سندھ بجٹ : تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا عزم ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کے دوران سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے اور صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھاکر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ مسلسل گیارہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے۔کسی اور منتخب عوامی نمائندے کو مسلسل اتنی بار بجٹ پیش کرنےکا موقع نہیں ملا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کیا،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرات اور قربانیاں آج بھی قوم کےلیے مشعلِ راہ ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کی رہنمائی اور مستقل حمایت پر ان کا شکرگزار ہوں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا عوام دوست ترقی اور سماجی انصاف کا وژن ہماری ترجیحات کا محور ہے۔ہاریوں، محنت کشوں،خواتین اور نوجوانوں کی فلاح حکومت سندھ کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو ان کی قربانیوں اور خدمات پر خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ پاک افواج وطن کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن،استحکام اور اصولی سفارت کاری کی مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے،ایران بحران کے دوران پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کےلیے فعال کردار ادا کیا۔پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیاکہ وہ خطے میں امن اور مکالمے کا داعی ملک ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کےلیے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا۔ 260 ارب کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کا تحفظ یقینی بنایا۔سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا،سندھ کی عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا۔سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی دونوں کو ساتھ لےکر چلنے کی مثال قائم کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ نے مالی سال 26-2026ء میں 900 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری کی۔سندھ حکومت نے 952 ترقیاتی سکیمیں مکمل کرکے عملی ترقی کی نئی مثال قائم کی۔ 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی، 175 پانی و نکاسی آب، درجنوں سماجی منصوبے مکمل کیےگئے۔ 900 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کے ثمرات سندھ کے ہر ضلع تک پہنچ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی میں ’سندھ انٹرنیشنل فانشنل سینٹر‘ قائم کرنے کا اعلان کیا،فنانشنل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا،کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم ہے۔
انہوں ںے امید ظاہر کی کہ کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا،کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی سپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ 2022 کے سیلاب متاثرین کےلیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیےگئے جب کہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دےکر بااختیار بنایا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایاکہ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کےلیے 121.6 ارب روپے،ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کےلیے 39.5 ارب روپے،تعلیم کے شعبے کےلیے 25.9 ارب روپے اور زراعت و لائیوسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کےلیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیاکہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کردی گئی ہے جب کہ سوشل پروٹیکشن پروگراموں میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے ترقیاتی بجٹ 2026-27 کا مجموعی حجم 656 ارب روپے سے زائد مقرر کرنےکی تجویز ہے۔صوبائی ترقیاتی پروگرام کےلیے 641 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ ضلعی ترقیاتی سکیموں کےلیے 15 ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کیےگئے ہیں۔اسی طرح رواں مالی سال 3,715 ترقیاتی سکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔فارن پروجیکٹ اسسٹنس (FPA) کے تحت 256 ارب روپے سے زائد رقم شامل کی گئی ہے۔کچے کے علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کےلیے 1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ پسماندہ اضلاع کےخصوصی ترقیاتی اقدامات کےلیے 25 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
سندھ حکومت نے رواں مالی سال تعلیم اور صحت کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کرنےکی تجویز دی ہے۔اس سلسلے میں ترقیاتی پروگرام میں تعلیم کے شعبے کےلیے 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ صحت کے شعبے کےلیے 38.89 ارب روپے رکھنےکی تجویز دی گئی ہے، جس میں متعدد جاری منصوبے بھی شامل ہیں۔
زراعت،سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کےلیے 4.90 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ثقافت،سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے منصوبوں کےلیے 2.78 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ جنگلات و جنگلی حیات کے شعبے کےلیے 2.39 ارب روپے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے میگا پراجیکٹس کےلیے 14 ارب 11 کروڑ 63 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔کراچی کے 25 جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کےلیے 14.11 ارب روپے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔اسی طرح کراچی کے 17 غیرمنظور شدہ جاری منصوبوں کےلیے 6.94 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔کراچی کے 8 کیری فارورڈ منصوبوں کےلیے 7.17 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کراچی میگا پراجیکٹس کا مجموعی تھرو فارورڈ حجم 35.81 ارب روپے ریکارڈ ہوا ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں کراچی کے انفراسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کراچی کے 25 میگا منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں ترقیاتی کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور شہری سہولیات بہتر بنانے کےلیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال میں 2026-27 میں کراچی کے میگا منصوبوں کےلیے 14.11 ارب روپے کی مجموعی تجویز منظور ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی بجٹ : حکومت نے ریلیف پر مبنی بجٹ بنایا، وفاقی وزراء
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کےلیے 13.2 ارب روپے مختص کیے ہیں،یلو لائن بی آر ٹی کوریڈور کےلیے 3.5 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھے گئے ہیں، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکج کےلیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں جب کہ گریٹر کراچی سیوریج پلان پر 32 ارب روپے سے زائد لاگت سے کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کےلیے 4.8 ارب روپے کی لاگت سے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے، 25 ڈبل ڈیکر بسیں آئندہ تین ماہ میں شہر کراچی کی سڑکوں پر آجائیں گی، کراچی میں الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ کیاگیا ہے،مزید 100 ای وی بسیں شامل کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی اندرونی سڑکوں کی بحالی منصوبے پر 5.53 ارب خرچ ہوں گے ،
