسافر طیارے اغوا کیے اور پھر انہی جہازوں کو ہتھیار بنا ڈالا۔ اس ہولناک واقعے کا بنیادی سبق یہ تھا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے ہمیشہ بڑے ہتھیار درکار نہیں ہوتے، بلکہ چالاک دہشت گرد، محتاط منصوبہ بندی اور سکیورٹی نظام کی ایسی کمزوری بھی کافی ہوتی ہے جو سب کے سامنے موجود ہونے کے باوجود کسی کو دکھائی نہ دے۔
تاہم 25 برس بعد دہشت گردی کا خطرہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے اور اب ڈرون، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے دہشت گرد گروہوں کے لیے تباہی کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو القاعدہ سے وابستہ 19 ہائی جیکرز نے چار مسافر طیارے اغوا کیے تھے۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، ایک طیارہ واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے جا ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور اس واقعے نے نہ صرف امریکی سلامتی کی پالیسی تبدیل کی بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک نیا دور شروع کیا۔
نائن الیون حملوں کے 25 برس بعد امریکی میگزین نیوز ویک کی خصوصی رپورٹ نے اسی واقعے کے بنیادی سبق کو موجودہ دور کی نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنے طریقۂ واردات کو تبدیل کر لیا ہے۔
نیوز ویک کے مطابق نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال ہونے والی سب سے اہم چیز جدید فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انتہائی سادہ اوزار تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 25 برس کے دوران ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دہشت گرد گروہوں کے لیے خطرناک صلاحیتیں حاصل کرنے کی رکاوٹیں کم کر دی ہیں۔ ماضی میں جدید فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے بھاری وسائل، تربیت اور ریاستی سرپرستی درکار ہوتی تھی، لیکن اب ڈرون، مصنوعی ذہانت اور دیگر دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز عام مارکیٹ اور انٹرنیٹ کے ذریعے زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں۔
اس تبدیلی کی نمایاں مثال داعش کا ڈرونز کا استعمال ہے۔
نیوز ویک کے مطابق ایک وقت میں ڈرون جنگ کا تصور انتہائی مہنگے فوجی طیاروں سے وابستہ تھا، لیکن داعش نے مارکیٹ میں دستیاب نسبتاً سستے کمرشل کواڈ کاپٹرز کو نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال کرکے اس تصور کو تبدیل کر دیا۔ اس سے دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع ملا کہ وہ کم لاگت کے آلات کو نگرانی، حملہ اور پروپیگنڈے، تینوں مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اسی دوران داعش کی آن لائن سرگرمیوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ جدید دہشت گرد تنظیم کے لیے میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا بھی بھرتی اور پروپیگنڈے کا اہم محاذ بن چکی ہے۔
داعش کی عالمی رسائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2013 سے 2019 کے دوران تقریباً 53 ہزار مرد، خواتین اور بچے 80 ممالک سے داعش کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے شام اور عراق پہنچے۔ ماہرین کے مطابق اس عمل میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کردار غیر معمولی تھا۔ داعش کی نام نہاد خلافت 2019 میں اپنے علاقائی کنٹرول سے محروم ہو گئی، لیکن اس کے نیٹ ورکس اور مختلف خطوں میں موجود شاخیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
اب اس خطرے کا ایک اہم مرکز داعش خراسان یعنی داعش-کے بھی ہے، جس نے مصنوعی ذہانت کے امکانات کو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
معروف تجزیہ کار عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض مستقبل کا مفروضہ نہیں رہا۔ انکے مطابق 2025 میں پاکستان میں کم از کم 1063 عسکریت پسند حملے ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ تھے اور 2014 کے بعد ایک سال میں سب سے زیادہ حملے تھے۔ اسی رپورٹ میں چھوٹے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال میں اضافے کی نشاندہی کی گئی اور 2025 کے دوران ایسے کم از کم 33 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
یاد ریے کہ خیبر پختونخوا میں ڈرون کے استعمال کے عملی شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔
جولائی 2025 میں بنوں میں پولیس کے مطابق دو کواڈ کاپٹر واقعات میں ایک خاتون جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے تھے، جبکہ اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے حملوں یا کوششوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی تھیں۔ رائٹرز نے بھی جولائی 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ شمال مغربی پاکستان میں عسکریت پسند کمرشل طور پر دستیاب کواڈ کاپٹرز کو سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ یہ صورت حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا اگلا مرحلہ ’’سوارمنگ‘‘ یعنی بیک وقت بڑی تعداد میں ڈرونز کے مربوط استعمال کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ایک ماہر ڈرون یا مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والا آپریٹر ایک وقت میں متعدد اہداف کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جبکہ دفاع کرنے والے ادارے کو ہر سمت سے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں بڑے سیاسی جلسے، مذہبی اجتماعات، کرکٹ اسٹیڈیم، ایئرپورٹس، توانائی کے منصوبے، ڈیمز اور دیگر اہم تنصیبات ایسے اہداف ہیں جہاں محدود وسائل کے ساتھ مکمل فضائی نگرانی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ڈرون جنگ نے حملے اور دفاع کی معاشیات بھی تبدیل کر دی ہیں۔ نسبتاً سستا ڈرون کسی بڑے یا حساس ہدف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسے روکنے کے لیے روایتی میزائل یا مہنگا دفاعی نظام درکار ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے کاؤنٹر ڈرون نظام میں صرف مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ ڈرون کی بروقت شناخت، ریڈار اور دیگر سینسرز، الیکٹرانک جیمنگ اور کم لاگت والے دفاعی طریقوں کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نائن الیون کے 25 برس بعد سامنے آنے والا ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ بڑے نتائج کے لیے ہمیشہ بڑا حملہ ضروری نہیں ہوتا۔ آج کے دور میں بھی کسی محدود دہشت گرد کارروائی، غلط نسبت، جعلی ویڈیو یا دانستہ اشتعال انگیزی سے ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس کے نتائج اصل حملے سے کہیں زیادہ وسیع ہوں۔
مختصرا نائن الیون کا سبق یہی تھا کہ کبھی معمولی سا ہتھیار بھی غیر معمولی تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور آج کا سبق یہ ہے کہ معمولی نظر آنے والی ٹیکنالوجی بھی کل بڑے بحران کی بنیاد بن سکتی ہے۔
