شبانہ اعظمی کا بھارتی مسلمان خاتون کے ریپ پر احتجاج

https://youtu.be/CfrN5-D6uGI

بہترین اداکاری پرپانچ نیشنل فلم ایوارڈزحاصل کرنیوالی بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ شبانہ اعظمی بھارتی خواتین کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران رو پڑیں۔ بھارتی خاتون بلقیس بانو کے ریپ اور انکے خاندان کو قتل کرنے والے مجرموں کی رہائی پرشبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ وہ ایک بھارتی ہونے کی حیثیت سے شرمسار ہیں۔ شبانہ کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہئے جس میں اعلیٰ ترین عدالتوں نے بھی مجرموں کا ساتھ دیا ہے بجائے کہ مظلوموں کو انصاف دیا جاتا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمیں اپنے ملک کی عورتوں کو تحفظ کا احساس نہیں دلوانا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو کیا کہوں؟ ایک عورت ہونے کے ناطے میں بلقیس سے کیا کہوں؟

شبانہ اعظمی نے یہ بھی کہا کہ ان مجرموں کی رہائی پر خاتون ممبرانِ پارلیمان خاموش کیوں ہیں، ملک میں عورتوں کی بہبود سے متعلق وزیر کی خاموشی کا کیا مطلب ہے؟ اور ان سب سے بڑھ کر عورتوں سے متعلق ملک کے قومی کمیشن نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

معروف لکھاری اور نغمہ نگار جاوید اختر کی اہلیہ شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ اس ملک میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے، کیسے کسی کو اس طرح انصاف سے محروم کیا جا سکتا ہے، بھارت کے لوگ اس طرح سڑکوں پر کیوں نہیں نکلے جیسے 2012 کے دلی ریپ کیس میں نکل پڑے تھے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ریپ ہونے والی بلقیس مسلمان ہے؟ شبانہ اعظمی کے اتنے سارے سوالوں پر ٹی وی کی اینکر ندھی رازدان نے صرف اتنا کہا کہ شبانہ جی کہیں ایسا اسی لیے تو نہیں کہ یہ بلقیس بانو تھیں نربھیہ نہیں تھی۔

شامی فوجی ہیلی کاپٹر گرکر تباہ،تمام افراد ہلاک

یاد رہے کہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران جن لوگوں نے بلقیس بانو کا ریپ کیا، بود میں اسکے خاندان کے سات لوگوں کا قتل بھی کیا گیا اور ان کی تین سال کی بچی کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار ڈالا گیا، لیکن بلقیس کے قاتلوں کو اس برس یومِ آزادی کے موقع پر رہا کر دیا گیا تھا اور آج کل زیادہ تر ٹی وی چینلز اسی بارے میں بات کر رہے ہیں۔

Back to top button