شہزاد اکبر کے ستارے گردش میں اور کرسی خطرے میں

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و وزارت داخلہ شہزاد اکبر کے ستارے بالآخر گردش میں آ گئے ہیں اور ان کی کرسی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اسلام آباد میں خبریں گرم ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف شروع کئے گئے احتسابی عمل کی ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مشیر احتساب شہزاد اکبر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے ان کے متبادل کی تلاش شروع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ شہزاد اکبر مشیر احتساب ہونے کے علاوہ وزارت داخلہ کے مشیر کا عہدہ بھی رکھتے ہیں، اس کے علاوہ وہ کپتان حکومت کے ایسٹ ریکوری یونٹ کے انچارج بھی ہیں۔ عمران خان نے انہیں یہ عہدے دیتے وقت اپنے مخالف اپوزیشن سیاستدانوں کا تیا پانچہ کرنے کا ٹاسک دیا تھا لیکن وہ کسی ایک مخالف کے خلاف بھی کوئی کیس ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے جانے اور شہباز شریف کو اگلے سیاسی سیٹ اپ میں وزیر اعظم بنانے کی افواہوں نے وزیراعظم عمران خان کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ ہر صورت میں شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ اپنے خلاف ہونے والی ممکنہ سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے ایک حالیہ اجلاس میں احتسابی عمل کی ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کی ذمہ داری شہزاد اکبر پر عائد کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کرپشن اور منیی لانڈرنگ کے واضح ثبوتوں کے باوجود بھی کیسز التوا کا شکار ہیں ان ملزمان کو سزائیں نہیں دی جا رہیں۔

گذشتہ ہفتہ ایک اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اربوں کی چوری کرنے والے تاثر دے رہے ہیں کہ اُن کا دامن صاف ہے اور اس کی وجہ اوپن اینڈ شٹ کیسز کے تاحال منطقی انجام تک نہ پہنچانا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شہزاد اکبر کو چارج شیٹ کرنے کے بعد اب عمران خان نے ان کے متبادل کی تلاش شروع کر دی ہے اور انکے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان امیدواروں کی لسٹ تیار کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا گلہ ہے کہ شہزاد اکبر پچھلے کئی برسوں سے زبانی کلامی شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو چور ثابت کر رہے ہیں لیکن عدالت میں ان سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو پا رہا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر کو جو اہداف دیئے گئے تھے وہ انہیں حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے، خاص طور پر شریف برادران اور آصف زرداری کی مبینہ کرپشن ثابت کرنے اور ان سے لوٹی دولت واپس لانے کیلئے وہ ساڑھے تین سالوں کے دوران کچھ نہ کر سکے، الٹا  ایک برطانوی عدالت نے شہباز کے حق میں فیصلہ دیدیا جس سے حکومت کی سبکی ہوئی۔ اسکے علاوہ بقول شہزاد اکبر، نواز شریف اور شہباز شریف نے جو منی لانڈرنگ کی وہ پیسہ بھی بیرون ملک سے واپس نہیں لایا جا سکا۔

سستی سولر انرجی بھی عوام کے لیے مہنگی کر دی گئی

اس دوران شہزاد اکبر پر براڈ شیٹ سکینڈل میں پیسے پکڑنے کے الزامات بھی عائد ہوئے جنکی تحقیقات نہیں کروائیں گئیں۔ چینی سکینڈلز کی تحقیقات کے حوالے سے جو ٹاسک شہزاد اکبر کو دیاگیا تھا اس میں بھی ملوث عناصر کو کٹہرے میں نہ لاسکے جس کی بناء پر پارٹی کے اندر بھی ان پر کڑی تنقید ہورہی تھی۔

کابینہ کے بعض سینئر اراکین پہلے ہی شہزاد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے تاہم اب عمران خان نے خود بھی انکی کارکردگی پر عدم اطمیان کا اظہار کر دیا ہے. دوسری جانب شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صبح و شام اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں لیکن عدالتی ٹھوس ثبوتوں کے بغیر کسی کو سزا نہیں سناتیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہزاد اکبر کی جگہ لاہور سے تعلق رکھنے والے سینئر قانون دان کو مشیر برائے احتساب بنانے پر غور ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے احتساب کے نعرے کا تیا پانچہ کرنے والے شہزاد اکبر کی تین سرکاری عہدوں کی مراعات وصول وصول کر رہے ہیں۔

وہ نہ صرف عمران خان کے مشیر برائے احتساب ہیں بلکہ وزارت داخلہ کے مشیر ہونے کے علاوہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے بھی انچارج ہیں۔ انکو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ یہ عہدہ تقویض کیا گیا۔ اس سلسلے میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا تھا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس سلسلہ میں کسی امتحان کا اہتمام نہیں کیا اور نہ کسی دوسرے امیدوار کو اس عہدے کے لیے پرکھا گیا۔

اس یونٹ کا بنیادی مقصد ملک سے لوٹی گئی دولت کو واپس لانا تھا لیکن شہزاد اکبر ایک پھوٹی کوڑی بھی واپس نہیں لا پائے۔ ہان انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے بیرون ملک مبینہ اثاثے ڈھونڈنے کے لئے اربوں روپیہ فیسوں کی مد میں ضرور خرچ کر دیا۔

Back to top button