امریکہ اور ایران کی ڈیل کروانے والے پاکستان کو کیا ملے گا؟

 

 

 

پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے بعد یہ سوال زیر بحث ہے کہ آخر اس پورے عمل میں کردار ادا کرنے والے پاکستان کو امن معاہدے سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور کیا یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت، سفارت کاری اور علاقائی حیثیت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گی؟

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے اور اس تقریب کی میزبانی بھی پاکستان کے ذمہ ہو گی۔ اس اعلان کے بعد دنیا کے مختلف ممالک کی قیادت نے نہ صرف معاہدے کا خیر مقدم کیا بلکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔

 

برطانیہ، چین، آسٹریلیا، ترکی، قطر، سعودی عرب، کینیڈا، اٹلی، نیدرلینڈز، ملائیشیا اور کویت سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت سفارتی کوشش قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اپنے بیان میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ کئی ماہ کے پیچیدہ مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران ایک امن فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور دونوں فریقوں نے لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری جنگ بندی اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ کئی مرتبہ پاکستان کو ان مذاکرات کا مرکزی ثالث قرار دے چکے ہیں۔ ایران کی قیادت بھی مختلف مواقع پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتی رہی ہے، جس سے پاکستان کو ایک قابل اعتماد رابطہ کار کی حیثیت حاصل ہوئی۔ مارچ میں امریکی صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعد ایران پر ممکنہ حملوں اور بمباری کو عارضی طور پر مؤخر کیا گیا۔ اسی مرحلے کے بعد پاکستان نے عملی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بن کر اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔

 

اسلام آباد میں ابتدائی مذاکراتی نشستوں کی میزبانی کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان کو اس معاملے میں اس لیے بھی پذیرائی ملی کیونکہ وہ تنازع کا فریق نہیں تھا اور دونوں ممالک اس پر کسی حد تک اعتماد کرتے تھے۔

تاہم اب اصل بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کے لیے صرف ایک وقتی اعزاز ثابت ہو گی یا اس کے نتیجے میں ملک کو حقیقی معاشی اور سفارتی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ یہی وہ سوال ہے جس پر مختلف سفارت کاروں، تجزیہ کاروں اور سابق حکومتی شخصیات نے اپنی آرا دی ہیں۔

 

معروف تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق پاکستان کو اس پیش رفت سے سفارتی سطح پر نمایاں فائدہ ضرور ہوا ہے کیونکہ عالمی طاقتوں نے اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ تاہم ان کے خیال میں یہ سمجھنا قبل از وقت ہو گا کہ پاکستان مستقل بنیادوں پر دنیا کا peace maker بن گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ دراصل ایک ابتدائی فریم ورک ہے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی پیچیدہ معاملات پر آئندہ ساٹھ روز میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ اس لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی اپنی جگہ اہم ہے لیکن ابھی اسے مکمل اور حتمی امن معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

معاشی فوائد کے حوالے سے ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اگر ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں مل سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات پہلے ہی موجود ہیں۔ سابق سفارت کار عاقل ندیم کے مطابق پابندیوں میں نرمی کی صورت میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سرحدی تجارت کے فروغ سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا جبکہ توانائی کے شعبے میں بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

 

توانائی کے میدان میں سب سے زیادہ توجہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر مرکوز ہے۔ یہ منصوبہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں نے اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی ہوئی تھی۔ اگر پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کے توانائی بحران میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

پاکستان کو ایک اور ممکنہ فائدہ عالمی مالیاتی اداروں اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی صورت میں مل سکتا ہے۔

 

آسٹریلیا میں مقیم خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار محمد فیصل کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس امن عمل میں کردار نے اس مثبت رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

محمد فیصل کے مطابق بہتر سفارتی ماحول پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت کی توسیع، امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات، آئی ایم ایف سے متعلق معاملات میں حمایت اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک بہتر رسائی کے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان کی حیثیت اب ایک ایسے علاقائی ملک کے طور پر ابھر رہی ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں رہے گا۔

 

دوسری جانب بعض ماہرین اس حوالے سے زیادہ محتاط ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ دنیا سفارتی کامیابیوں کو زیادہ دیر یاد نہیں رکھتی اور بالآخر ہر ملک اپنے معاشی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ ایران پاکستان کو مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر تیل فراہم کرے گا یا صرف ثالثی کے بدلے پاکستان کو بڑے معاشی تحائف مل جائیں گے۔

امریکہ ایران امن معاہدہ کیسے طے پایا؟ حقائق سامنے آ گئے

شاہد خاقان عباسی کے مطابق اصل فائدہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان اپنی اندرونی معیشت، گورننس، تجارتی پالیسی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنائے۔ ان کے نزدیک کوئی بھی سفارتی کامیابی اُس وقت تک گیم چینجر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک ملک اپنے داخلی مسائل کو حل نہ کرے۔

 

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امن معاہدے کے بعد امریکہ خطے کے مسلم ممالک پر ابراہم اکارڈ میں شمولیت کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ پاکستانی سفارت کاروں کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ اسلام آباد کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ فلسطینی ریاست کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مستقبل میں پاکستان کو سفارتی فوائد اور اپنی روایتی خارجہ پالیسی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن فریم ورک طے کرانے میں پاکستان کا کردار بلاشبہ ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ اس کامیابی کے فوری فوائد زیادہ تر سفارتی وقار، بین الاقوامی اعتماد اور علاقائی اہمیت کی صورت میں سامنے آئیں گے، جبکہ سستے ایرانی تیل، گیس پائپ لائن کی بحالی، تجارت کے فروغ اور عالمی مالیاتی حمایت جیسے بڑے معاشی فوائد کا انحصار آنے والے مہینوں میں پابندیوں کے مستقبل اور پاکستان کی اپنی معاشی پالیسیوں پر ہو گا۔ یوں یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک نادر سفارتی موقع ضرور ہے، مگر اسے حقیقی اور طویل مدتی قومی فائدے میں تبدیل کرنا اب اسلام آباد کی سیاسی اور معاشی حکمت عملی کا امتحان ہو گا۔

Back to top button