شہباز کے ہاتھوں ’ووٹ کو عزت دو’ کے بیانیے کا کفن دفن

شہباز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کی خاطر اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی تدفین کر دی ہے جس کے بعد سے وہ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کو سویلین افسران کی سکریننگ کا اختیار دے کر شہباز شریف نے سویلین اتھارٹی کی جنازہ اٹھا دیا ہے۔ شہباز حکومت نے ایک سرکاری نوٹی فکیشن کے ذریعے آئی ایس آئی کو فوج کے علاوہ سول افسران کی سکریننگ کا باقاعدہ اختیار دیتے ہوئے ویٹنگ vetting ایجنسی کے طور پر کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی پبلک آفس ہولڈرز کی مکمل سکروٹنی کرے گی جو ان کی سروس کے آغاز یعنی بھرتی کے وقت، حساس عہدوں پر تعیناتی، تبادلوں، اور ترقی کے لیے درکار ہو گی۔ وفاقی حکومت نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس اسکریننگ اور ویٹنگ کا یہ کام فوجی افسران اور وزارت دفاع کے ماتحت کام کرنے والے تمام اہلکاروں کے لیے پہلے سے ہی کرتی تھی لیکن پچھلے کچھ برسوں سے اسے سویلین افسران کی سکریننگ اور ویٹنگ کا کام بھی دے دیا گیا تھا۔تاہم اب اس کام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔
اوورسیز کی ووٹنگ کے طریقہ میں تبدیلی کیخلاف دائر درخواست واپس
آئی ایس آئی کے ویٹنگ ونگ کو ایس وی اے یا سپیشل ویٹنگ ایجنسی کہا جاتا ہے۔ فوج میں 8101 ایس وی اے فارم کسی بھی ترقی، تبادلے، حتی ٰکہ انٹرویو کے موقع پر بھی بھرا جاتا ہے جس میں متعلقہ اہلکار، ان کے خاندان کی تفصیلات سمیت تعلیم، ماضی کی تعیناتیوں سے متعلق تفصیل درج کی جاتی ہے۔ یہ فارم آئی ایس آئی کی جانب سے تیار کی جانے والی فائلز میں چسپاں کیا جاتا ہے اور ہر ترقی اور تبادلے کے موقع پر متعلقہ فارم کو یہ ریکارڈ مہیا کیا جاتا ہے۔ تاہم فوجی اہلکاروں کی حد تک تو آئی ایس آئی کا یہ کردار ہمیشہ ہی رہا ہے، اب سول افسران کی تعیناتی کے حوالے سے ایجنسی کو یہ اختیار دینے پر عوامی حلقے سخت تنقید کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے یہ فیصلہ نواز شریف کے علاوہ اپنی حکومتی اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیے بغیر کیا ہے جس وجہ سے پیپلز پارٹی نے اس پر شدید اعتراضات اٹھا دیئے ہیں۔
اس سے قبل سول افسران بارے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنےکا کام باقاعدگی کے ساتھ وفاقی سطح پر انٹیلی جنس بیورو اور صوبائی سطح پر اسپیشل برانچ کرتی ہے۔ بنیادی کام کوائف اکٹھے کرنا اور ان کی تصدیق کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شخص کی فنانشل انٹیگرٹی، سیاسی وابستگی، بیرون ملک رابطوں اور کردار سے متعلق معلومات بھی جمع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ایجنسیوں کے ہاتھ اگر کسی بھی افسر سے متعلق اہم معلومات جیسا کہ ان کی دولت یا بیرون ملک تعلقات، موجود ہوں تو وہ آئی بی یا متعلقہ اتھارٹی سے شیئر کر دی جاتی تھیں۔ انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نوید الٰہی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور اس سے خود آئی بی کے اہلکاروں میں یہ تاثر گیا ہے کہ ان کے کام اور ادارے کو غیرموثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر ضروری قدم ہے اور سول اداروں کو غلط پیغام ملا ہے۔‘
‘آئی بی بہت موثر انداز میں کام کرتی رہی اور اب بھی کر رہی ہے۔ یہ ایک غلط کام ہے، اس سے سول ادارے کمزور ہوں گے، غیر ضروری فوجی مداخلت ہو گی، اور اختلافات پیدا ہوں گے۔ انکا کہنا تھا کہ معلومات اکٹھی کرنے کا آئی ایس آئی کا طریقہ آئی بی سے مختلف ہے، آئی بی زور زبردستی کی بجائے بہت خفیہ طریقے سے کام کرتی ہے۔’ وہ اس فیصلے کا ذمہ دار وزیر اعظم اور آئی بی سربراہ کے درمیان فاصلوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘حالیہ کچھ عرصے میں عام طور پر ڈی جی آئی بی پرنسپل سیکرٹریز کی مرضی سے لگتے رہے ہیں اور وزیر اعظم کی ایجنسی سے متعلق سمجھ بوجھ کم رہی ہے، ایک وقت تھا جب ڈی جی آئی بی براہ راست وزیر اعظم کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہو رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ وسائل کے لحاظ سے تو آئی ایس آئی مضبوط ہے مگر جہاں تک معلومات اکٹھی کرنے کی بات ہے تو آئی بی کا طریقہ کار کئی درجے بہتر ہے۔‘
تاہم اس بارے میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ ایک حکومتی فیصلہ ہے اور وہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔ جبکہ حکومتی ترجمان اس حوالے سے کوئی موقف دینے سے گریزاں ہیں۔ خیال رہے کہ آئی ایس آئی کی بنیادی ذمہ داری مسلح افواج کا عملی اور نظریاتی تحفظ یقینی بنانا ہے جس کا اظہار اس ادارے کے نام یعنی انٹر سروسز انٹیلی جنس سے عیاں ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں سویلین بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن وہ اس ادارے کے تنظیمی ڈھانچے میں غلبہ یا طاقت نہیں رکھتے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کا فیصلہ واقعی سول بالادستی کے لیے ایک دھچکا ہے؟ اس بارے میں دفاعی تجزیہ کار سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ سکیورٹی کے تناظر میں یہ برا قدم نہیں ہے، مگر اسے واضح طور پر فوجی مداخلت سمجھا جائے گا۔ اگر حکومت آئی ایس آئی کو کسی شخص کی ویٹنگ کا کہتی تو وہ کر دیتے تھے، یا ان کے پاس کوئی معلومات ہوتی تو وہ متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر ضرور کرتے تھے مگر ایجنسی کے پاس باقاعدہ طور پر ایسے اختیارات نہیں تھے۔ مگر ابھی یہ ایک ریگولر فیچر ہو گا، ہر حساس یا سینئر عہدوں پر تعیناتی یا ترقی کے لیے کے ان سول افسران کے نام آئی ایس آئی کو بھیجے جائیں گے اور ایجنسی انہیں کلیئر کرے گی تب ہی ان کی تعیناتی ہوگی۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘سکیورٹی کے نقطہ نظر سے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے، مثلاً آپ کو اہم اور حساس عہدوں پر ایسے لوگ ملیں جن کے باہر تعلقات یا مفادات نہ ہوں، مگر اس کا سول حلقوں میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ اور یہ کہا جائے گا کہ یہ اتھارٹی فوج کے پاس چلی گئی ہے اور اگر ملٹری کسی کو پسند نہیں کرتی تو وہ کلیئر نہیں ہوگا اور بیورکریسی سمجھے گی کہ ان پر ایک ایکسٹرا چیک اور انٹرفیئرنس ہے۔’
دوسری جانب انٹیلی جنس بیورو کے سابق افسر نوید الٰہی بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئی بی میں اور ایس بی میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود سول بالادستی کو نشانہ بنایا گیا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لکھ کر ہی دے دیں۔ وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس ہے، یعنی مسلح افواج میں انٹیلی جنس کا کام کرنے والی، ان کا یہ مینڈیٹ نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا دوسرا یہ کہ آئی بی سب سے بڑا سول انٹیلی جنس ادارہ ہے جو براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے، بیچ میں کوئی وزارت نہیں آتی۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے مسلسل ایسا ہو رہا ہے کہ آئی بی سربراہ کا رابطہ وزیراعظم کی بجائے ان کے پرنسپل سیکرٹری تک ہی ہوتا ہے۔ آئی بی ایک انتہائی مضبوط ادارہ ہے اور معلومات اکٹھی کرنے کا کام آئی ایس آئی سے بڑی حد تک بہتر انداز میں کرتا ہے۔’
خیال رہے کہ آئی بی بھی سول اہلکاروں کی بھرتی سے لیکر مستقبل میں ترقیوں اور تعیناتیوں تک ہر موقع پر کوائف اور معلومات اکٹھی کرتی رہتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کو ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وفاقی حکومت یا اس کا کوئی بھی ترجمان اس حوالے سے کوئی موقف دینے کو تیار نہیں۔
تاہم دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ خود وزیراعظم کی خواہش بھی ہو سکتی ہے اور جی ایچ کیو کا مطالبہ بھی۔انکاکہنا ہے کہ شہباز غالباً اسٹیبلشمنٹ کو بہت زیادہ خوش کرنا چاہتے ہیں جو اس طرح کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود جی ایچ کیو نے کہا ہو کہ افسران کی تعیناتی سے پہلے انٹیلی جنس کلیئرنس میں آئی ایس آئی کو شامل ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سکیورٹی کلیئرنس کی آڑ میں ایسے لوگوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے جو جی ایچ کیو کی بات سنیں۔’
نوید الٰہی کہتے ہیں کہ ‘وزیراعظم شہباز شریف کو بطور وزیراعلیٰ بھی یہ پسند تھا کہ کسی بھی افسر کے انٹرویو سے قبل ان کی میز پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے تین چار صفحے پڑے ہوں۔ اور یہ معلومات ان کے فیصلوں پر اثرانداز بھی ہوتی تھیں۔ مگر بطور وزیر اعظم سول ایجنسیاں ہوتے ہوئے ایک فوجی ایجنسی کو ایسی ذمہ داری دینا جو اس کے مینڈیٹ سے باہر ہے، ان کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔’ لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے بعد اب آئی ایس آئی فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو جائے گی۔:
‘معلومات پہلے بھی دی جاتی تھیں مگر آئی ایس آئی فیصلہ سازی نہیں کرتی تھی مگر اب تو کسی بھی شخص کی تعیناتی آئی ایس آئی کی کلیئرنس کی پابند ہوگی۔ اس لیے سول سپریمیسی متاثر ہونے کا واضح امکان ہے۔
نوید الٰہی سمجھتے ہیں کہ اس نوٹیفکیشن کے بعد تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معلومات پر فوقیت آئی ایس آئی کی معلومات کو حاصل ہو گی کیونکہ اسے اصل اختیار دے دیا گیا ہے اور اب تعیناتی ترقی وغیرہ پر حتمی معلومات آئی ایس آئی کی ہی ہوں گی۔ لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا پر سویلین بالادستی کا سوال اٹھایا جا رہا ہے اور وزیراعظم کے اس فیصلے پر کھل کر تنقید بھی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ہی سینئر رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم کے فیصلے پر اپنے تبصرے میں ایک مطالبہ بھی کیا ہے۔
ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ `اگر سویلین افسروں کی چھان بین کا فریضہ آئی ایس آئی کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جاتا ہے تو پھر آئی آیس آئی کو بھی سویلین انتظامیہ کے زیر سپرد بھی ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو جوابدہ بھی۔‘
