اس وقت ملک میں عدالتی مارشل لا لگا ہوا ہے

حکمران اتحاد پی ڈی ایم کے رہنما اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدلیہ کا اپنا دائرہ کار ہے لیکن وہ دوسرے اداروں کی حدود میں مداخلت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر اختیارات تقسیم ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے اختیارات سلب کر لیے گئے اور پورا انتخابی شیڈول دے دیا گیا ہے، عدلیہ کا اپنا دائرہ کار ہے۔ آپ کیوں مداخلت کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے اختیارات پر قبضہ کیا گیا۔ اگر صورت حال یہ ہے تو پھر ہم اسے عدالتی مارشل لا سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ایکٹ بنا نہیں اس پر چیف جسٹس نے آٹھ رکنی بینچ بنا دیا، سپریم کورٹ تضادات کا شکار ہے، ایک طرف کہتے ہیں 90 دن کے اندر الیکشن، دوسری طرف ہمیں کہتے ہیں بات چیت سے معاملہ طے کریں، اگر ہم بات چیت کریں گے تو پھر آئین کدھر ہو گا؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ ڈائیلاگ کی بات کر کے خود آئین کی نفی کر رہی ہے، پی ڈی ایم ایسے لوگوں سے بات چیت نہیں کرے گی، سپریم کورٹ نے ایک ہی نشست میں فیصلہ دے دیا اور کہا فیصلہ تسلیم کرو۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق: ہم سیاسی لوگ ہیں اپنی رائے رکھتے ہیں۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہٹانا انتظامی معاملہ ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔وہ عمران خان کو پاکستان کی سیاست کا غیر ضروری عنصر سمجھتے ہیں۔ان (عمران خان) کی مہنگائی کو ہم بھگت رہے ہیں اور اسی مہنگائی کو وہ ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں

دہشتگردی کیخلاف حکومت ، فوج کو مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت

Back to top button