پیر اور مرید آج کل زمان پارک میں کیا کر رہے ہیں؟

9 مئی کے واقعات سے پہلے جہاں زمان پارک کے باہرکھلاڑیوں کارش رہتا تھا وہاں اب اسٹیڈیم اور پچ خالی نظر آتے ہے۔ پہلے یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی میچ میں شائقین اپنا جوش و جذبہ دکھا رہے ہیں لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے کیونکہ عمران خان الیون کے آؤٹ ہونے کے بعد زمان پارک کا اسٹیڈیم خالی پڑا ہے۔
9 مئی کے واقعات کے بعد جب ایک ایک کر کے عمران خان الیون آؤٹ ہوئی تو عمران خان کے دن کے معمولات میں بھی خاصی تبدیلی نظر آئی۔ پہلے جہاں سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ بنا رہتا تھا اب اس میں بھی ایک حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عمران خان اپنے دن کا آغاز معمول کے مطابق ورزش سے کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنا روایتی ناشتہ کرتے ہیں جس میں ہمیشہ کی طرح فروٹ اور دہی شامل ہوتا ہے۔وہ پہلے ایک کے بعد ایک میٹنگ میں مصروف رہتے تھے جس میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال ہوتا تھا اور معاملات سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجیز بنائی جاتی تھیں۔غیر ملکی سفیروں، صحافیوں، بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس کے ساتھ بھی میٹنگز کا تانتا بندھا رہتا تھا لیکن 9 مئی کے واقعات کے بعد وہ تسلسل بھی ٹوٹ گیا۔ اب چوں کہ پارٹی میں لوگوں کی تعداد گھٹنے کے ساتھ میٹنگز کی تعداد میں بھی خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے تو آج کل عمران خان کی زیادہ تر ملاقاتیں پنجاب کے مختلف ڈویژنز کے وکلا اور پارٹی میں بچ جانے والے چند رہنماؤں سے فون پر ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ جو پارٹی رہنما عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اب ان کی جگہ نئے و دیگر لوگوں کو عہدے بانٹے جارہے ہیں اور خان صاحب سوچ بچار کے بعد ان کے نوٹفکیشن جاری کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی کسی بھی قسم کی لائیو یا ریکارڈڈ تقریر میڈیا پر دکھانے پر پابندی ہے حتیٰ کہ ان کا نام لینے کی بھی ممانعت ہے تو آج کل قاسم کے ابو مین اسٹریم میڈیا چھوڑ کر سوشل میڈیا پر اپنے خطاب اور تقاریر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ وہ اب نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا چینلز کو بھی انٹرویو دیتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان بیشتر وقت ٹوئٹر پر ہم خیال لوگوں کے ٹوئٹس بھی پڑھتے رہتے ہیں۔
9 مئی کے واقعات کے بعد عمران خان کو آئے دن لاہور ہائی کورٹ تو کبھی اسلام ہائی کورٹ میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ جہاں پہلے وہ زمان پارک سے کئی کئی دن باہر نہیں آتے تھے اب عدالتوں کے متواتر چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ ان مواقع پر پروٹوکول کے علاوہ ان کے ہمراہ نہ کوئی پارٹی رہنما ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کارکن۔زمان پارک میں آج کل نوٹس وصول کرنے کا موسم ہے۔ عمران خان زمان پارک میں کبھی اپنے تو کبھی بشریٰ بی بی کے نام کے نیب اور عدالتی نوٹس وصول کر رہے ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں کم ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ عمران خان اب بشریٰ بی بی کو زیادہ وقت دینے لگے ہیں اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے میں ان کی رائے بھی لیتے ہیں۔عمران خان اور بشریٰ بی بی دن کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کی چہل قدمی، کافی یا چائے اور رات کا کھانا بھی اکٹھے کھاتے ہیں۔ کھانے کی میز پر سیاسی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوتا ہے۔پارٹی میں نئی بھرتیوں کے حوالے سے عمران خان اپنی اہلیہ سے مشاورت کرتے
’’اداکارہ اُشنا شاہ کا شوہر کے نام ٹوئیٹ وائرل‘‘
ہیں اور ان کے مشوروں پر بعینہٖ عمل بھی کرتے ہیں۔
