کیا میری ٹرس بطور برطانوی وزیر اعظم مدت پوری کر پائیں گی؟

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی ’’میری ایلزبتھ ٹرس‘‘ بورس جانسن کی جگہ برطانیہ کی تیسری خاتون وزیراعظم منتخب ہو گئی ہیں، تاہم بورس کی طرح ٹرس کے پاس بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ اپنےاقتدار کی مدت پوری کر پائیں گی۔ سال 2010 میں کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے برطانیہ کی باگ ڈورسنبھالنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے اور بورس جانسن، تینوں وزرائے اعظم کو استعفے دینے پڑے تھے۔ برطانوی سیاست کے انتہائی قدآور سیاست دان بھی اپنی چھٹی کروائے جانے سے نہیں بچ پائے۔ گذشتہ ایک صدی کے سب سے مضبوط ووٹ بینک کے حامل وزرا اعظم کنزرویٹو جماعت کی مارگریٹ تھیچر اور لیبر پارٹی کے ٹونی بلیئر دونوں کو اپنی جماعت کے دبائو کے باعث اقتدار سے ہٹنا پڑا۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ برطانوی اراکین پارلیمینٹ اپنے رہنماؤں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا معیوب نہیں سمجھتے۔
برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس سیکرٹری آف اسٹیٹ امور خارجہ، کامن ویلتھ، اور ڈویلپمنٹ افیئرز کے امور میں ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں، ٹرس نے سابق وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، اور بورس جانس کے ماتحت کابینہ میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ میری ٹرس نے مارٹن کالج آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کر رکھی ہے، ٹرس 1996 میں آکسفورڈ یونیورسٹی آف لبرل ڈیموکریٹس کی صدر بھی رہ چکی ہیں، جبکہ معروف پیٹرولیم کمپنی ’’شیل‘‘ اور کیبل اینڈ وائرلس کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی کی لزٹرس برطانیہ کی نئی وزیراعظم منتخب
ٹرس 2010 کے جنرل الیکشن کے دوران سائوتھ ویسٹ نورفولک سے نمائندہ منتخب ہوئیں، جہاں انھوں نے چائلڈ کیئر، بچوں کی تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں کلیدی خدمات انجام دیں، ٹرس انگلینڈ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کی بہت بڑی حامی رہی ہیں، اور اس مہم میں پیش پیش رہیں۔
ٹرس کو سابق وزیراعظم بورس جانسن کی بھی حمایت حاصل رہی ہے، جن کے دور میں وہ سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹرنیشنل ٹریڈ اور صدر بورڈ آف ٹریڈ کے عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہیں۔ میری ٹرس 26 جولائی 1975 کو آکسفورڈ میں پیدا ہوئیں، ٹرس کے والد کا شمار ریاضی کے بڑے پروفیسرز میں ہوتا ہے، جبکہ ٹرس کی والدہ بھی بولٹن سکول میں لاطینی زبان کی ٹیچر ہونے کے ساتھ بطور نرس، ٹیچر اور ایٹمی توانائی مہم کی ممبر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہیں۔
ٹرس نے اپنے پروفیشنل کیرئیر کا آغاز 1996 میں شیل کمپنی میں ملازمت سے کیا جبکہ اس کے بعد کیبل اینڈ وائرلیس کمپنی سے بھی وابستہ رہیں، ٹرس کو پہلے دو الیکشنوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرس نے 2012 سے 2014 تک مختلف وزارتوں پر ذمہ داریاں انجام دیں، 2014 سے 2016 تک ماحولیات کی سیکرٹری کے عہدے پر فرائض انجام دیتی رہیں، 2016 سے 2017 تک جسٹس سیکرٹری رہیں۔2017 سے 2019 کے دوران چیف سیکرٹری خزانہ رہیں جبکہ 2019 سے 2021 تک انٹرنیشنل ٹریڈ سیکرٹری کے عہدے پر ذمہ داریاں انجام دیں۔
واضح رہے کہ ’’میری ایلزبتھ ٹرس‘‘ ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہی ہیں جب ملک کو معاشی بحران اورکساد بازاری کا سامنا ہے، بورس جانسن کی قیادت میں وزیر خارجہ لز ٹرس نے برطانیہ کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے تیزی سے کام کرنے کا وعدہ تھا اور کہا تھا کہ وہ ’ایک ہفتے کے اندر توانائی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے نمٹنے اور مستقبل میں ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک منصوبہ لے کر آئیں گی۔ ٹرس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عندیہ دیا کہ وہ ٹیکس میں اضافے کو ختم اور دیگر محصولات میں کمی کر کے کنونشن کو چیلنج کریں گی جن کے بارے میں بعض ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، لز ٹرس کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا جس کے بارے میں حزب اختلاف کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ 12 سال کی غریب کنزرویٹو حکومت کا نتیجہ ہے۔
