پاکستان سے سپین جانے یا وہاں پہلے سے مقیم ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ان دنوں پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ سپین کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی نئی سکیم نے جہاں بہتر مستقبل کے دروازے کھولے ہیں، وہیں نیشنل پولیس بیورو کے جاری کردہ ملک گیر کریکٹر سرٹیفکیٹ کی مانگ میں بھی ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی درخواستوں کے باعث شہری طویل انتظار، معلومات کی کمی اور کوریئر کے پیچیدہ مراحل کی شکایات کر رہے ہیں، جبکہ حکام نظام کو مزید شفاف اور ڈیجیٹل بنانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سرٹیفکیٹ اتنا اہم کیوں ہے، اسے حاصل کرنے میں مشکلات کیوں پیش آ رہی ہیں، اور حکومت ان مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟
ماہرین کے مطابق سپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے متعارف کرائی گئی ریگولرائزیشن سکیم نے دنیا بھر میں مقیم تارکین وطن خصوصاً پاکستانیوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ اس سکیم کے تحت ہزاروں پاکستانیوں کو اپنی رہائش اور روزگار کو قانونی شکل دینے کا موقع ملا ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے ایک اہم شرط نیشنل پولیس بیورو کا جاری کردہ ملک گیر کریکٹر سرٹیفکیٹ قرار دیا گیا ہے۔اسی وجہ سے پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس دستاویز کے حصول کے لیے نیشنل پولیس بیورو سے رجوع کر رہی ہے۔ درخواستوں کی غیر معمولی تعداد نے نہ صرف متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھایا ہے بلکہ شہریوں کی جانب سے تاخیر، معلومات کی کمی اور انتظامی پیچیدگیوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
خیال رہے کہ نیشنل پولیس بیورو کا کریکٹر سرٹیفکیٹ دراصل ایک وفاقی سطح کی دستاویز ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ درخواست گزار کا پاکستان بھر میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں۔ عام ضلعی کریکٹر سرٹیفکیٹ کے برعکس یہ دستاویز پورے ملک کے فوجداری ریکارڈ کی جانچ کے بعد جاری کی جاتی ہے، اسی لیے بین الاقوامی سفارت خانے اور امیگریشن حکام اسے زیادہ معتبر تصور کرتے ہیں۔اس سرٹیفکیٹ میں درخواست گزار کا مکمل بائیو ڈیٹا، پاسپورٹ نمبر، قومی شناختی کارڈ نمبر، تصویر اور بائیومیٹرک فنگر پرنٹس شامل ہوتے ہیں۔ مزید برآں اس پر موجود کیو آر کوڈ یا بار کوڈ کی مدد سے دنیا بھر میں اس کی فوری آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوتی ہے۔ سرٹیفکیٹ کے اجراء کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے اپوسٹائل تصدیق بھی کی جاتی ہے، جس سے اس کی بین الاقوامی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔اگرچہ حکومت نے اس عمل کو نسبتاً آسان بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ نظام ابھی مکمل طور پر آن لائن نہیں۔ درخواست گزار کو پہلے اپنے ضلع کے پولیس خدمت مرکز سے لوکل کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد ضروری دستاویزات نامزد کوریئر سروس کے ذریعے اسلام آباد میں نیشنل پولیس بیورو کو ارسال کی جاتی ہیں۔ بعد ازاں اپوسٹائل تصدیق اور بعض صورتوں میں ہسپانوی زبان میں سرکاری ترجمہ بھی درکار ہوتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ معلومات کی کمی اور پیچیدہ طریقہ کار کے باعث انہیں مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ بعض افراد نے یہ شکایت بھی کی کہ ایجنٹ مافیا اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری رقوم کے عوض فوری سرٹیفکیٹ دلوانے کی پیشکش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور شفاف معلومات تک رسائی کو اپنی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل پولیس بیورو کے حکام کا مؤقف ہے کہ سرٹیفکیٹس کے اجرا کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہے اور کرپشن کی کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ حکام کے مطابق نظام کو مکمل ڈیجیٹل بنانے کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے کام جاری ہے، جبکہ مستقبل میں اسے وزارت خارجہ کے اپوسٹائل نظام سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ماہرین امیگریشن کا خیال ہے کہ صرف ڈیجیٹلائزیشن کافی نہیں ہوگی بلکہ عوامی آگاہی بھی ناگزیر ہے۔ شہریوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی دستاویز کب اور کس مقصد کے لیے درکار ہے، تاکہ وہ غیر ضروری اخراجات اور ایجنٹ مافیا کے استحصال سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین کے مطابق سپین کی ریگولرائزیشن سکیم ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کا نظام مزید تیز، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ پاکستان کے امیگریشن اور دستاویزی نظام پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔