سپریم کورٹ نے سواتی کےججز ریسٹ ہائوس میں قیام کی تردید کر دی

سپریم کورٹ نےپی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو لیک کے معاملے پر کہا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ ججز ریسٹ ہاؤس کوئٹہ میں کبھی قیام نہیں کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ تاہم اسپیشل برانچ بلوچستان کے مطابق اعظم سواتی نے بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (جوڈیشل کمپلیکس کوئٹہ) میں قیام کیا تھا، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر انتظام نہیں ہے،سینیٹر اعظم سواتی کی پریس کانفرنس الیکٹرونک / سوشل میڈیا میں گردش کررہی ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ جب سپریم کورٹ جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں ٹھہرے تھے تو اس وقت قابل اعتراض ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔‎

بیان کے مطابق سپریم کورٹ کا کوئٹہ میں ججز ریسٹ ہاؤس سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد کے رجسٹرار آفس کے زیر انتظام ہے، اور وہی اس کی نگرانی کرتا ہے، اور یہ ریسٹ ہاؤس سپریم کورٹ آف پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججوں کے استعمال کے لیے ہے، اعظم سواتی نے سپریم کورٹ جوڈیشل ریسٹ ہاؤس کوئٹہ میں کبھی قیام نہیں کیا، تاہم اسپیشل برانچ بلوچستان کے مطابق اعظم سواتی نے بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (جوڈیشل کمپلیکس کوئٹہ) میں قیام کیا تھا، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر انتظام نہیں ہے۔

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹر اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو لیک معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے 14 رکنی سپیشل کمیٹی قائم کر دی، جس میں اعظم نذیر تارڑ، محسن عزیز، یوسف رضا گیلانی، عبدالغفور حیدری، انوار الحق کاکڑ شامل ہیں۔

عمران نے اداکاری میں بھارتی اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

اس کے علاوہ فیصل سبزواری، طاہر بزنجو، شفیق ترین، سینیٹر مشتاق، قاسم، مظفر شاہ، ہدایت اللہ، کامل علی آغا اور دلاور خان بھی کمیٹی کا حصہ ہونگے، کمیٹی ارکان کنوینئر کا خود فیصلہ کرینگے،

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سپیشل کمیٹی کو 30 روز میں رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خصوصی کمیٹی اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو لیک کے ہر پہلو سے انکوائری کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز (5 نومبر) کو سینیٹر اعظم سواتی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیوی کو ایک ذاتی ویڈیو موصول ہوئی جس میں وہ اور ان کی بیوی ہیں اور یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب وہ کوئٹہ گئے تھے اور سپریم کورٹ کے جج کے جوڈیشل لاجز میں قیام کیا تھا،اعظم سواتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند دن قبل میں نے کہا تھا کہ مجھ کو اس لیے کوئی دبا نہیں سکتا کیونکہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی، اس ملک کی کوئی چیز لی نہیں بلکہ اس کو دیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میری کوئی غیراخلاقی ویڈیو میرے ملک کے لوگوں، مقتدر حلقوں کے پاس نہیں ہو گی لیکن میں غلط تھا، واقعہ یہ ہے کہ آج رات نو بجے کے قریب میں یہاں لاہور میں تھا تو میری بیوی نے مجھے اسلام آباد سے کال کی، اس کی چیخ و پکار اور ہچکیاں بند نہیں ہو رہی تھیں، میں نے بڑا ضبط کیا کہ شاید میری پوتیوں کو کسی نے قتل کردیا ہے، میں بار بار دریافت کیا کہ کیا بات ہے لیکن اس کے منہ سے آواز نہیں نکلتی تھی۔

اعظم سواتی نے کہا تھا کہ کئی بار نہ پوچھنے پر بھی جب انہوں نے نہیں بتایا تو میں نے اپنی بیٹی کو کال کی جو اس واقعے کی وجہ سے امریکا سے آئی ہوئی ہے، میں نے اس سے کہا کہ اپنی ماں سے پوچھو کہ کیا ہوا ہے، اس نے مجھے کہا کہ ٹھہریں اور ماں کو منایا، تو ماں نے کہا کہ مجھے کسی نے نامعلوم نمبر سے ایک ویڈیو بھیجی ہے،پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے رہنما نے زاروقطار روتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا کہ یہ ویڈیو کسی اور کی نہیں ہے بلکہ آپ کی اور میری ماں کی ہے، میں نے کہا کہ بیٹا یہ کیسے ممکن ہے، اس نے کہا کہ جب کوئٹہ گئے تھے تو یہ اس کی ویڈیو ہے۔

Related Articles

Back to top button