دنیا نفسیاتی مریض عمران کی عزت کیوں نہیں کرتی؟

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ سازشی نظریے بار بار بیان کرنے سے وہ حقیقت نہیں بن جاتے ۔ عمران خان کے پیروکار ان کی پرستش کرتے ہیں ان کی ہر بات کو مان جاتے ہیں ان کے ہر یو ٹرن کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن باقی دنیا اسی وجہ سے ان کی عزت نہیں کرتی کہ وہ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں جن کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا .اللہ کرے عمران خان صاحب سچ بولیں اور کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر بات کریں. سمجھ نہیں آتا کہ یہ دو اور دو چار ملاکر اٹھائیس کیسے بنا رہے ہیں.. انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک ٹی وی پروگرام میں کیا جس میں وہ اپنے اوپر عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت گرانے کے الزامات کا جواب دے رہے تھے . حسین حقانی نے کہا کہ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ایک دماغی خلل ہوتا ہے اس میں آدمی بہت تصوراتی باتیں دیکھتا رہتا ہے۔ابھی تک عمران خان نے اس بات کاکوئی ثبوت نہیں دیا کہ میرا جنرل باجوہ سے کوئی تعلق تھا۔ میرا کوئی بیس بائیس سال سے یہ موقف ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو سیاست میں گھسیٹنے سے فوج کو بھی نقصان ہوتا ہے سیاست کو بھی نقصان ہوتا ہے اور ملک کو بھی نقصان ہوتا ہے ۔میں نے اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں میں نے اس موضوع پر دنیا بھر میں تقریریں کی ہیں۔ دنیا میں میری تھوڑی بہت جو عزت ہے وہ اسی وجہ سے ہے۔عمران خان اور ان کے ساتھی ا س موقف کی وجہ سے مجھے غدار تک کہتے رہے ہیں۔
اب ان کی طرف سے یہ کہنا کہ اسی فوج جس کی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنے پر میں تنقید کرتا رہا ہوں ان کے ساتھ مل گیا ہوں ۔ یا ان کے ساتھ مل کر میں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیایہ بالکل ہی ایک احمقانہ بات ہے ۔ میں اس طرح سے یو ٹرن نہیں لیتاجس طرح سے خان صاحب لیتے ہیں ۔ امریکامیں جو لوگ تھنک ٹینکس میں کام کرتے ہیں۔ ان سے بہت سارے لوگ ریسرچ کے لئے رابطہ کرتے ہیں کہ آپ جس ایریا کے ماہر ہیں اس کے لئے ہمارے لئے اس موضوع پر ریسرچ کرکے ہمیں فراہم کردیں اور اس کی ادائیگیاں ہوتی ہیں۔
نہ میں لابیسٹ ہوں نہ کوئی ادائیگی مجھے لابنگ کے لئے ہوئی۔ امریکا کا جو قانون ہے اس کے اندر بہت واضح طو ر پر ایک اسکالرکا کردار الگ ہے ۔ صحافی کا کردار الگ ہے اور لابیسٹ کا کردار الگ ہے ۔ حسین حقانی نے کہا کہ جہاں تک معاملہ جنرل باجوہ کا ہے تو میری تحریریں پڑھ لیجئے میں ہمیشہ جنرل باجوہ کے موقف پر تنقید کی ۔ ان کی اس سوچ پر تنقید کی جس کے نتیجے میں وہ ون پیج سرکار پیداہوئی جس کو ہٹایا گیا۔

عمران خان صاحب کو174 اراکین قومی اسمبلی کے ووٹ سے ہٹایا گیاان میں سے کسی سے میرا رابطہ نہیں تھا۔رہ گیا یہ سوال کہ امریکا کومیں نے عمران خان صاحب کے خلاف کردیا۔ توعمران خان صاحب اصل میں جو گزشتہ رات کی اپنی تقریر ہوتی ہے وہ آج صبح بھول جاتے ہیں۔ان کو یہ یاد نہیں کہ انہوں نے گزشتہ 25،26 سال کے دوران پوری دنیا میں اپناامریکا مخالف ہونےکا ایک امیج بنایا ہے ۔امریکیوں کو حسین حقانی کی ضرورت نہیں ہے انہیں یہ قائل کرنے کی کہ عمران خان امریکا مخالف ہے۔اگر عمران خان صاحب کے پاس کوئی ثبو ت ہے کہ میں نے کوئی بھی کردار پاکستان کی سیاست میں ادا کیا ہے تو ایش کریں ۔ حالانکہ میں اس سیاست سے بہت دور ہوں . میں پاکستان میں رہتا نہیں کئی سال سے میں آیا نہیں۔ اس سوال پر کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ اور افتخار درانی نے امریکہ کی ایک لابنگ فرم سے میری ہی حکومت کے ذریعے ایک معاہدہ کیا اس میں آپ یعنی حسین حقانی کو 30 ہزار ڈالرز کی تین قسطوں میں ادائیگی ہوئی ہے اس کا جو فارن پرنسپل لکھا ہواہے وہ واقعی افتخاررحمٰن درانی ہیں۔وہ ادائیگی کا مقصد ریسرچ لکھا ہوا ہے تو کیا ریسرچ کی گئی . اس پر حسین حقانی نے جواب دیا کہ ان کی معصومیت پر مجھے حیرت ہوتی ہے اس بات پربھی حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بھولے ہیں ۔

انہوں نے ادائیگی کردی ان ہی کی وجہ سے ان ہی کے خلاف لابنگ ہوئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ریسرچ لابنگ نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ اگر 30 ہزار ڈالرمیں حکومتوں کے تختے الٹے جاتے۔ تو میں آپ کے توسط سے کہتا ہوں جس نے جس حکومت کا تختہ الٹوانا ہے 30،30 ہزار ڈالر بھیج دے ہم اس کے لئے بھی کوشش کرکے دیکھ لیں گے۔ کیا یہ مذاق ہے کوئی ؟۔ بات یہ ہے کہ گرینیر صاحب کئی سال پہلے پاکستان میں رہ چکے تھے اس کے بعد یہ میرے علم میں نہیں تھا کہ ان کا کلائنٹ کون ہے ۔ اگر افتخار درانی ان کے کلائنٹ تھے تومجھے اگر اس کا علم ہوتا تومیں یقیناً ان سے کہتا کہ میں آپ کے کلائنٹ کی خدمت کرنے میں بالکل ملوث نہیں ہونا چاہتا۔لیکن افتخار درانی بھی اگر شامل تھے تو یہ بات جنرل باجوہ تک کہاں پہنچ گئی۔

میری جو ریسر چ ہے وہ تو پاکستان کی سیاست کے بارے میں ہے ۔ ان کو یہ بتانا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں آج کل کون اہم کردار ہیں کس کس پارٹی کا کیا موقف ہے کون کیا کیا کررہا ہے۔یہ ان کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے تھا تاکہ وہ پاکستان کی سیاست کے حوالے سے کچھ جان سکیں کیوں کہ ان سے کہا جارہا تھا کہ امریکا میں جو بھی ان کا کلائنٹ تھااس کے لئے کچھ کام کریں۔گرینیر صاحب بھی لابیسٹ تو نہیں ہیں وہ تو ایک سابق سرکاری اہلکار ہیں۔ان کی رسائی صرف اس ادارے تک ہوسکتی ہے جس میں وہ پہلے کبھی کام کرتے تھے ۔ انہوں نے بھی لابنگ کا کوئی دعویٰ نہیں کیاجنرل باجوہ سے ان کا بھی کوئی تعلق بھی وہ کہیں ثابت نہیں کرسکے۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ دو اور دو چار ملاکر اٹھائیس کیسے بنا رہے ہیں. عمران خان کے الزام کے بنیادی کردار ڈونلڈ لو سے دوستی اور جنرل باجوہ کی جانب سے یہ کہنا کہ حسین حقانی کی خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہئے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر حسین حقانی نے جواب دیا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ڈونلڈ لو اکیلے نہیں ہیں میں نے کئی سال میں امریکا میں بہت اچھی شہرت کمائی ہے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ہیں ۔

میں نے وہ کام نہیں کیاکہ کسی کو ٹرک پر چڑھ کر یا کنٹینر پر چڑھ کرگالیاں دوں اور اس کے بعد اسی سے ملنے پہنچ جاؤں۔کہوں اس کوبھول جاؤ اور میرے ساتھ دوستی کرلو. اس وجہ سے میری جو ایک عزت والا تعلق ہے۔وہ کئی امریکی اہلکاروں کے ساتھ ہے کئی امریکی اعلیٰ حکام کے ساتھ ہے ہر پارٹی کے سینیٹروں اور کانگریس مینوں کے ساتھ ہے۔لیکن یہ ایک اسکالر کے طور پر ہے لابیسٹ کے طور پر نہیں وہ میری رائے کا احترام کرتے ہیں وہ رائے وہی ہے جو میں مضامین میں لکھتا ہوں جو میں ٹیلی ویژن پر کہتا ہوں ۔ اس میں کوئی خفیہ بات نہیں ہوتی۔اب یہ جو قلابیں ملانا ہے کہ جی ڈونلڈ لو سے دوستی ہے اس لئے یہ ہوگیا وہ ہوگیا تو اللہ کرے عمران خان صاحب سچ بولیں اور کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر بات کریں ۔ ایک زمانے میںمیرے ساتھ بھی ان کی دوستی تھی اور ان کا بھی مجھ سے ملنا جلنا تھا۔ اگر کسی سے دوستی کی وجہ سے ایک سازشی نظریہ پیش کیا جائے گاتو یہ تو صریحاً نا انصافی بھی ہے اور جھوٹ بھی ہے۔جہاں تک شیریں مزاری صاحبہ کا تعلق ہے ان کو تو اپنے گھر کے جو مختلف قسم کے مچھر اور کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں۔ ان میں بھی امریکا کا ہاتھ نظر آتا ہے اسرائیل کا ہاتھ نظر آتا ہے۔

وہ ایک سازشی نظریوں کی بالکل قیدی ہیں۔میں تو سیدھی سی بات کرتا ہوں کہ اگر ڈونلڈ لو نے میرے کہنے سے اتنا کچھ کرلیا توخان صاحب مجھ سے رابطہ کریں ۔ اپنا موقف بیان کریں شاید میں قائل ہوجاؤں شاید میں ان ہی کے کام آجاؤں۔یہ بات کرنا کہ ایک آدمی جس نے کتابیں لکھی ہیں تحقیق کی ہے جو پروفیسر کے طور پر امریکا میں پڑھاتا رہا ہے ۔ جس کا ایک بیس بائیس سال کا موقف کہ فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہوگاصرف 30 ہزار ڈالر کی وجہ سے بدل جائے گا یہ بڑی احمقانہ بات ہے۔

رہ گیا معاملہ کہ جنرل باجوہ نے یہ کیو ں کہاکہ حسین حقانی سے ہمیں رابطہ کرنا چاہئے اور ان سے بات کرنی چاہئے۔اس کا جواب جنرل باجوہ سے طلب کیا جانا چاہئے کہ وہ اور ان کا ادارہ ہی ہیں جس نے کئی برس پاکستان میں میرے خلاف لوگوں کو یہ باور کرایاکہ میری رائے کس کی طرح سے پاکستان اور پاکستان فوج دشمن رائے ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ اگر انہوں نے یہ کہا کہ حسین حقانی بہتر آدمی ہے ہمیں اس سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ یہ تو اس بات کو تسلیم کرنا تھا کہ اب تک میرے خلاف جو باتیں کی گئیں وہ ناجائز تھیں اور غلط تھیں اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے۔رہ گیا معاملہ یہ کہ جنرل باجوہ سے کوئی ملاقات ہوئی ایشو یہ نہیں ہے کہ کس سے کس کی ملاقات ہوئی ۔ کیا میں ڈونلڈ لو سے ملتا رہا ہوں بالکل ملتا رہا ہوں آئندہ بھی ملوں گاکیا میری پاکستان سے کسی اور سے ملاقات ہوئی بہت سارے لوگوں سے ہوتی ہے

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نو اپریل کے روز اپنی حکومت ختم ہونے اورپی ڈی ایم حکومت کوایک سال کا عرصہ مکمل ہونے پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری حکومت کے خلاف سازش امریکا سے نہیں بلکہ شہباز شریف کو لانے کیلئے پاکستان سے شروع کی گئی‘ مشرق وسطیٰ کے ایک سربراہ نے مجھے بتایا کہ تمہارا آرمی چیف تمہارے خلاف سازش کر رہا ہے اور تمہاری حکومت ہٹائی جارہی ہے ‘ ساری سازش جنرل (ر )باجوہ نے ایکسٹینشن کیلئے کی عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری حکومت گئی تو ہم نے سارا جائزہ لیاکہ کس طرح کی سازش ہوئی کون کون ملوث تھا‘اس میں ایک کردار ماسٹر مائنڈ تھا ،ہمیں آہستہ آہستہ سمجھ آ گئی‘ ہمارے ساتھ کہاں کہاں دھوکے ہوئے ، ۔ہم سمجھتے تھے کہ امریکا سے سازش شروع ہوئی لیکن وہ یہاں سے شروع ہوئی، انہوں نے حسین حقانی کو وہاں ہائر کیا‘پھر وہاں سے سائفر آیا .

مریم کے انٹرویو کی خفیہ ریکارڈنگ کس نے لیک کی؟

Back to top button