سلیم صافی نے کس فوجی فارمولے کی حمایت کر دی؟

جیو نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی سلیم صافی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نئے صوبوں کی تجویز کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار صوبوں کی موجودہ ہیئت قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی جس میں تبدیلی نہ کی جا سکے، ویسے بھی جس طرح پاکستان چلایا جا رہا ہے اگر ویسے ہی چلتا رہا تو ایک روز ہم ملک سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی نے ملک کے موجودہ انتظامی، مالی اور سیاسی ڈھانچے پر تفصیلی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ہم نے چار صوبوں کی شکل میں چار ملک بنا دیے ہیں، جبکہ وفاق کو درپیش مالی مشکلات اور عوام کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے موجودہ انتظامی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق وفاق جو محصولات جمع کرتا ہے، ان کا بیشتر حصہ این ایف سی کے تحت صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے جبکہ مرکز مالی طور پر کمزور رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی میں حصہ نہیں ملتا، اسلیے ان کی مالی ضروریات بھی بالآخر وفاق کو ہی پوری کرنا پڑتی ہیں۔
سلیم صافی کے بقول یہی وجہ ہے کہ گزشتہ بجٹ کے دوران وفاقی حکومت کو صوبوں سے منت ترلہ کرکے کچھ رقم واپس لینی پڑی، تاہم انکے مطابق اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کا رویہ انتہائی سخت ہے اور وہ مرکز کو وسائل دینے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پیدا ہونے والے مالی مسائل کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ 2018ء میں جب فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہو رہا تھا تو سرتاج عزیز کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ دس سال تک ڈویزیبل پول کی تین فیصد رقم فاٹا کے لیے مختص کی جائے تاکہ اس علاقے کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کی کوشش کی جا سکے۔
سلیم صافی کے مطابق اس مقصد کے لیے وہ بارہا عمران خان حکومت کے متعلقہ عہدیداروں کو متوجہ کرتے رہے کہ این ایف سی کا اجلاس بلایا جائے، تاہم انہیں جواب ملتا رہا کہ سندھ اس پر رضامند نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف حکومت کے دور میں بھی یہی مؤقف سامنے آتا رہا کہ سندھ حکومت اس معاملے پر تیار نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ، بلوچستان یا خود خیبر پختونخوا سے زیادہ غریب ہے کہ فاٹا کے لیے مختص رقم کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کی جائے؟ ان کے مطابق اگر گزشتہ آٹھ برس کے دوران خیبر پختونخوا کو فاٹا کے حصے کے تین فیصد ڈویزیبل پول کی رقم نہیں مل سکی تو اس کی ذمہ داری صرف وفاقی حکومتوں پر نہیں بلکہ سندھ کی پیپلز پارٹی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔
سلیم صافی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فاٹا کی تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی خیبرپختونخوا میں شامل ہو چکی ہے، اس لیے قابل تقسیم محاصل کی تقسیم کا فارمولا بھی تبدیل ہونا چاہیے اور خیبر پختونخوا کا حصہ اس کی نئی آبادی کے تناسب سے بڑھنا چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق اس معاملے پر بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو رہی اور صوبے کو آج بھی اسی فارمولے کے تحت حصہ مل رہا ہے جس کے تحت فاٹا کے انضمام سے پہلے ملتا تھا۔
ان کے مطابق چاروں صوبے اپنے اپنے وسائل کے حوالے سے اس قدر خودمختار اور حساس ہو چکے ہیں کہ وہ نہ تو مرکز کو وسائل منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی صوبائی سطح سے نچلی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم پر آمادہ ہیں۔ حالانکہ جس آئین کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم محاصل سے کھربوں روپے ملتے ہیں، اسی آئین کے تحت پاکستان میں حکومت کے تین درجے، یعنی وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں، موجود ہیں۔
سلیم صافی نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو منظور ہوئے 16 برس گزر چکے ہیں لیکن اس عرصے کے دوران کسی بھی صوبے نے حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم نہیں کیں۔ عدالتوں کے احکامات پر کبھی کبھار بلدیاتی انتخابات ضرور کرائے گئے لیکن منتخب نمائندوں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے ضلع کونسل یا تحصیل کونسل اور حقیقی ضلعی یا تحصیلی حکومت کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ محض کونسلوں کے انتخابات کرا دینا مقامی حکومتوں کے قیام کے مترادف نہیں۔ ان کے خیال میں صوبوں کو نہ صرف بااختیار مقامی حکومتیں منتخب کرانی چاہئیں بلکہ وفاقی فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن بھی قائم کرنا چاہیے تاکہ مرکز سے صوبوں کو ملنے والی رقم ایک واضح فارمولے کے تحت اضلاع میں تقسیم ہو سکے۔
سلیم صافی کے مطابق موجودہ صورت حال میں ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں بادشاہ بنا ہوا ہے اور اگر وہ ایک ضلع کو 100 ارب روپے دے اور دوسرے ضلع کو ایک ارب روپے بھی نہ دے تو اس سے پوچھنے والا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ صوبوں کے وسائل میں بے تحاشا اضافہ ہونے کے باوجود عام شہری کے معیار زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں کی محرومیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں اور شہری شکایت کرتے ہیں کہ اندرون سندھ کی نمائندہ پیپلز پارٹی حکومت انہیں ان کا جائز حق نہیں دے رہی، تو دوسری طرف پنجاب کے جنوبی اضلاع کو شکایت ہے کہ ان کے حصے کی رقم کا نصف بھی ان پر خرچ نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا یے کہ اکیسویں صدی میں بھی ملک کے چاروں صوبوں میں ایسے اضلاع موجود ہیں جہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔
سلیم صافی نے کہا کہ ایک طرف عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب کی وزریر اعلیٰ سرکاری وسائل بے دریغ خرچ کر رہی ہیں۔ کوئی وزیر اعلی قیمتی جہاز خریدتا ہے، کوئی چارٹر طیاروں میں سفر کرتا ہے، کوئی اربوں روپے دبئی منتقل کرتا ہے اور کوئی مغربی ممالک میں محلات خریدتا ہے، جبکہ عام آدمی دن بدن اس نظام سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔
سلیم صافی نے نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو کہا کہ صوبوں کی موجودہ ہیئت کوئی آسمانی یا اٹل حقیقت نہیں۔ یہ صوبے ماضی میں بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ بہاولپور ماضی میں ایک الگ ریاست تھی جسے بعد میں پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا، جبکہ سوات اور دیر کی ریاستیں بھی بعدازاں خیبرپختونخوا میں ضم ہوئیں۔ اسکے علاوہ ایک وقت میں ملک کے موجودہ چار صوبوں کو ون یونٹ میں بھی تبدیل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبے مکمل طور پر لسانی بنیادوں پر بھی قائم نہیں ہیں۔ پنجاب میں پنجابیوں کے ساتھ سرائیکی اور پوٹھوہاری بولنے والی بڑی آبادی موجود ہے، بلوچستان میں بلوچوں کے علاوہ پختون اور براہوی آبادی بھی آباد ہے، جبکہ سندھ میں سندھیوں کے علاوہ اردو بولنے والے، پختون، پنجابی اور دیگر قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا بھی صرف پختون آبادی تک محدود نہیں بلکہ ہزارہ میں ہندکو بولنے والے، جنوبی اضلاع میں سرائیکی بولنے والے، جبکہ چترال میں مختلف زبانیں بولنے والی آبادی موجود ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ دلیل بھی مکمل طور پر درست نہیں کہ موجودہ صوبائی حدود کسی خالص لسانی اصول کے تحت قائم کی گئی تھیں۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صوبے نہ مکمل طور پر لسانی بنیادوں پر بنے ہیں اور نہ ہی انہیں خالص تاریخی بنیادوں پر تشکیل دیا گیا تھا تو عوام کی بہتری اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے ان کی مزید تقسیم میں کیا حرج ہے؟
