وفاقی بجٹ : حکومت نے ریلیف پر مبنی بجٹ بنایا، وفاقی وزراء

وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات کے باوجود ریلیف پر مبنی بجٹ بنایا،ٹیکس نہ دینے والے کا بوجھ ٹیکس دینے والے پر نہیں ڈالا۔یہ بجٹ صنعتکاروں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کےلیے ریلیف کا بجٹ ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ سوشل میڈیا کے فعال افراد کو بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دینا ضروری تھا تاکہ حکومتی معاشی اقدامات اور بجٹ کی ترجیحات کو درست انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہاکہ مشکل حالات میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا، ملک کو آئی ایم ایف سے ہمیشہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی نجات دلائی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ذاتی کوششوں سے آئی ایم ایف سے معاملات طے کیے،حکومتی کاوشوں کی بدولت آج ملک میں معاشی استحکام ہے، گزشتہ 2 سال میں مشکل فیصلے کیے،اب عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ٹیکس نہ دینے والے کا بوجھ ٹیکس دینے والے پر نہیں ڈالا، پورٹس،انکم ٹیکس اور ایف بی آر جیسے اداروں میں کرپشن کی روک تھام کو یقینی بنایاگیا ہے، تاہم شوگر ملوں سے 60 ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایاکہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ والے کو ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا، 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والا صرف 1 فیصد ٹیکس دےگا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ اپنا گھر منصوبے پر 90 ارب میں سے 11 ارب روپے عوام کو مل گئے، ہاؤسنگ کے شعبے میں ترقی سے 12 صنعتوں کا پہیہ چل پڑا، ایکسپورٹر زیادہ منافع کمائےگا تو صنعتوں کے قیام میں مدد ملےگی۔
وفاقی مالی بحران، NFCایوارڈ میں تبدیلی ناگزیر کیوں؟
انہوں نے کہا ہے کہ شوگر ملز سے نکلنے والی ہر بوری پر بار کوڈ ہوتا ہے،ٹیکس وصولی اور دیگر تنازعات کے حل کےلیے نئے ٹربیونلز قائم کردیے گئے ہیں،5 مرلے کا پلاٹ یا گھر خریدنے اور بیچنے والے کےلیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی،تاہم آئی ٹی کمپنیوں کو رعایت دی کہ وہ اپنے معاملات ٹھیک کرسکیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ نے بلال اظہر کیانی نےکہا کہ یہ بجٹ صنعتکاروں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ریلیف کا بجٹ ہے، وزیراعظم یوتھ پیکج کے تحت زرعی قرضوں کےلیے 110 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت پائیدار بنیادوں پر معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور یہ بجٹ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کےلیے سہولتوں پر بھی مبنی ہے، 5 ارب روپے کی ڈیوٹی ختم کرکے ریلیف دیا گیا ہے۔
