وقت آنے پر زرداری اپنی سیاست بچائیں گے یا صدارت؟

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اگر صدر آصف زرداری کو اپنی صدارت یا سیاست میں سے ایک کو بچانا ہڑا تو وہ صدارت قربان کرتے ہوئے اپنی سیاست بچائیں گے اور سندھ کی تقسیم کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے لیے نئے صوبوں کا معاملہ اس لڑائی کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جس سے وہ 2008ء سے مسلسل بچتے آئے ہیں، تاہم اب یہ تنازع ان کے دروازے پر دستک دے چکا ہے اور انہیں کسی نہ کسی مرحلے پر واضح سیاسی مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔ رؤف کلاسرا کے مطابق صدر زرداری کے لیے صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب ان کے ’منہ بولے برخوردار‘ محسن نقوی انہیں لندن میں صوبوں کی تقسیم پر آمادہ کرنے گئے، تاہم زرداری صاحب راضی نہیں ہوئے۔ چنانچہ ملک واپسی کے اگلے ہی روز محسن نقوی نے لاہور میں ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ کہ نئے صوبے تو بنیں گے، چاہے ان کی نوکری ہی کیوں نہ چلی جائے۔

کلاسرا کے بقول محسن نقوی کا یہ بیان انہیں پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب کے ایک پرانے بیان کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب روئیں یا پٹیں، یہ کام تو ہوگا۔ انکے مطابق اب اسی انداز میں محسن نقوی کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ نئے صوبے بن کر رہیں گے۔ کلاسرا کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری نے 2008ء سے ایک بنیادی سیاسی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے کہ طاقتور فوجی حلقوں سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے مفاہمت کی سیاست کو اپنی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنایا اور تقریباً 18 برس تک اسی راستے پر چلتے ہوئے سیاسی نظام میں اپنے لیے جگہ برقرار رکھی۔

تاہم تجزیہ کار کے مطابق اب صدر زرداری کو ایسے معاملے کا سامنا ہے جس میں محض مفاہمت سے کام چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ سندھ کی تقسیم تک پہنچتا ہے تو پیپلز پارٹی کے لیے خاموش رہنا یا اس کی حمایت کرنا سیاسی طور پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سندھ میں پارٹی کا ووٹ بینک اور اس کی سیاسی وراثت اس معاملے سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق صدر زرداری کو اس وقت یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے عہدے کو بچانے کو ترجیح دیتے ہیں یا سندھ میں اپنی جماعت کے سیاسی مستقبل کو۔ ان کے خیال میں اگر صدر زرداری کے سامنے صدارت اور سیاسی ووٹ بینک میں سے کسی ایک کے انتخاب کی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ ممکنہ طور پر صدارت کی قربانی دے کر اپنی سیاست اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی بنیاد بچانے کو ترجیح دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست دان لمبی اننگز کا کھلاڑی ہوتا ہے اور بعض اوقات وقتی سیاسی نقصان برداشت کر کے طویل المدتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی تناظر میں صدر زرداری کے لیے یہ زیادہ موزوں ہو سکتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی پر موجود ’پرو فوج‘ تاثر کو ختم کریں اور نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کریں۔ کلاسرا نے صدر کی ماضی کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2008ء کے بعد ایک سبق یہ سیکھا کہ طاقتور اداروں سے غیر ضروری محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔ اسی لیے زرداری نے ایک مرتبہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبرستان بھر چکا ہے اور اب مزید قربانیاں نہیں دیں گے۔

تجزیہ کار کے مطابق اس بیان میں صدر زرداری کا اشارہ تب نواز شریف کی جانب تھا کہ اگر وہ فوج سے لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں، لیکن پیپلز پارٹی اس لڑائی کا حصہ نہیں بنے گی۔ یہی طرزِ سیاست گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔ رؤف کلاسرا نے پیپلز پارٹی کی سول ملٹری معاملات میں محتاط حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے بھی سبق سیکھا۔ ان کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے بعد پیپلز پارٹی کو مرکز میں تین مرتبہ حکومت ملی لیکن کسی بھی دور میں پارٹی کی حکومت نے نیا آرمی چیف مقرر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کے پاس نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا موقع موجود تھا، لیکن اس وقت صدر زرداری نے جنرل اشفاق کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی۔ اسی طرح ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو بھی توسیع دی گئی۔

رؤف کلاسرا کے مطابق صدر زرداری کی سوچ یہ تھی کہ آرمی چیف کے لیے کسی مخصوص شخص کو تلاش کرکے اس کی ذات، برادری، ضمانتوں یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر آگے لانے کی ضرورت نہیں۔ ان کے خیال میں جو چیف پہلے سے کام کر رہا ہے، اسے ہی برقرار رکھنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ اس کے برعکس نواز شریف نے اپنے ادوارِ حکومت میں مختلف آرمی چیفس کی تقرریاں کیں اور ان فیصلوں کے نتیجے میں انہیں متعدد مرتبہ سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ جب کوئی وزیراعظم کسی مخصوص جنرل کو اپنی پسند، لابنگ یا ذاتی ضمانت کی بنیاد پر آرمی چیف مقرر کرتا ہے تو اس تقرری کو محض آئینی ذمہ داری کے بجائے ایک احسان سمجھنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال میں وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان تعلقات میں بتدریج پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری جانب جو سینئر افسران سپر سیڈ ہو جاتے ہیں، ان کے اندر بھی ناراضی پیدا ہوتی ہے اور ان کے بیچ میٹس، کورس میٹس اور قریبی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے خلاف احساسات پیدا ہوتے ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق عمران خان نے بھی جنرل فیض حمید کے معاملے میں اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں وہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں پھنس گئے۔ اس کے برعکس آصف زرداری نے عسکری معاملات سے نسبتاً فاصلہ برقرار رکھا اور براہ راست سول ملٹری تصادم سے خود کو دور رکھا۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اگرچہ یوسف رضا گیلانی حکومت کے جنرل اشفاق کیانی کے ساتھ اختلافات بھی ہوئے، لیکن یہ معاملہ اس سطح تک نہیں پہنچا جہاں صدر زرداری یا وزیراعظم گیلانی کو وہ نتائج بھگتنا پڑتے جو نواز شریف اور عمران خان کو بھگتنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی یہی احتیاط انہیں گزشتہ کئی برسوں سے بڑے سیاسی تصادم سے بچاتی رہی، لیکن اب صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے بقول نئے صوبوں کا معاملہ بالخصوص سندھ کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی پیش رفت پیپلز پارٹی کے لیے وجودی نوعیت کا سیاسی مسئلہ بن سکتی ہے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ صدر زرداری سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی سرگرمی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں اور اگر وہ اس معاملے پر واضح مزاحمت کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی پر دباؤ میں اضافہ ہونا ناگزیر ہے۔ تاہم اگر وہ اس مطالبے کو قبول کرتے ہیں تو سندھ میں پارٹی کے روایتی ووٹ بینک اور سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں صدر زرداری کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ کیا وہ صدارت سے استعفیٰ دے کر یا اسمبلیوں سے علیحدگی اختیار کرکے سڑکوں پر مزاحمت کریں گے، یا ایوان کے اندر رہتے ہوئے سیاسی لڑائی لڑیں گے؟ یا پھر وہ ایسا راستہ اختیار کریں گے جس کے نتیجے میں ان کے مخالفین انہیں اقتدار سے ہٹا دیں اور وہ اس سیاسی نقصان کو سندھ میں مزاحمت اور مظلومیت کے بیانیے میں تبدیل کر سکیں؟

رؤف کلاسرا کے مطابق اس معاملے میں صرف صدر آصف زرداری ہی نہیں بلکہ فوجی قیادت کا بھی امتحان ہے، کیونکہ دونوں فریق اب تک براہ راست تصادم سے گریز کرتے آئے ہیں، لیکن صوبوں خصوصاً سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایسی لکیر بن سکتا ہے جس پر سمجھوتا کرنا آصف زرداری کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔
تجزیہ کار کے مطابق صدر زرداری نے تقریباً 18 برس تک مفاہمت، احتیاط اور طاقتور حلقوں سے براہ راست محاذ آرائی سے گریز کی سیاست کے ذریعے اپنے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی، لیکن اب انہیں اپنی سیاست کے بنیادی مفاد اور ریاستی طاقت کے تقاضوں کے درمیان انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

https://youtu.be/_lvR1BK5EjQ

Back to top button