5 ڈوبتے دوستوں میں سے زندہ بچ جانے والے کی کہانی

سیلاب کے تیز پانی میں اپنے چار دوستوں کے بہہ جانے کے باوجود معجزانہ طور پر بچ جانے والے کوہستان کے خوش قسمت نوجوان نے بتایا ہے کہ اس کے ساتھی اس لیے اپنی جانیں نہ بچا پائے کہ 8 گھنٹے ایک ٹیلے پر پھنسے رہنے سے وہ تھک چکے تھے اور ان کی ہمت ٹوٹ چکی تھی۔
یاد رہے کہ 28 اگست کو خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان میں سیلاب میں ڈوبنے سے معجزانہ طور پر بچ جانے والے نوجوان نے دل دہلانے والی داستان بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے مرنے والے دوستوں کو یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی ان کی مدد کے لیے ضرور آئے گا، ضلع لوئر کوہستان کے علاقے دبیر سناگائی میں 28 اگست کو مدد کے منتظر پانچ دوست سیلاب کی نذر ہوگئے تھے، جس میں چار دوست ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ایک خوش قسمت نوجوان کو بچالیا گیا تھا۔
اس واقعے میں بچ جانے والے نوجوان عبیداللہ نے کوہستان ٹی وی سے بات کرتے ہوئے واقعے کی دل دہلانے والی داستان سنائی اور بتایا کہ انہوں نے اپنے دوستوں کو آنکھوں کے سامنے ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ عبیداللہ کے مطابق وہ اور ان کے دوست معمول کے مطابق کام کر رہے تھے کہ اچانک وہاں سیلاب آگیا اور وہ محفوظ مقام کی جانب منتقل ہو ہی رہے تھے کہ سیلاب کی شدت تیز ہونے کے باعث درمیان میں پتھر پر ہی کھڑے رہ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوستوں کی کام والی گاڑیاں بھی سیلاب میں ڈوب چکی تھیں اور وہ دو یا تین نہیں بلکہ پورے آٹھ گھنٹے تک پتھر پر کھڑے مدد کا انتظار کرتے رہے۔ ان کے مطابق وہ صبح 8 سے دوپہر چھ بجے تک ایک پتھر پر پناہ لیکر مدد کا انتظار کرتے رہے۔ علاقہ مکین بھی ان کے کچھ فاصلے پر موجود تھے مگر سب لوگ سیلاب کے تیز بہاؤ کی وجہ سے مجبور تھے۔
جنوبی پنجاب کا تیسری مرتبہ سیلاب میں ڈوبنے کا خدشہ کیوں؟
عبیداللہ کا کہنا تھا کہ ان کے رشتے داروں نے ضلعی سمیت صوبائی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا اور مدد کے لیے امدادی ٹیمیں اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کی اپیل بھی کی۔ ان سمیت ان کے تمام دوستوں کو امید اور یقین تھا کہ ان کی مدد کے لیے کوئی نہ کوئی آئے گا مگر ایسا نہیں ہوا اور ہھر اچانک سیلاب میں مزید شدت آئی تو وہ سب بہہ گئے۔
ایک سوال کے جواب میں عبیداللہ نے بتایا کہ ان کے باقی تمام دوست سخت ڈرے اور تھکے ہوئے تھے اور سیلاب سے رسیوں کی مدد سے نکلنے کو بھی تیار نہ تھے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب نے ان تمام افراد کو ڈبو دیا تھا اور وہ بھی پانی میں جا چکے تھے مگر وہ رسیوں کی مدد سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور باقی افراد کو بچانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔
ان کے مطابق ان کے باقی تمام ساتھی تیز پانی میں بہہ گئے اور حکومت نے آج تک نہ تو ان سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ان سے معلوم کیا گیا ہے کہ وہ مرنے والے لوگ کون تھے؟عبیداللہ نے صوبائی اور مقامی انتظامیہ کو نااہل ترین انتظامیہ قرار دیا اور شکوہ کیا کہ بچ جانے کے باوجود آج تک ان کے پاس کوئی نہیں آیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ان کے علاقے کا دورہ کرنے کے باوجود ان سے ملاقات نہیں کی۔
