او آئی سی کی گستاخانہ بیان پربھارت پر تنقید

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے بھارت کی حکمران جماعت کے رہنمائوں کی جانب نئی کریم ؐ کی شان میں گستاخانہ بیان دینے پر بھارت پر شدید تنقید کی ہے، اوراقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ہتھکنڈوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

دنیا کے 57 ممالک کی نمائندہ تنظیم نے کہا کہ یہ توہین آمیز تبصرے ایک ایسے موقع پر کیے گئے ہیں جب بھارت میں اسلام سے نفرت اور بدسلوکی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف منظم طریقوں سے پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں خاص طور پر مختلف ریاستوں میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے فیصلے سمیت ہندوستانی مسلمانوں کی املاک کی مسماری اور ان کے خلاف تشدد میں اضافہ شامل ہے۔

تنظیم نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ان زیادتیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور ہندوستان میں مسلمان برادری کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنائے اور اس کے حقوق، مذہبی اور ثقافتی شناخت، وقار اور عبادت گاہوں کا تحفظ کرے۔

یادرہے کہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور پارٹی کے ایک اور رہنما نوین کمار جندال نے پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے، ان ریمارکس کی دنیا بھر میں مذمت کے بعد بھارت کی حکمراں جماعت کو ان کے بیانات سے خود کو الگ کرنا پڑا اور ان دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں تمام مذہبی شخصیات اورشعار کے احترام کی ضرورت اور اسلامی شعار، مقدسات، مذہبی شخصیات کے خلاف تعصب اور ان کی توہین کو مستقل طور پر مسترد کرنے پر زوردیا، اور کہا کہ مختلف عقائد اور مذاہب کا احترام کرنے کے مملکت کے موقف کا اعادہ کیا۔

ادھر قطر نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے ‘اسلاموفوبک’ خیالات کے اظہار کی اجازت دینے پر بھارت سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری طرف کویت نے ایک بیان میں بتایا کہ اس نے بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے سرکاری احتجاجی مراسلہ تھمایا ہے جس میں بھارت کی حکمراں جماعت کے ایک عہدیدار کی جانب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دیے گئے توہین آمیز بیانات کو ریاست کویت کی جانب سے سختی سے مسترد کیا گیا اور شدید مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔

ملک عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی حکمراں جماعت کی ترجمان کا ‘غلیظ، توہین آمیز’ بیان ہر مسلمان کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔
اسلامی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل پر بھارتی حکومت نے فوری طور پر مسلمان ممالک کے احتجاج پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جارحانہ خیالات بھارتی حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے جبکہ توہین آمیز ریمارکس کے ذمہ داروں کے خلاف ‘سخت کارروائی’ کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد حکمراں بی جے پی نے نوپور شرما کو معطل کردیا جبکہ نوین جندال کو ان کے ریمارکس پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کسی رہنما کا نام نہیں لیا گیا لیکن بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کسی مذہب کی توہین کو برداشت نہیں کرتی اور تمام مذاہب و عقائد کا احترام کرتی ہے۔

بیان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کسی ایسے نظریے کے بھی خلاف ہے جو کسی فرقے یا مذہب کی توہین یا تذلیل کرتا ہو، بی جے پی ایسے لوگوں یا ایسے فلسفے کی تشہیر نہیں کرتی، بھارت کی ہزاروں سال کی تاریخ کے دوران ہر مذہب یہاں پھلا پھولا اور اس نے ترقی کی جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔

Back to top button