ماڈلز کو پلاسٹک سرجری کے مشورے کیوں دیئے جاتے ہیں؟

فیشن کی دنیا میں خوبصورتی ہی وہ معیار ہے جس کو ہر طرف ترجیح دی جاتی ہے، ماڈل حمیرا اصغر کے مطابق جب وہ ماڈلنگ کی دنیا میں آئی تھیں تو ان کو بھی ہر طرف سے خوبصورتی بڑھانے کیلئے پلاسٹک سرجری کے مشورے ہی دیئے جا رہے تھے۔
حمیرا اصغر نے حال ہی میں سما ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ماڈلنگ سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سمیت دیگر معاملات پر کھل کر باتیں کیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا جب وہ کالج کی طالبہ تھیں اور انہوں نے ماڈلنگ شروع ہی نہیں کی تھی، تب کم عمری میں ان کا وزن 80 کلو تھا، ماڈلنگ میں آنے کے بعد انہوں نے اپنا وزن کم کیا اور اپنی صحت پر توجہ دی۔
حمیرا اصغر کے مطابق فیشن اور ڈراما انڈسٹری میں بہت فرق ہے، اچھی ماڈل اچھی اداکارہ بھی بن سکتی ہے، ان کے مطابق ڈراما انڈسٹری کے لوگ سوچتے ہیں کہ ماڈلز کو اداکاری نہیں آتی لیکن ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے ماڈلنگ کے بعد اداکاری کرنے سے متعلق منصوبہ بندی نہیں کی تھی لیکن انہیں اچھے کرداروں کی پیش کش ہوئی تو انہوں نے کام کرلیا اور ابھی تک ان کا کام پسند کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حمیرا نے بتایا کہ پاکستان کی طرح عالمی سطح پر فیشن کی انڈسٹری میں ماڈلز کو خوبصورتی بڑھانے کے لیے پلاسٹک سرجری کے مشورے دیے جاتے ہیں۔زیادہ تر ماڈلز جب کیریئر شروع کرتی ہیں تو ان کا چہرہ اس طرح کا نہیں ہوتا، جس طرح فیشن انڈسٹری کے افراد چاہتے ہیں، اس لیے لڑکیوں کو سرجریز کے مشورے دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر لڑکیوں کو ہونٹ، آنکھوں کی پلکیں، گال اور ٹھوڑی کو خوبصورت اور بہتر بنانے کے مشورے دیے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہے، اداکارہ کے مطابق لیکن ڈراما انڈسٹری فیشن انڈسٹری سے بلکل مختلف ہے، انہوں نے یہاں ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔
اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے حمیرا نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دور میں خوبصورتی بڑھانے کے لیے پلاسٹک سرجریز کروانا عام بات بن چکی ہے، انسٹاگرام کو دیکھا جائے تو ہر جگہ پلاسٹک ہی نظر آئے گا، حمیرا اصغیر نے کسی کا نام لیے بغیر فیشن، شوبز اور ڈراما انڈسٹری کی خواتین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسٹا گرام پر تمام چہرے ایک جیسے ہی دکھائی دیتے
کیا استحکام پاکستان پارٹی واقعی مسلم لیگ ن کی بی ٹیم ہے؟
ہیں اور ہر جگہ پلاسٹک نظر آتا ہے۔
