آج ملک بھر میں یوم دفاع ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

ملک بھر میں آج یوم دفاع کے حوالے سے مسلح افواج کے غازیوں اور شہدا کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، اس کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں۔

تبدیلی گارڈز کی تقریب میں پاک فضائیہ کے 60 مرد اور 5 خواتین کیڈٹس شامل تھیں، پاکستان ائیرفورس اصغر خان اکیڈمی کے چاق وچوبند دستے نے مزار پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے۔تقریب کے مہمان خصوصی ائیر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ تھے، مہمان خصوصی نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے، پریڈ کے معائنے کے بعد مزار قائد پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

ادھر یوم دفاع پرڈی جی رینجرز پنجاب میجرجنرل سید آصف حسین نے مزار اقبال پر حاضری دی، انہوں نےشاعر مشرق علامہ اقبال کےمزارپر فاتحہ خوانی کی اور ساتھ ہی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔واضح رہے کہ جنگ ستمبر کے غازیوں اور شہیدوں نے جرأت و بہادری کی وہ لازوال داستانیں رقم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رہیں گی، جنگ میں بھارت کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی تھی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی اور علاقائی امن کے لئے پر عزم ہے اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پرعمل پیرا ہے لیکن امن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، ہم اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، ہماری مسلح افواج کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے اور بیرونی یا اندرونی محاذ پر ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کے مطابق 6 ستمبر کو یوم دفاع وشہدا ،2022 کے موقع پرقوم کے نام اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا یوم دفاع وشہدا ہمیں اس بے مثال جرات اور بہادری کی یاد دلاتا ہے جس کا مظاہرہ آج سے 57 سال قبل ہماری مسلح افواج اور قوم نے جارح دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر کیا تھا۔
آزمائش کی اس گھڑی میں نہ صرف افواج پاکستان نے بری ، بحری اور فضائی جنگ بے خوفی سے لڑی بلکہ قوم کا ہر شہری مادر وطن کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، اس طرح 6 ستمبر ہماری تاریخ میں غیر متزلزل عزم ، جذ بہ حب الوطنی ، اعلی پیشہ ورانہ مہارت اور عظیم قربانی کی وہ روشن علامت ہے جس کی یاد رکھتے ہوۓ ہماری آنے والی نسلیں دفاع وطن کو اپنی جان سے زیادہ مقدم رکھنے کے عزم کو جلا بخشتی رہیں گی۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان شہداء کوسلام عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے دفاع وطن کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی پیش کی، میں شہدا کے لواحقین اور پیاروں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنے پیاروں کی قربانی پیش کرنے کی عظیم مثال قائم کی ۔انہوں نے کہا کہ میں جری غازیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو سرز مین پاکستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کرتے ہوئے بہادری سے لڑے۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ قوم اور مسلح افواج نے اسی جذ بہ کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پر آنے والی ہر آزمائش کا مقابلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ ہو یا کوئی قدرتی آفت افواج پاکستان کے افسر ان اور سپاہی ہمیشہ ملک وقوم کی ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے، دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جنگ میں پاکستان کی کامیابی اور دنیا بھر میں امن مشنز میں پاکستان کی مسلح افواج کا نمایاں کردار ہم سب کے لیےقابل فخر ہے اور عالمی برادری بھی اس کردار کا بجاطور پر اعتراف کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی امن کے لیے پر عزم ہے اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پرعمل پیرا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، ہم اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ صدر نے کہا کہ میں ہندوستان پر زور دیتا ہوں کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اورخاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ مسئلے کوحل کرے ۔ کشمیر 1947 کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔ اس کے حل ہی میں کشمیریوں کے مسائل اور مصائب کا خاتمہ اور خطے میں پائیدارامن کا قیام ممکن ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہونے کے ناطے میرے لیے یہ بات انتہائی فخر اور اطمینان کا باعث ہے کہ قوم کواپنی مسلح افواج اور سیکورٹی ایجنسیوں کی صلاحیت ،عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاریوں پرمکمل اعتماد اور بھروسہ ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے اور بیرونی یا اندرونی محاذ پر کسی بھی قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ میں قومی تعمیر وترقی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ سیلاب یا دیگر قدرتی آفات میں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بچانے میں ان کے مثالی کردار کو سراہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر قوم کے ان بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج ہم یہ عہد کر یں کہ جذ بہ ستمبر کو اپنے دلوں میں زندہ رکھتے ہوئے پاکستان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ قوم کے خوشحال مستقبل کے لئے بھر پور کردار ادا کرتے رہیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 6 ستمبر کے دن کو جرأت وبہادری کی علامت اور دھرتی کے بہادر بیٹوں کی عظیم قربانی کے جذبے کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔آج سے 57 سال قبل اس دن ہماری بہادر افواج ِپاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،اس دن پوری پاکستانی قوم بے مثال اتحاد اور پرعزم قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مسلح افواج کی حمایت کے لیے آگے آئی، قوم کے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کے مظاہرے نے ہمارے افسروں اور جوانوں، پائلٹوں اور سیلرز کو ہندوستانی جارحیت کے خلاف مادر وطن کی حفاظت کی لڑائی میں توانائی بخشی۔
وزیراعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم دفاع و شہدا پاکستان پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم اس سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے، خاص طور پر ہمارے ان قابل فخر شہداء کو جنہوں نے بے خوفی اور بہادری سے اس دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو عددی طاقت میں بہت بڑا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم شہدا کے والدین اور اہل خانہ کا بے حد احترام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کی جدائی کے غم کو ہمت سے برداشت کیا، ان ہیروز، غازیوں، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے محکموں اور انٹیلی جنس اداروں کے جوانوں کو بھی سلام، جو سخت موسموں اور مخالف ماحول میں مادرِ وطن کی سرحدوں کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے محفوظ رکھ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ بہادر مسلح افواج اور بہادر پاکستانی قوم نے اپنی دودہائیوں پرانی جدوجہد میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت کو کامیابی سے شکست دے کر 1965 کی جنگ کے قابل فخر ورثے کو آگے بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج اس موقع پر، میں آپریشن ردالفساد کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے پر عسکری قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران ہزاروں لوگوں کی جانیں بچانے میں مسلح افواج اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے کردار کو بھی سراہتا ہوں۔

Back to top button