بطور وزیراعظم شہباز اپنی سپیڈ کیوں نہ دکھا پائے؟

بطور وزیراعلیٰ دن رات ایک کر کے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کروانے کے حوالے سے پاکستان سمیت چین میں پہچان بنانے والے شہباز شریف وزارت اعظمیٰ پر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں، موجودہ حکومت کے ایک سال میں حالات جوں کے توں رہے ہیں۔چکی کے آٹے کا 10 کلو گرام کا تھیلا جو ایک سال قبل تقریباً 11 سو روپے میں دستیاب تھا اب وہ 17 سو روپے سے تجاوز کر چکا تھا جبکہ 2018ء میں یہی تھیلا 400 سے 410 روپے میں خریدا جارہا تھا یعنی گزشتہ چار ساڑھے چار سال میں آٹے کی قیمت چار گنا بڑھ چکی ہے۔
ملک میں مجموعی قیمتوں میں اضافے کی شرح 35.3 فیصد، دیہی علاقوں میں غذائی اجناس کی مہنگائی 50 فیصد، شہروں میں مہنگائی 18.6 فیصد اور دیہی علاقوں میں 23.1 فیصد ہوگئی ہے۔ یعنی گزشتہ 5 سال میں عام استعمال کی اشیا کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں جبکہ غذائی اجناس کی قیمتیں گزشتہ ساڑھے 3 سال میں دگنی ہوگئی ہیں، مارچ کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 45 سے 41 فیصد رہی ہے۔
5 سال کا جائزہ لیا جائے تو روپے کی قدر میں بہت تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت جب 2018ء میں ختم ہوئی تو روپے کی قدر 123 روپے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے دور اقتدار کے خاتمے کے وقت ایک ڈالر 186 روپے کا ہوگیا تھا۔ یعنی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ڈالر 63 روپے کے لگ بھگ مہنگا ہوا۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اور چار اپریل 2023ء کو ڈالر 3 روپے 46 پیسے اضافے کے بعد 288 روپے 50 پیسے ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے بڑھ کر 291 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی بنیادی شرح سود 12.25 فیصد تھی جو بڑھ کر 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 42 کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے جوکہ اب مارچ کے وسط میں 10 ارب 13 کروڑ ڈالر ہوگئے۔پاکستان کے قرض میں گزشتہ 7 برسوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
ڈالر کے مجموعی بیرونی قرضوں میں سے مالیاتی اداروں کا حصہ 42 فیصد ہے اور مختلف ممالک سے قرض تقریباً 38 فیصد ہے، ممالک میں سب سے زیادہ چین کا 23 ارب ڈالر حصہ ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں پاکستان نے 10 ارب 21 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے قرضے واپس کیے ہیں۔
روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، عمران خان کی حکومت جانے کے بعد نیا حکومتی سیٹ اپ بھی پیٹرولیم کی قیمت بڑھانے پر تیار نہ تھا، اس کے بعد پیٹرول کی قیمت 149.86 سے بڑھا کر 179.86 روپے کردی گئی، اس کے بعد سے ایندھن کی قیمت اضافوں کے بعد 272 روپے ہوگئی ہے۔ اس میں 50 روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی، 6 روپے آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن، 7 روپے ڈیلر مارجن اور 1.84 روپے ان لینڈ فریٹ کی رقم شامل ہے۔
موجودہ حکومت نے جنوری 2023ء سے مقامی قدرتی گیس کی قیمت 16 فیصد سے 112.32 فیصد تک بڑھادی ہے، گھریلو اور دیگر تمام کیٹیگریز کے صارفین سے 310 ارب روپے اضافی وصول کرنا مقصود ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ محفوظ صارفین سے 50 روپے ماہانہ اور غیر محفوظ صارفین سے 500 روپے ماہانہ کی مقررہ شرح وصول کی جائے گی۔اسی طرح بجلی کے شعبے میں گردشی قرض کو کم کرنے کے لیے پہلے آئی ایم ایف نے بنیادی یونٹس کی قیمت بڑھائی اورجولائی 2022ء سے اکتوبر 2022ء کے درمیان بجلی کی فی یونٹ قیمت 7 روپے 91 پیسے بڑھا دی جبکہ اکتوبر میں 91 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔
ان تمام شرائط پر عمل کرنے کے باجود تاحال آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر کا قرض منظور نہیں کیا ہے، صنعتوں کے پاس خام مال نہ ہونے کی وجہ سے متعدد صنعتوں میں مکمل کام بند ہوگیا ہے، اسی طرح ٹیکسٹائل کی صنعت بھی 50 فیصد بندش کا عندیہ دے رہی ہے۔اس وقت پاکستان کا انحصار زیادہ تر غیرملکی امداد پر ہے، دوست ملک خصوصاً چین پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے اقدامات کررہا ہے اور مختلف مدات میں قرضہ فراہم کررہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی ہے تو دوسری طرف سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد تاحال کھلے آسمان تلے ہیں۔پی ڈی ایم حکومت کے قیام اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنے ایک سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ مگر عوام کی زندگی میں بدحالی ختم ہونے یا کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور صنعتوں کی بحالی بھی فوری طور پر ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس لیے پی ڈی ایم حکومت کا گزشتہ سال عوام کے لیے بہتر نہ تھا اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بہتری ہوتی نظر آرہی ہے۔
