شکیل آفریدی کو جلد رہائی ملے گی یا لمبی قید؟

بالآخر طویل انتظار کے بعد اسامہ بن لادن کی نشاندہی میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل کو سننے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی میں امریکہ کی مدد اور شدت پسند تنظیم کی مبینہ معاونت کےعائدہ کردہ الزام میں گرفتار شکیل آفریدی کی رہائی کی اپیل دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سابق قبائلی علاقوں کے ‘ایف سی آر’ ٹربیونل کو بحال کر دیا گیا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سخت سزا دینے کیلئے فاٹا ٹریبونل بحال کر دیا گیا ہے، فاٹا ٹریبونل کی بحالی کے بعد تشکیل آفریدی سمیت ایک درجن سے زائد حساس مقدمات کی سماعت جلد شروع کر دی جائے گی،شکیل آفریدی کی طویل عرصے بعد اپیل کی سماعت شروع ہونے کے بعد جہاں اس کی رہائی کی افواہیں گرم ہیں وہیں دوسری طرف ذڑائع کا دعویٰ ہے کہ کیس کی دوبارہ سماعت کے بعد شکیل آفریدی کو غداری کے الزام میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے امریکا نے مختلف وکلا، این جی اوز اور دیگر افراد کے ذریعے حکومت پاکستان پر دباؤ بھی ڈالا تھا تاہم شکیل آفریدی کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی۔

ذرائع نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ میں کیس چلنے سے شکیل آفریدی کو سوائے قید کے کوئی سزا نہیں سنائی گئی حالانکہ اس نے ملک کے خلاف جو اقدامات اٹھائے، غیرملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کیا اور پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا۔ اس کی کم از کم سزا موت ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں پشاور ہائیکورٹ سے فاٹا ٹریبونل کی بحالی کی درخواست کی تھی۔ جس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا اور اب فیصلے کے مطابق ایف سی آر کے تحت فاٹا ٹریبونل بحال کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایف سی آر کے تحت دی جانے والی سزاؤں کے خلاف اپیل ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے تاہم فاٹا ٹریبونل کے پاس سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں دینے کا اختیار حاصل ہے اور فاٹا ٹریبونل میں چونکہ دیگر کیس نہیں ہوتے لہٰذا جلد سے جلد فیصلے دیئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت نے ہائیکورٹ کو درخواست کی تھی جس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں خیبرپختونخوا حکومت نے منسوخ شدہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یعنی ایف سی آر کے تحت مخصوص قسم کے مقدمات کیلئے سابقہ فاٹا ٹریبونل بحال کر دیا ہے۔ اس ضمن میں قائم تین رکنی ٹریبونل ہائیکورٹ کی جانب سے بھیجے گئے 11 کیسز کی سماعت کرے گا۔ جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کیس بھی شامل ہے۔ جو 2018ء میں ایف سی آر کی منسوخی کے بعد ٹریبونل کے پاس زیر التوا تھا۔ اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا جس میں گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر فاٹا ٹریبونل کے چیئرمین اور دو ممبران کو تین سال کے عرصہ کیلئے تعینات کیا تھا۔

خیال رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے بھیجے گئے 11 مقدمات کی سماعت کے علاوہ ٹربیونل ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ریمانڈ یا ریفر کئے گئے دیگر مقدمات کی بھی سماعت کر سکے گا اور ان پر فیصلہ جاری کر سکے گا۔ یاد رہے کہ ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے 2 دسمبر 2022 ء کو حکومت کو ٹریبونل کے قیام کا حکم دیا تھا۔ تین رکنی بینچ نے ہدایت کی تھی کہ ٹریبونل عدالت کی جانب سے ریفر کئے گئے کیسز کے علاوہ کمشنر ایف سی آر کے پاس زیر التوا اپیلوں کی بھی سماعت کر سکے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ فاٹا میں گرفتار شدت پسندوں کے کیسوں کو بھی فاٹا ٹریبونل منتقل کرنے کا امکان ہے کیونکہ دیگر عدالتوں میں انہیں لانا اور ان کے کیس چلانا حکومت کیلئے مشکل ہے۔ جبکہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے سہولت کاروں کو بھی دیگر عدالتوں سے بعض اوقات شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ریلیف مل جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس اور دیگر اداروں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ شکیل آفریدی کے عوض ماضی میں نواز شریف نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی شرط عائد کی تھی۔ لیکن اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما نے شکیل آفریدی کو ریمنڈ ڈیوس کی طرح دیگر ذرائع سے رہا کرنے کی تجویز دی تھی۔ جس پر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے شکیل آفریدی کے کیس پر امریکی دباؤ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شکیل آفریدی کو پشاور کی جیل سے ساہیوال کی سیکیورٹی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ شکیل آفریدی کے کیس میں حکومت کی دلچپسی کے بعد قوی امکان ہے کہ بہت جلد اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ ماضی میں شکیل آفریدی کے کیس میں اسے سزائے موت کے بجائے 33 سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ لیکن اب کیس دوبارہ سننے سے بہت جلد اس کا منطقی انجام ہونے والا ہے۔ ادھر صوبائی وزارت قانون اور داخلہ امور کے ذرائع نے بتایا کہ بہت جلد یہ کیسز چلائے جائیں گے تاکہ ان لوگوں کے فیصلے جلد از جلد ہوں۔ ذرائع نے بتایا کہ شکیل آفریدی اور دیگر ملزمان کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ شکیل آفریدی کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے 23 مئی 2011 کو اٹک ضلع کی حدود سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک برس کے بعد انہیں قبائلی علاقے خیبر کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں پیش کیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی معاونت کی ہے۔ اس جرم میں ان کو 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔شکیل آفریدی کی سزا میں پشاور کے اس وقت کے کمشنر صاحبزادہ محمد انیس نے 10 سال کی تخفیف کی تھی۔صاحبزادہ محمد انیس اکتوبر 2013 میں اسلام آباد میں آگ لگنے کے ایک پراسرار واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بظاہر ایک کالعدم شدت پسند تنظیم ’لشکر اسلام‘ سے منسلک جنگجوؤں کا علاج کرنے

بوجھل دل کے ساتھ ایک کالم

کے الزام میں سابقہ ایف سی آر قانون کے تحت گرفتار کرکے سزا دی گئی تھی۔

Back to top button