کیا واقعی پاک بھارت جنگ کا کوئی خطرہ موجود ہے؟

 پنجاب میں نئے انتخابات کے انعقاد اور ان کی تاریخ کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظرنہیں آ رہا اور اب اس تناظر میں پاکستان اور بھارت کے مابین نئی ممکنہ جنگ کے خطرے کا ذکر بھی سننے میں آ رہا ہے۔

 انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے رویوں میں کوئی لچک نظر نہیں آتی۔ ایک طرف سپریم کورٹ ان انتخابات کو 14 مئی کو ہی کرانے کا پکا ارادہ رکھتی ہوئی نظر آتی ہے تو دوسری طرف حکومت تاحال اس ارادے کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت انتخابات نہ کرانے کے حوالے سے مختلف وجوہات بیان کر رہی ہے، جن میں سے ایک وجہ ممکنہ پاک بھارت جنگ کا خطرہ بھی ہے۔ اس موقف پر ناقدین حیران ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان انتخابات کا بھلا کسی ممکنہ جنگ سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ 17اپریل کے روز وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں پاکستان کو درپیش خطرات بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملک کو سرحد پار دہشت گردی، عدم سلامتی، کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے لاحق خطرات، داعش کے جنگجوؤں کی مختلف ممالک سے پاکستان واپسی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے خطرناک عزائم کا سامنا ہے حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جو پنجاب میں الیکشن کے انعقاد کے راستے میں حائل ہیں۔وزارت دفاع نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عدالت پنجاب میں انتخابات کرانے کے حوالے سے اپنا فیصلہ واپس لے لے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انتخابات ہونے کی صورت میں بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کے لسانی مسائل، پانی کے تنازعات اور دوسرے مسائل سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ پنجاب میں صورتحال ملک میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے اور یہ کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے خلاف ‘تھریٹ الرٹ‘ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

مبصرین وزارت دفاع کی اس رپورٹ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس میں بھارت سے ممکنہ جنگ کا تذکرہ کر کے وزارت دفاع نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹوں کو پہلے ہی لوگ اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن اس رپورٹ کے بعد تو وہ وزارت دفاع کی کسی بھی رپورٹ کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔انہوں نے بتایا، ”میرے خیال میں کسی جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔ حکومت نے اس طرح کی رپورٹ جاری کر کے پاکستان کی جگ ہنسائی کرائی ہے اور دنیا سوچ رہی ہے کہ کیا یہ ملک اتنا کمزور ہے کہ وہ اپنے ہاں انتخابات بھی نہیں کرا سکتا۔‘‘

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کی رپورٹ پنجاب میں انتخابات ملتوی کروانے کی ایک ‘بھونڈی کوشش‘ ہے۔ انہوں نے بتایا، ”اس رپورٹ سے لوگوں کا حکومت اور اداروں دونوں پر اعتماد کم ہو گا لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ دار صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ملکی سپریم کورٹ اور عمران خان کی انا بھی اس ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔‘‘ڈاکٹر توصیف احمد خان کے مطابق اس صورتحال میں سیاسی قوتوں کو نقصان ہو گا جب کہ فوج کا اثر و رسوخ مزید بڑھے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تھا، جس کے بعد ملک میں طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بڑھ گئی تھی۔ سن 2000ء سے لے کر اب تک پاکستان میں بےشمار دہشت گردانہ حملے ہوئے لیکن اس سارے برسوں میں بلدیاتی، صوبائی اور قومی سطح کے انتخابات تو ہوتے ہی رہے تھے۔

دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال اتنی بری نہیں جتنی کہ ماضی میں تھی۔ دفاعی مبصر جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکشن طالبان دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران بھی ہوئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”میرے خیال میں آج حالات اتنی برے نہیں جتنے 2008 سے 2013 میں تھے یا دو ہزار اٹھارہ میں تھے۔‘‘

جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کے مطابق جہاں تک پاکستان کی بھارت سے کسی نئی جنگ کے خطرے کا تعلق ہے، تویہ خطرہ تو ہر وقت رہتا ہی ہے، ”چونکہ بھارت پاکستان کا حریف ہے، اس لیے اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ پاکستان میں الیکشن کو ہی التوا میں ڈال دیا جائے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت دفاع کو یہ رپورٹ بالکل جمع نہیں کرانا چاہیے تھی۔ ”اگر ایسا کوئی معاملہ تھا بھی، تو اسے عوامی سطح پر سامنے نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘

پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ اور حکومت دونوں کے رویوں میں سختی آتی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بیس اپریل کے روز پنجاب میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو واپس لینا کوئی مذاق نہیں۔

سپریم کورٹ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی طلب کیا اور انتخابات ایک وقت پر کرانے کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس بات کا عندیہ دیا کہ چودہ مئی کے حوالے سے سنایا گیا فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے سیاسی رہنماؤں کو اس حوالے سے مذاکرات کا مشورہ بھی دیا اس پر جمعیت علماء اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ عمران خان سے مذاکرات کرنے کا کہہ رہی ہے، انہوں نے سوال کیا، ”یہ عدالت ہے یا کوئی پنچایت؟‘‘انہوں نے سپریم کورٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے اور یہ کہ عدالت جس اختیار کے تحت دھونس جما رہی ہے، وہ اس کا اختیار نہیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ جس ‘شخص کو سیاست سے باہر رکھنا چاہیے تھا، سپریم کورٹ اسے ہی سیاست کا محور بنا رہی ہے‘۔

دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بالواسطہ طور پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی پارلیمان اور سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بندوق کی نوک پر مذاکرات کے لیے کہا جائے گا، تو اتحادیوں کو منانا مشکل ہو گا۔

عمران خان کو تحریک انصاف میں سے کون مارنا چاہتا ہے؟

Back to top button